Daily Mashriq


ڈی جی نیب لاہور کے انٹرویو پر اپوزیشن برہم، قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع

ڈی جی نیب لاہور کے انٹرویو پر اپوزیشن برہم، قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع

ویب ڈیسک: اپوزیشن کیجانب سے ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کے مختلف ٹی وی چینلز پر انٹرویو پر اعتراض اٹھاتے ہوئے قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کرادی گئی۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے ڈی جی نیب کیجانب سے نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹریو میں ارکان اسمبلی کا میڈیا ٹرائل کرنے پر تحریک استحقاق لانے کا مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیب چیئرمین کی ہدایت پر ایک نیب افسر ارکان کا میڈیا ٹرائل کررہا ہے، جو باتیں نیب افسر کر رہا ہے وہی وزرا بھی کرتے ہیں، ہم احتساب چاہتے ہیں لیکن ان لوگوں سے احتساب نہیں چاہتے جوحکومت سے تنخواہ لیتے ہیں، سپریم کورٹ کی صاف ہدایات ہیں  کہ تفتیشی ادارے کسی کوبےعزت نہیں کریں گے۔ 

پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ اگر ممبران کےمیڈیا ٹرائل کی اجازت دی گئی تویہ سلسلہ جاری رہے گا، کیا اب نیب کی یہ پالیسی ہے کہ وہ صرف میڈیا ٹرائل کریں گے جس پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ تحریک استحقاق کی فائل آئے گی تو اس پر قانونی رائے لوں گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، کسی کو ایم این اے ہونے کی وجہ سے چھوٹ نہیں دی جاسکتی، تحریک استحقاق کا ہتھیار استعمال کرکے کیس پر اثرانداز ہونا درست نہیں، ایسے کیس پر تحریک استحقاق لانا قانون کے خلاف ہوگا، اپوزیشن سپیکرکو ڈکٹیٹ نہ کرے جب کہ اپوزیشن لیڈر نے وزیر قانون کے اعتراض کے باوجود نیب کیس پر تقریر کی۔

بعد ازاں اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک استحقاق جمع کروائی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈی جی نیب نے ارکان اسمبلی کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش کی، ڈی جی نیب نے چیئرمین نیب کی منشا سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیا جس میں اپوزیشن ارکان کا میڈیا ٹرائل کیا، ڈی جی نیب نے خفیہ تحقیقات اور دستاویزات میڈیا پر دکھائیں لہذا معاملے پر تحریک استحقاق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

متعلقہ خبریں