Daily Mashriq


دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا

دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی یہ بات درست توہے کہ سیاسی فیصلے عدالتوں یا سڑکوں کی بجائے پولنگ سٹیشنوں پر ہونے چاہئیں۔ میثاق جمہوریت کے تحت آگے بڑھنا ہے ، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں سیاسی رہنمائوں کو اس وقت یاد آتی ہیں جب ان پر کسی قسم کی افتاد پڑتی ہے ، میثاق جمہوریت کو اگر اس کی روح کے مطابق لاگو کردیا جاتا تو آج ملک کی سیاست یوں بے اماں نہ ہوتی ، مگر مسئلہ یہ ہے کہ جن سیاسی رہنمائوں کے مابین یہ معاہدہ ہوا تھا ان میں سے بد قسمتی سے کوئی بھی خلوص نیت سے اس پر عمل کرنے میں سنجیدہ نہیں تھا ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعدمحترمہ بے نظیر نے درون خانہ جنرل مشرف سے این آر او کر کے اپنی واپسی کی راہ ہموار کی اسی طرح جب پیپلز پارٹی بر سر اقتدار آئی تو آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو میاں نواز شریف باربار میثاق جمہوریت پر عمل در آمد کرنے کی اپیل کرتے رہے اور جب میاں نواز شریف بر سر اقتدار آئے تو یہی دہائیاں پیپلز پارٹی دیتی رہی لیکن یہ کم بخت اقتدار چیز ہی ایسی ہے کہ گردن میں تکبر اور غرور کا سریا آکر پھنس جاتا ہے اور بندے کو پھر سارے وعدے وعیدبھول جاتے ہیں ۔ یوں دونوں اصل فریقوں کو اپنے اپنے اقتدار کے ہنگام میثاق جمہوریت یاد نہیں رہا تھا۔اتنا البتہ ضرور ہے کہ وہ جو میثاق جمہوریت سے پہلے کے دونوں جماعتوں کے یعنی سابقہ ادوار میں جو معاندانہ رویہ ایک دوسرے کے بارے میں اختیار کیا جاتا رہا ہے ، کم از کم صورتحال اس نہج تک تو نہیں جا سکی لیکن دونوں پھر بھی ایک دوسرے کیلئے قابل برداشت نہیں تھے ۔ اگر چہ دیگر رہنما دونوں پر ایک دوسرے کیلئے فرینڈ لی اپوزیشن کے طعنے چست کرتے رہے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ جہاں موقع ملا ، ایک دوسرے کو کہنی مار کر زک پہنچانے کا موقع ضائع کرنے کی ضرورت دونوں نے محسوس نہیں کی اور چھپ کر وار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت کبھی نہیں کیا ۔ یعنی بقول شہزاد احمد 

لوگ کہتے ہیں کہ گلشن میں بہار آئی ہے

بوئے گل بھی پریشاں ہے اسے کیاکہئے

میثاق جمہوریت پر دستخط لندن میں ہوئے تھے مگر مقام شکر ہے کہ اسے جنرل مشرف کے حواریوں نے کسی سازش سے تعبیر نہیں کیا تھا جیسے کہ ایوبی آمریت کے زمانے میں ایک بار پاکستان کے چند چوٹی کے سیاسی رہنماء اتفاقاً یا واقعی کسی طے شدہ پروگرام کے تحت لندن میں اکٹھے ہوئے یعنی اپنے اپنے طور پر ذاتی کاموں کے لئے یکے بعد دیگرے چند دن کے فرق سے پہنچے۔ ان میں خان عبدالولی خان' سردار شوکت حیات' ممتاز خان دولتانہ وغیرہ شامل تھے۔ تو وہاں سے ایک خبر میں حکومت کے خلاف ایک مبینہ سازش تھیوری جسے لندن پلان کا نام دیاگیا پاکستان کے اخبارات میں لانچ کردی گئی۔ بس پھر کیا تھا ایک جانب سرکاری سرپرستی میں چلنے والے پریس ٹرسٹ کے اخبارات اور دوسری جانب واحد سرکاری ٹی وی یعنی پاکستان ٹیلی ویژن پر ایسا منفی پروپیگنڈہ شروع کیاگیا کہ وہاں اکٹھے ہونے والے سیاسی رہنمائوں کو ملک دشمن ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی۔ وہ بے چارے لاکھ بیانات دیتے رہے' پریس کانفرنسوں میں لندن پلان کی تردید کرتے رہے' کسی سازش میں ملوث ہونے کی تردیدیں کرتے رہے مگر چونکہ ملک کے اندر ایک دو کو چھوڑ کر تمام اخبارات اور واحد سرکاری ٹی وی چینل دن رات ان کی کردار کشی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ریس میں شامل تھے۔ اس لئے عام لوگ محولہ رہنمائوں کے بارے میں بہت حد تک اس پروپیگنڈے کا شکار رہے۔ لیکن جیسا کہ ایسے معاملات میں ہوتا رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ بھی ماند پڑتا چلاگیا۔ کیونکہ اس دوران ایوبی حکومت کی پالیسیوں سے عوام نالاں ہوچکے تھے اور حکومتی پروپیگنڈے کا الٹا اثر پڑنے لگا تھا۔ اگرچہ مبینہ لندن پلان کی خبریں حقیقتاً صرف اپوزیشن رہنمائوں کو بدنام کرنے کی بھونڈی کوشش تھی تاہم 1970ء کے وسط میں جب انتخابات کی تیاریاں ہو رہی تھیں تین اہم سیاسی جماعتوں یعنی کونسل مسلم لیگ' عوامی لیگ اور این اے پی کے رہنماء در پردہ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے اور اپنی جماعتیں اس میں ضم کرنے کے لئے مذاکرات میں ضرور مصروف تھے۔ اس دور میں راقم ملک کے ایک اہم اخبار کے پشاور بیورو میں بطور سٹی رپورٹر کام کر رہا تھا اور میرے بعض اہم سورسز نے یہ اطلاع مجھے فراہم کی تھی' ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ابھی یہ خبر شائع کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ مذاکرات اس قدر خفیہ تھے کہ اگر خبر چھپ جاتی تو مذاکرات سبوتاژ ہونے کے خدشات موجود تھے۔ نئی جماعت کا نام بھی تجویز کیاگیا تھا جو پاکستان نیشنل عوامی لیگ تھا۔ مذاکرات حتمی نتائج تک پہنچنے سے پہلے ہی بعض اہم اداروں کو اس کی سن گن لگی اور ان کے کارندوں نے یہ بیل منڈھے چڑھنے نہیں دی۔ بات میثاق جمہوریت پر عمل کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خیالات کی ہو رہی تھی۔ بات یقینا درست تو ہے مگر اس پر عملدرآمد میں بنیادی عنصر صرف اور صرف نیک نیتی ہے۔ اس لئے دونوں بڑے فریقوں کو ماضی قریب کے اپنے اپنے رویوں کے بارے میں صدق دل سے جائزہ لے کر سوچنا پڑے گا وگرنہ لاکھ میثاق لکھے جائیں فائدہ کوئی نہیں ہونے کا۔ اور میثاق پکارتا ہی رہ جائے گا

دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا

جتنا میں جس کے ہاتھ لگا لے اڑا مجھے

متعلقہ خبریں