Daily Mashriq


پاکستان کی امریکہ پالیسی

پاکستان کی امریکہ پالیسی

وزیر خارجہ خواجہ آصف یہ بیان جاری کرکے او راس پر ڈٹے رہنے کے بعد امریکہ گئے تھے کہ حقانی گروپ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں پاکستان پر بوجھ ہیں اور اپنے گھر کی صفائی میں کچھ وقت لگے گا۔ پھر ایسی خبریں بھی اخبارات میں شائع ہوئیں کہ ٹرمپ کا امریکہ پاکستان کو ایک اور موقع دینے کو تیار ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کر دے۔ وزیر خارجہ نے امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور دوسرے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے وطن واپس پہنچنے سے پہلے ہی امریکہ کے وزیردفاع جیمز میٹس نے بیان دیا کہ چین کے ون بیلٹ ون روڈوژن کے تحت پاکستان اور چین کے تعاون سے پاک چین اقتصادی راہداری کا جو منصوبہ زیرِ تکمیل ہے وہ متنازعہ علاقہ سے گزرے گا اور اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ صدر ٹرمپ کا سخت پیغام لے کر امریکہ کے دووزیر عنقریب پاکستان کادورہ کریں گے۔ پاکستان کے اندر سیاسی تناؤاور مشرقی اور مغربی سرحد پر بھارت اور افغانستان کے بڑھتے ہوئے معاندانہ رویے کے پسِ منظر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ سے موصول ہونے والی چندخبریں پاک امریکہ تعلقات پر ایک بارپھر نظرڈالنے کا تقاضا کرتی ہیں۔ یہ سلسلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء کے متعلق امریکی پالیسی کے اعلان سے شروع ہوا ہے جس میں ٹرمپ نے پاکستان کو سخت نتائج کی دھمکی دی ۔پاکستان کی فوجی قیادت بار بار یہ یقین دہانی کرا رہی ہے کہ پاکستان میںدہشت گردوں کے کوئی منظم ٹھکانے نہیں ہیں اور پاکستان کسی دہشت گرد تنظیم کی حمایت یا سرپرستی نہیں کر رہا بلکہ بلاامتیاز دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔ پاک فوج کے سپہ سالار نے چندروز پہلے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف بڑی جنگ میں بیش بہا قربانیاں دے کر کامیاب ہو چکا ہے، اب ڈو مور دنیا کی ذمہ داری ہے۔ لیکن وزیر خارجہ نے یہ کہہ کر کہ دہشت گرد تنظیمیں پاکستان پر بوجھ ہیں اور ان کی صفائی کے لیے وقت درکار ہو گا، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اصرار کو تسلیم کر لیا کہ پاکستان متذکرہ بالا تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ اس طرح ڈومور کے مطالبہ کی بجا آوری کے لیے مہلت مانگی۔ پاک فوج کے مؤقف اور وزارت خارجہ کے مؤقف کے اس اظہار کی پاکستان کے اندرونی حالات کے حوالے سے جو بھی وجوہ تھیں اس سے امریکی حکام پر کم از کم پاکستان کی کمزوری آشکار ہوئی اور انہوں نے بجائے خواجہ آصف کی مہلت طلبی پر کسی قسم کے ردِعمل کا اظہار کرنے کے لیے اگلا قدم اُٹھا لیا۔ امریکی وزیر دفاع نے چین کے ون بیلٹ ون روڈویژن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ متنازع علاقے سے گزرتا ہے۔ یہ وہی مؤقف ہے جو بھارت ایک عرصہ سے اختیار کیے ہوئے ہے اور ان کئی برسوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی وزیر دفاع نے بھارت کا مؤقف اپنایا ہے۔حتیٰ کہ گزشتہ سال مئی تک امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا جب امریکی وفد نے صدر کے خصوصی معاون کی سطح پر چین کے ون بیلٹ ون روڈ فورم میں دنیا کے 129ممالک کے ہمراہ شرکت کی تھی۔ اس میں ون بیلٹ ون روڈوژن کو عوام کی بھلائی کا ترقی کا منصوبہ قرار دیا گیا تھا۔ چین اور پاکستان دونوں نے امریکی وزیر دفاع کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے ۔ چین نے کہا ہے کہ سی پیک ترقیاتی منصوبہ ہے اور کسی کے خلاف نہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کو غالباًخواجہ آصف کے واپس پہنچنے کا انتظار تھا ورنہ کون نہیں جانتا کہ بھارت متنازع علاقے میں ڈیم بنا رہا ہے۔ پاکستان کواس کے پانیوں سے محروم کرنے کے منصوبے مکمل کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ سے کیے گئے استصواب رائے کے وعدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ سی پیک متنازع علاقے سے گزرے گا تو امریکہ اس تنازع کو طے کروانے میں کیوں فعال کردارادا نہیں کرتا اور یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ جب بھارت ثالثی کی درخواست کرے گا تو ہم کردار ادا کریں گے۔ سی پیک کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ جب تنازع طے ہو جائے گا تو مستقبل کے معاہدے کی تعمیل ہو گی۔ جیمز میٹس کے بیان کا مؤثرتر جواب دیا جاسکتا تھا۔ اپنے ہی آرمی چیف کے بیان پر وزیر خارجہ کے بیان کی وجہ سے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو ماضی کا بوجھ اُتارنے کے لیے مہلت چاہیے امریکی حکام کو یہ حوصلہ ہوا کہ انہوں نے سی پیک کے بارے میں کھل کروہی مؤقف اختیار کیا ہے جو بھارت کا مؤقف رہا ہے۔ لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ امریکہ کی بھارت پالیسی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ امریکہ بھارت کو اس علاقے میں اپنا تھانیدار بنانا چاہتا ہے ۔ یہ پالیسی تب سے جاری ہے جب کئی سال پہلے امریکہ نے بھارت کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کیا تھا۔ پاکستان کو اپنی امریکہ پالیسی اس حقیقت کو مدِنظررکھ کر بنانی ہو گی۔ ڈو مور کی یقین دہانیوں اور چند بیانات جاری کرنے سے کام نہیں چلے گا۔امریکی کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کی امداد میں کمی کریں گے۔ اس حقیقت کو قبول کیا جانا چاہیے۔ یہ بات واضح کی جانی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے امریکہ کی نہیں۔ امریکہ کی ڈکٹیشن کی بجائے یہ جنگ اپنی ضرورت کے طور پر لڑی جائے گی۔ یہ بات عملاًثابت کی جانی چاہیے کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے بھارت اور امریکہ سے برابری کی سطح کے تعلقات ہی قبول کرسکتاہے۔ افغانستان میں امن کے لیے بیرونی شرائط کی بجائے افغانوں کی مددکی جانی چاہیے کہ افغانستان میں استحکام پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان کے راستے افغان منشیات کی سمگلنگ کو پوری قوت سے روکنا ضروری ہونا چاہیے تاکہ افغانستان کے منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے سرپرستوں کازور ٹوٹے جو افغانستان اور پاکستان میں عدم استحکام برقرار رکھنے کے بلاشبہ خواہاں ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات قدیمی ہیں ۔ امریکہ پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ یا کسی اور انتظامیہ کے آنے کے باوجود یہ حقیقت برقرار رہتی ہے۔ انہی تعلقات کو پاک امریکہ پالیسی کی اساس رہنا چاہیے۔ یہ تاثر قائم نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان یا امریکہ کااتحادی ہو گا یا چین اور روس کا۔ آزاد ملک کی حیثیت سے باہمی مفادات کی روشنی میں دنیا کے سبھی ملکوں سے تعلقات خوشگوار رکھے جا تے ہیں۔ آزاد خارجہ پالیسی کا مطلب امریکہ سے جنگ نہیں ہے نہ آج کی دنیا میں جنگ آسانی سے مسلط کی جاسکتی ہے اور نہ جنگ کو مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے۔ دہشت گردی او رمنشیات کے خلاف جنگ جاری رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے خود انحصاری اور برابری کی سطح پر تمام ملکوں کے ساتھ تعلقات پالیسی ہی موزوں ترین ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں