Daily Mashriq


فن لینڈکا بہترین تعلیمی نظام

فن لینڈکا بہترین تعلیمی نظام

فن لینڈ ایک چھوٹا سا ملک ہے جسکی آبادی 55 لاکھ اور رقبہ 3 لاکھ 39 ہزار مربع کلومیٹر ہے ۔ بالفاظ دیگر فن لینڈ بلحاظ رقبہ صوبہ بلو چستان کے برابر ملک ہے۔مگر اسکے باوجود بھی فن لینڈ دنیا کے امیر ممالک میں سے ایک ہے جسکی فی کس آمدنی 75ہزار ڈالر ہے جو دنیا میں دسویں نمبر پر ہے۔ فن لینڈ کا شمار دنیا کے بہترین تین ممالک میں ہوتا ہے ۔فن لینڈ اچھی حکمرانی کے لحاظ سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے اور کم ترین کرپشن کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔اگر ہم فن لینڈکی ان تمام خوبیوں کا تجزیہ کریں تو یہ فن لینڈ کے بہترین نظام تعلیم کے باعث ہیں۔فن لینڈ کے ایک سکالر اور مفکر کہتے ہیں کہ فن لینڈ کے عام لوگ ہمیشہ تعلیم پسند کرتے ہیں اور یہی وجہ دنیا میں ان کی کامیابی کا راز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں ایک چھوٹے ملک کے ناطے ہم انسانی وسائل میں دوسرے ممالک کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ہمارے پاس نہ تو تیل اور نہ دوسرے قدرتی وسائل ہیں۔ مگر ہمارے پاس ذہن ، عقل ، شعور اور دانائی ہے جسکو ہم تعلیم کے ذریعے پیدا کرتے ہیں ۔ اگر ہم غور کریں تو فن لینڈ دنیا میں بہترین نظام تعلیم کی وجہ سے پہلے نمبر پر ہے۔دوسرے نمبر سوئٹزر لینڈ اور تیسرے نمبر پر سنگا پور ہے جبکہ امریکہ 20 ویں نمبر پر ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ سال 2020 میں فن لینڈدنیا میں وہ واحد ملک ہوگا جہاں کوئی مضمون نہیں پڑھایا جائے گا۔ فن لینڈ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پر اساتذہ کرام کی عزت اور تکریم، انجینئر، ڈاکٹرزاور زندگی کے دوسرے شعبوں سے وابستہ افراد سے زیادہ کی جاتی ہے۔اگر فن لینڈ کے صدر اور وزیر اعظم کو کسی فنکشن میں پتہ چلے کہ اُنکے قریب کسی سکول ، کالج اور یونیورسٹی کا استاد ہے تو اس کی عزت کی جاتی ہے۔فن لینڈ تعلیمی لحا ظ سے دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کسی بچے کی تعلیم 7 سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد شروع کی جاتی ہے۔جبکہ اسکے بر عکس پاکستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک میں کسی بچے کے تعلیم 3 سے5سال کی عمر سے شروع ہوجاتی ہے اور آج کل 3 سال کی عمر سے ہی سکول بھیجنا شروع کر دیئے ہیں۔یہ بچوں کی وہ عمر ہوتی ہے جب ان کی نگہداشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور ہم کتابوں کا بوجھ انکے کندھوں پر لادنا شروع کریئے ہیں۔ وہ بے چارے کتابوں کا نا قابل برداشت بوجھ اُٹھائے سکول جاتے ہیں۔ فن لینڈ میںبچوں کی تعلیم کے چھ سالوں تک نہ تو ان کا کوئی امتحان ہوتا ہے اور نہ ٹسٹ۔فن لینڈ میں پاکستان کی طرح بچوں سے ٹسٹ پہ ٹسٹ اور امتحان نہیں لئے جاتے۔ فن لینڈ میں بچوں کے باقا عدہ امتحان 16 سال کی عمر میں لئے جاتے ہیں۔ کیونکہ چیزوں کو سمجھنے کے لئے پہلے اُنکا ذہن بنایا جاتا ہے۔ طالب علم خواہ وہ لائق ہوں یا نالائق اُنکو ایک کلاس روم میں پڑھایا جاتا ہے۔تعلیمی نظام ہمارے ملک کی طرح طبقاتی نہیں۔ پاکستان میں ایک طرف ٹاٹ کے سکول جہاں پینے کا صاف پانی اور باتھ روم کا کوئی انتظام نہیں ہوتا جبکہ دوسری یہاں پر،پرائیویٹ کے نام پر نجانے کیا کیا تعلیمی نظام رائج ہیں ،جن میں صرف امیر اور صا حب ثروت لوگوں کے بچے جا سکتے ہیں۔فن لینڈ کے ۶۰ فی صد طالب علم کالجوں کو جاتے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے اور یورپ کے دیگر ممالکوں کی نسبت بُہت زیادہ اور ٹاپ پر ہے۔سکولوں کالجوں میں سائنس کے طالب علموں کی تعداد 16 سے زیادہ نہیں ہوتی۔ طالب علموں کو پیریڈ کے دوران 75 منٹ کا وقفہ دیاجاتا ہے جبکہ اسکے بر عکس پاکستان میں سکول کے بچوں کو تفریحی سر گر میوں کے لئے کوئی وقت نہیں دیا جاتا ۔ فن لینڈ میں اساتذہ کرام کلاسوں میں کم وقت لیتے ہیں اور بچوں کی تربیت اور پیشہ ورانہ اُمور سلجھانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ سکول کے اساتذہ کرام کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ما سٹر ڈگری ہو لڈر ہو۔ جبکہ پاکستان میں جو طالب علم سی ایس ایس ، پی سی ایس اور دیگر اچھے عہدوں کے امتحان میں ناکام ہوجاتا ہے تو بعد میں وہ تعلیم کے شعبے میں آجاتا ہے۔ فن لینڈ میں 100 فی صد تعلیمی ادارے حکومتی فنڈ سے چلائے جاتے ہیں اور تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم ہوتا ہے۔فن لینڈ میں جو اسا تذہ کرام لئے جاتے ہیں وہ 10 فی صد ٹاپ گریجویٹ میں ہوتے ہیں۔فن لینڈ سکول ٹیچر کی تنخواہ 40 ہزار ڈالر ہوتی ہے۔فن لینڈ کے نظام تعلیم میں رٹے کو جرم سمجھا جاتا ہے۔جیسا کہ پاکستان میں بے اے، ایم اے ، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے طالب علم رٹا لگاتے ہیں۔کئی ممالک میں اساتذہ کرام کا ایک لحا ظ سے احتساب کیا جاتا ہے جبکہ فن لینڈ میں اساتذہ کرام کا کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ سکولوں میںآپس میں مقابلہ بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے پیشے کے ساتھ مخلص اور اپنے فرائض منصبی میں اتنے منہمک ہوتے ہیں کہ اُنکو اس قسم کے ٹسٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ہمارے ملک میںتعلیمی نظام صرف رٹے والا ہے ۔جس سے بچہ اور بچیاں طو طے تو بن جاتے ہیں مگر اچھے انجینئر ڈاکٹر اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں قابل لوگ نہیں ہوتے۔ 

متعلقہ خبریں