Daily Mashriq

حکومت اور ڈاکٹر برادری کی تریاہٹ

حکومت اور ڈاکٹر برادری کی تریاہٹ

ہڑتالی ڈاکٹروںاورسٹاف کی برطرفی کے احکامات اور ملازمین کا اجتماعی استعفوں کے اعلان کی نوبت اس لئے آئی کہ فریقین آخری لمحات تک اپنے اپنے موقف میں لچک کیلئے تیار نہ ہوئے مذاکرات میں درمیانی راستہ نہ ملنے کی ذمہ داری جس پر بھی عائد ہو ہر دوجانب کی حتمی فیصلے پر عملدرآمد سے قبل فریقین اگر آخری بار اپنے اپنے فیصلوں کا جائزہ لیں تو شاید کوئی راہ نکل آئے ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پاس اس صورتحال میں کڑو اگھونٹ پینے کے اور کوئی راستہ باقی نہیں بچتا ڈاکٹربرادری کے نمائندے ملازمتیں تیاگ کر کتنے ڈاکٹروں کا مستقبل دائو پر لگا رہے ہیں اور اس تجویز پر ان کی صفوں ہی سے مخالفت بھی سامنے آنے کا امکان ہے اتنی بڑی تعداد میں ڈاکٹروں سے ہسپتالوں کا خالی ہونا حکومت کیلئے بھی کوئی کم چیلنج نہیں ملازمت کی شرائط میں تبدیلی مستقل ملازمت پر موجود ڈاکٹروں کا مسئلہ نہیں بعد میں آنے والوں کا ہے جبکہ بعد میں آنے والے ڈاکٹر یا ملازمت کے منتظر ڈاکٹر حکومتی شرائط پر بھرتی ہوں گے تو پھر ڈاکٹربرادری کی اس جدوجہد کا حاصل کیا رہے گا ساری صورتحال وہ نہیں جس کا ڈاکٹر برادری پر اپیگنڈہ کر رہی ہے اصل معاملہ ڈاکٹروں کی مرضی کے خلاف جگہوں پر تقرری اورکام پر موجود ہونے کی وہ پابندی ہے جسے قبول کرنے کیلئے ڈاکٹرتیار نہیں سرکاری ملازمتوں سے استعفے کے بعد ہی ڈاکٹر نجی ہسپتالوں میں کم مشاہرے پر کام پر مجبور ہوسکتے ہیں اور اچانک ڈاکٹروں کی فراغت سے نجی ہسپتالوں میں بھی ان کی ضرورت واہمیت میں کمی آئے گی جس کا اثران کے حالات کار اور ملازمتوں پر پڑے گا اس ممکنہ صورتحال سے بچنے کیلئے جہاں ڈاکٹروں کو اپنے رویے میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہاںحکومت کو ایک بڑے بحران سے بچنے کیلئے کچھ لو کچھ دو کا اصول اپنانا چاہیئے صوبے میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث عوام مشکلات کا شکار ضرور ہیں لیکن صورتحال سنگین نہیں ہوگی۔حکومت کے پاس حتمی اقدام کے اعلان کے علاوہ چارہ کار باقی نہ تھا اب بھی فریقین چاہیں تو درمیانی راہ نکل سکتی ہے بصورت دیگر فریقین کی اپنی اپنی مشکل ان کو سنگین صورتحال سے دوچار کردے گی اور عوام بھی متاثر ہوں گے۔

بونیر میں شدت پسندوں کی موجودگی؟

خیبرپختونخوا اور سابق فاٹا وموجودہ قبائلی اضلاع میں بڑی محنت وجدوجہداورقربانیوں کے بعد تطہیر کا جو عمل مکمل کرلیا گیا ہے اس پر اطمینان کا اظہارنہ کرنے کی تو کوئی وجہ نہیں البتہ کبھی کبھار ایسی اطلاعات بھی آجاتی ہیں جس کے باعث فراموش کردہ خوف اور وسوسے پھر سے انگڑائیاںلینے لگتے ہیں بونیر سے اپنی نوعیت کی یہ دوسری خبر ہے جس میں شدت پسندوں کے پھر سر اٹھانے کا عندیہ ملتا ہے اس مرتبہ وہاں کی منتخب قیادت اور ریجنل پولیس آفیسر کی طرف سے باقاعدہ تنبیہہ خاص سنجیدہ معاملہ ہے جسے افواہ یاسطحی قسم کا قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تو حقیقت ہے کہ تنقید پسندوں کا مکمل طور پر نہ تو صفایا ہوا ہے اور نہ ہی ایسا ممکن ہے شدت پسند عناصر سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوئے یا تو شدت پسندی چھوڑ چکے ہیں یا پھر خاموش ہوچکے ہیں ہمارے تئیں یہ دونوں قابل قبول صورتیں ہیں لیکن اس میں قباحت یہ ہے کہ کسی بھی وقت ان کا اچانک اکٹھ ہوسکتا ہے جس پر نظر رکھنے اور اس کا بروقت تدارک ہونا چاہیئے بونیر میں شدت پسندوں کی تعداد کتنی ہے اور ان کی سرگرمیوں کی نوعیت کیا ہے اس کی تفصیلات کا علم نہیں لیکن یہ بات بہرحال ضرور ہے کہ اس حد تک کی صورتحال ضرور پیدا ہوگئی ہے جوقابل ذکر ہے اور انتظامیہ کو باقاعدہ تنبیہہ کی ضرورت محسوس ہوئی چونکہ شدت پسندی کی لہر بھی اس طرح سے اٹھی تھی اور دھیرے دھیرے شدت پسندمذموم کارروائیاں کرنے لگے تھے لہٰذا جتنا جلد اور جس قدر قوت کے ساتھ ممکن ہو بونیر میں ان کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز نہ کیا جائے نیز پورے صوبے میں بھی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے۔

ریڈنگ رومز کی حالت زار پر توجہ دی جائے

ہمارے سٹی رپورٹر کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق پشاور میں ریڈنگ رومز انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے شہریوں کے مطالعے کی سہولت کا باعث نہیں رہے۔ ریڈنگ رومز میں اخبارات پڑھنے کے لئے آنے والے شہری حکومتی لاپرواہی اور بے حسی سے نالاں ہیں بتایا گیا ہے کہ یوسی 15 محلہ عطائی خان میں قائم ریڈنگ روم میں اخبارات کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ کرسیاں اور فرنیچر بھی غائب ہو گیا ہے ۔1990 میںشہر میں مختلف مقامات پر شہر بھر میں تحصیل لائبریری کے زیر اہتمام گیارہ ریڈنگ روم بنائے گئے تھے اور اس وقت 15سے زائداخبارات رکھے جاتے تھے ۔ان ریڈنگ رومز کو بجلی مقامی ٹیوب ویل سے دی جاتی تھی۔ تاہم موجودہ بلدیاتی نظام میں ٹیوب ویل ڈبلیو ایس ایس پی کے حوالے ہوئے تو ریڈنگ رومز کی بجلی بھی کاٹ دی گئی جبکہ اخبارات کی تعداد پندرہ سے کم کرکے چھ کر دی گئی۔ اخبارات کی تعداد میں کمی کے باعث لوگ ایک ایک گھنٹے تک اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں، بجلی کٹ جانے کے بعد کھڑکی سے آنے والی روشنی ہی پڑھنے کا واحد ذریعہ ہے۔ایک ایسے وقت میں جب معاشرے میں انٹر نیٹ اور خاص طور پر سوشل میڈیا اور موبائل کا استعمال بڑھنے کے باعث کتب بینی اوراخبارات کا مطالعہ متروک ہونے جارہاہے بجائے اس کے کہ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے اور کتب بینی کا شوق پیدا کرنے کیلئے ہر پارک اور مناسب سرکاری جگہ پر لائبریری اور ریڈنگ رومز کھولتی پہلے سے موجودہ ریڈنگ رومزحکومتی عدم توجہی کے باعث کباڑ خانے کا منظر پیش کررہے ہیں جس معاشرے میں مطالعے کا رجحان زوال پذیر ہو اور حکومتی عدم توجہی اس زوال کو تیز تر کرنے کا باعث ہو اس کے انحطاط کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔صوبائی حکومت کو فی الفور صورتحال کا نوٹس لینا چاہیئے ابتدائی طور پر موجودریڈنگ رومز کی فوری طور پر بجلی بحال کی جائے۔چھتوں اور فرنیچرزکی مرمت کی جائے اور رنگ وروغن کرنے کے علاوہ صوبے کے سارے اخبارات برائے مطالعہ رکھے جائیں۔

متعلقہ خبریں