ختم ِ نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کی تحقیقات

ختم ِ نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کی تحقیقات

انہی تحریروں میں کئی بار یہ مطالبہ کیا جاچکاہے کہ انتخابی اصلاحات کے قانون میں ختم نبوت کے فارم میں تبدیلی کیونکر واقع ہو گئی اس کی تحقیقات کرائی جانی چاہئیں۔ لیکن حکمران مسلم لیگ کے لیڈروں نے اس مطالبہ پر کان دھرنے کی بجائے اسے ختم نبوت پر جان بھی نثار کے بیانات کے ذریعے ٹال دیا۔ اور سپیکر قومی اسمبلی نے بھی جن کے زیر صدارت اسمبلی نے یہ بل پاس کیا اسے کلیریکل غلطی کہہ کر بات ختم کر دی۔ انہیں یہ واضح کرنا چاہیے تھا کہ ان پر کیسے یہ منکشف ہوا کہ یہ کلریکل غلطی تھی۔ کیا انہوں نے اس بارے میں چھان بین کی تھی جس کے نتیجے میں یہ سامنے آیا کہ یہ کلیریکل غلطی تھی۔ اگر انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ کلریکل غلطی ہے تو انہوں نے ا س کے ذمہ دار کا تعین کرنے اور اس کے خلاف کسی ضابطے کی کارروائی کے لیے کیا کیا؟ انہیں اسے کلریکل غلطی کہہ کر آگے بڑھ جانے کا حوصلہ اس لیے ہوا کہ اپوزیشن کے ارکان نے اس سنجیدہ معاملے پر کسی احتجاج یا ہنگامہ آرائی کی بجائے یہ تجویز منظور کر لی کہ نیا فارم حذف کرکے سابقہ فارم شامل کر دیا جائے۔ آخر کار میاں نواز شریف نے جو دوبارہ مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہوئے ہیں پارٹی کو یہ ہدایت کر دی ہے کہ وہ تحقیقات کرے کہ انتخابی گوشوارے کے فارم میں یہ تبدیلی کیوں آئی جوعوام کی دل آزاری کا سبب بنی۔ میاں نواز شریف کو انکوائری کمیٹی بنانے کی ہدایت تب ہی جاری کر دینی چاہیے تھی جب لاہور کے الحمرا ہال میں ان کے دوبارہ پارٹی صدر منتخب ہونے کے جشن میں ان کے بھائی میاں شہباز شریف نے بلندآواز میں یہ مطالبہ کیا تھاکہ ''جس وزیر نے ختم نبوت کاحلف نامہ تبدیل کیا ہے اسے فارغ کیا جائے ۔'' یہ مطالبہ شہباز شریف نے بدھ 4اکتوبر کو کیا تھا اور میاں نواز شریف نے تحقیقات کا فیصلہ دو دن بعد 6اکتوبرکو کیا ہے ۔اس کمیٹی کو محض دودن تحقیقات کے لیے دیے گئے ہیں۔ حالانکہ یہ کام طویل بھی ہو سکتا ہے۔ شہباز شریف کے بیان سے لگتا ہے کہ ان کا شک کسی وزیر پر ہے۔ ظاہرہے کہ بل وزراء ہی پیش کرتے ہیں۔ تاہم یہ غلطی اس سے پہلے کسی مرحلے پر بھی ہو سکتی ہے لیکن اصل ذمہ داری تو وزیرہی کی ہوگی۔ اب یہ انکوائری چونکہ پارٹی کی سطح پر ہورہی ہے ۔ یہ تحقیقاتی رپورٹ میاں نواز شریف کو پیش کی جائے گی اور اس کے بعد وہ پارلیمانی پارٹی کو ہدایت کریں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔ اس انکوائری کا حکم وزیر اعظم نے کیوں نہیں دیا۔ حکومت کے وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ اس پر سوشل میڈیا میں جو ردِعمل آیا ہے اس کے ذمہ داروں کے خلاف سائبر کرائمز کے قوانین کے تحت کارروائی کریں گے۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر پاکستان سے باہر بھی کوئی شخص کوئی تحریر پوسٹ کر سکتا ہے۔ یعنی وہ یہ معلوم کرنے کی بجائے کہ پرانا فارم کیوں حذف ہوا ، نئے فارم پر اعتراض کرنے والوں کو قانونی کارروائی کی دھمکی دے رہے تھے۔ اور وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ فتنے سے بچنے کے لیے پرانا فارم بحال کر دیا گیا ہے۔ میاں صاحب کو چاہیے کہ وزیر اعظم کو سرکاری طور پر تحقیقات کرانے کی ہدایت کریں تاکہ معلوم ہو کہ یہ غلطی سہواًہو گئی تھی یا ارادتاًکی گئی تھی۔ اور اس کے ذمہ دار کو تلاش کیا جائے۔ لیکن اس انکوائری میں یہ احتیاط کی جانی چاہیے کہ کسی چھوٹے سرکاری ملازم پر یہ ذمہ داری نہ ڈال دی جائے ۔ اصل ذمہ داری اسے فائنل کرنے والوں کی ہونی چاہیے۔

اداریہ