Daily Mashriq


طالبان مذاکرات

طالبان مذاکرات

افغانستان کو جنگ زدہ ہوئے چار عشروں سے زیا دہ ہوچلے ہیں ہنو ز وہا ں امن کے کوئی پائیدار آثار نہیں مل پا رہے ہیں ماضی میں امن کے نا م پر درجن بھر کوششیں ہوچکی ہیں وہ اس لیے نا کا م نہیں ٹھہریں کہ فریقین میں اتفاق کا فقدان تھا بلکہ ان کو سبوتاژ کیا گیا اور یہ ساری ذمہ داری امریکا پر ہی عائد ہو تی ہے ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے واشنگٹن میں صحافیو ں کو بتایا ہے کہ 16اکتوبر کو مسقط میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ان سے با ت چیت کی جا ئے گی ، یہ کوشش کوئی ڈیڑ ھ سال کے تعطل کے بعد شروع کی جارہی ہے امریکا کو دو عشرے ہو چلے ہیںافغانستان میں اپنا تسلط جما ئے ، ایک طرف یہ صورت حال کہ دنیا کی جدید ترین ہتھیا ر وں اور ٹیکنالو جی سے بھر پور تربیت یا فتہ امر یکی فوج ہے تو دوسری جا نب ان کے مقابلے میں نہتے طالبان ہیںجو دنیاوی طا قت سے محروم ہیں مگر امریکا ان دوعشرو ں میں اپنا کنٹرول حاصل کر نے میں نا کا م ہے۔ دوسری صورت حال یہ ہے کہ اس وقت بھی افغانستان کے پینتا لیس فی صد حصہ پر طالبان کا قبضہ اور اثر رسوخ ہے اسی طر ح پا کستان میں چالیس سال سے پینتیس لا کھ کے قریب افغان مہا جر پڑے ہوئے ہیں ، جن کی وجہ سے پاکستان کی معیشت اور سماجیت ایک بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے۔ حال میں افغان مہا جرین کی واپسی کا پر وگرام بنا یا گیا مگر وہ بھی ناکام ہو چلا ہے کیو ںکہ جو مہا جر پاکستان سے واپس گئے ان کے لیے آباد کاری کا کوئی ڈھنگ سے بندوبست ہی نہیں۔ نہ تحفظ حاصل ہے اور نہ روزگار کے مواقع ہیں چنانچہ پچاس فی صد مہاجرین واپس پلٹ آئے ہیں اور واپسی کا سلسلہ ہنو ز جا ری ہے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان اور واپس آنے والے مہا جرین کو نئی مشکلا ت کا سامنا ہے مہا جر ین کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی مہاجر کی حیثیت ختم ہو گئی ہے جس سے مہا جرین کی مراعات سے وہ محروم ہو چکے ہیں ۔ افغانستان میں امریکا کی یہ بھی ناکامی ہے ۔ انہی زمینی حقائق کے پیش نظر نیٹو ممالک نے اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لیں، لیکن کچھ ممالک اب بھی اس گھمنڈ میں ہیں کہ سولہ سال کی نا کامی کے بعد بھی ان کا افغانستان فتح کرنے کا خواب پو را ہوجائے گا ۔ بقول امریکا کے وہ اس جنگ میں سات سو تراسی ارب ڈالر جھو نک چکا ہے اگر یہ رقم امریکی عوام کی فلا ح بہبود پر خرچ کی جاتی تو اس کا امریکی عوام کو کتنا زیادہ فائد ہ حاصل ہوتا چنا نچہ قطر میں جو طالبان کو مذاکر ات کی میز پر لانے کی سعی چار فریقی ممالک جس میں چین ، پاکستان ،افغانستان اور امریکا بھی شامل ہے اس کی کا میابی کے لیے امریکا کو اپنا ذمہ دارانہ کر دار ادا کرنا ہو گا ، بصورت دیگر امریکا کے ما تھے پر شکست اور ناکامی تو لکھی جا چکی ہے اگر امن مذاکرات کا میا ب ہو جا تے ہیں تو اسی میں امریکا کی عزت ہے کہ وہ اپنی نا کامی کو ان مذاکرات کی آڑ میں ملفوف کر کے افغانستان خالی کر سکتا ہے ۔

افغانستان میں امن کے لیے ایک کو شش کا میا بی کے ساتھ ہو چکی ہے وہ یہ کہ افغان کمانڈر اور سیا سی رہنما انجینئر گلبدین حکمت یا ر غارو ں میں بیٹھ کر جدوجہد کی زندگی ترک کر کے افغان حکومت کے ہا تھ مضبوط کرنے کی غرض سے باہر آگئے ۔ان کے اس عمل سے افغان حکومت کو بھرپور فائد ہ اٹھانا چاہیے تھا حکمت یار کیساتھ مفاہمت ایک بہتر ین اقدام ہے مگر مشاہدے میں آرہا ہے کہ اشرف غنی کو حکمت یا ر کی شخصیت سے جس طر ح مستفید ہو نا چاہیے تھا وہ اس سے اغراض برت رہے ہیں جو دراصل سیا سی شخصیات کا خوف ہے ویسے بھی حکمت یا ر سیاسی طو رپر ایک قدآور شخصیت ہیں اور ان کی اس خصلت کو گہن نہیںلگایا جا سکتا چنا نچہ اشرف غنی کو افغانستان کی اس کڑی آزما ئش میں سیاسی قدکا ٹھ کو پرے رکھنا ہو گا اور افغانستان کے مفاد میں قدم بڑھا نا چاہیے ۔ اشرف غنی یہ جان رکھیںکہ جب تک طالبان سے مفاہمت کی راہ ہمو ار نہیں ہوتی اس وقت تک افغانستان میں امن کا تصور ممکن نہیں ہے ، امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس جب اچانک افغانستان کے دورے پر کا بل ایئر پو رٹ پر وارد ہوئے تھے ا س وقت طالبان نے کا بل ایئر پو رٹ پر راکٹ برساکر امریکاکو انتہائی حساس علا قے میں بھی اپنی موجو دگی کا احساس دلا یا تھا۔ حملہ کی جگہ اور وقت کا تعین کا انتخاب کرکے طالبان نے اپنی قوت اور دلیر ی کا ثبوت فراہم کیا تھا ، چنا نچہ سولہ سال سے امریکا نے ہر حربہ استعمال کرلیا ہے مگر طالبان کو نا قابل شکست ہی پایا ہے ، امریکا کے وزیر دفاع کی آمد کے موقع پر طالبان کا حملہ اس امر کی بھی غما زی کر تا ہے کہ طالبان نے یہ بھی ثابت کر ڈالا کہ افغانستان کے اہم ترین علاقے اور تنصیبات بھی ان کی دسترس سے باہر نہیں ہیں۔ جب جی چاہے جہا ں چاہیں وہ پہنچ سکتے ہیں اور کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ان حالات و واقعات کی روشنی میں امریکا کو بھی چاہیے کہ وہ افغانستان کی حقیقی طاقت کو تسلیم کرے اور مفاہمت کی راہ کو کھو ٹا نہ کرے بلکہ اس سے اپنے مفادات کے لیے راہ ہموار کرے ، ا س موقع پر دانشمندی ، برد باری اور تحمل کی ضرورت ہے ۔ پاکستان نے امریکی صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کی پالیسی کے جواب میں جو طرز عمل اختیار کیا ہے اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ اب امریکا کو یہ بات بھی سمجھ میں آگئی ہو گی کہ پاکستان میں پر ویز مشرف جیسے فوجی آمر کی حکومت نہیںہے جس نے ایک ٹیلی فون کال پر سب کچھ امریکا کی جھولی میں ڈال دیا تھا اور امریکا کو پھوکٹ میں اپنی ضرورت سے بھی کہیں سوا مل گیا تھا۔ پا کستان میں ایک جمہو ری حکومت ہے جس کی راہ کھو ٹی کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہے کیو ں کہ وہ عوام کا مینڈیٹ حاصل کر کے قائم ہو ئی ہے۔

متعلقہ خبریں