Daily Mashriq

ایک مرد آزاد

ایک مرد آزاد

یقینا وہ ایک مرد آزاد تھا ۔ درویش تھا'عالم باعمل تھا ۔ اپنے نظریے اور فکر کے حوالے سے کسی ابہام کا شکار نہیں تھا اور یکسو بھی تھا ۔ کسی بھی تصنع و بناوٹ سے پاک تھا مگر مجھے ان کی جوادا پسندآئی وہ حق گوئی اور بے باکی تھی ۔ جو بات ان کے دل میں ہوتی وہی کہتے ہر فورم پر کہتے اور بلا خوف و خطر کہتے تھے۔ سادگی کے ساتھ بے ساختگی کا مظہر تھے اور اس لئے انہیں جاننے والے کہتے ہیں اور بجا کہتے ہیں کہ وہ اسلاف کا نمونہ تھے ۔ میں ذکر کر رہا ہوں مولانا مجاہد خان کا ۔ جی ہاں مولانا مجاہد خان ۔ فضلائے دیو بند کے اس قبیل سے تعلق رکھتے تھے ۔ جنہوں نے دورطالب علمی میں جدوجہد آزادی کو قریب سے دیکھا ۔ صرف دیکھا نہیں بلکہ اسکا حصہ رہے ۔ وہ مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے ان کے خاص خادم بھی رہے ۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان کا ذہن معاملات کو خوب سمجھتا تھا البتہ دور جدید کی مصلحت پسندی کا وہ نہ شکار تھے نہ اس کی پرواہ کرتے تھے ۔ جمعیت علماء اسلام کے ساتھ فکری وابستگی تھی مختلف اوقات میں الیکشن لڑا اور 2002ء کے انتخابات میں نوشہر ہ سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دوران ان کو زیادہ قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ۔ اسمبلی اجلاس کے دوران ان کی تقاریر تو ریکارڈ کا حصہ ہیں لیکن کئی ظریفانہ واقعات ابھی تک دل پر نقش ہیں ۔ جو مولانا مرحوم کی بذلہ سنجی' بے ساختگی' سادگی اور جرأت کا ثبوت ہیں۔ سیشن کے دوران شہید بشیر بلور جو اس وقت اپوزیشن کا حصہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر تھے کے ساتھ ان کی نوک جھونک ایک دلچسپ لمحہ ہوتا ۔ جس سے اراکین اسمبلی کے ساتھ پریس گیلری میں کوریج کیلئے موجود صحافی بھی محظوظ ہوتے ۔ مارچ 2004میں پشاور کے ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور ہندوستان کی کرکٹ ٹیموں کا ایک روزہ میچ تھا ۔ جس کے لئے پشاور کی سڑکوں اور بالخصوص صوبائی اسمبلی کے سامنے سے گزرنے والی شاہراہ اور سٹیڈیم روڈ پر پاکستان اور ہندوستان کے جھنڈے لگائے گئے تھے ۔ بشیر بلو ر جو حکومت پر تنقید کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے ، میچ سے ایک روز قبل صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر کھڑے ہوئے سپیکر بخت جہان اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ بشیر بلو ر نے کہا اس صوبے میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہے ، جس میں وہ جماعت بھی شامل ہے جنہوں نے دہلی کے لال قلعہ پر پاکستان کا جھنڈا لہرانے کا اعلان کیا تھا ۔ وہ تو نہ کر سکے مگر آج پشاور میں ہندوستان کے جھنڈے لہرا رہے ہیں ۔ صوبائی وزراء اس نکتے پر جواب دینے کا سوچ رہے تھے کہ مولانا مجاہد خان اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور بشیر بلور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جی بالکل ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ میرے اکابر متحدہ ہندوستان میں کانگرس کے حامی تھے ۔ اور آپ کے ''باچا خان''میری موجودگی میں دیوبند آئے تھے اور ہمارے اکابر کی وساطت سے گاندھی سے ملے تھے ، اس جواب پر شہید بشیر بلور سمیت پورا ایوان ہنسنے لگے ۔

مولانا مجاہد خان کے پاس موبائل فون بھی ہوتا تھا جس کا وہ صرف سبز بٹن دبانا جانتے تھے کہ اس سے کال وصول کی جاسکتی ہے۔ اس سے زیادہ انہیں سمجھ نہیں تھی۔ اجلاس کے دوران چونکہ موبائل فون کے استعمال پر پابندی تھی لیکن پریس گیلری میں کچھ صحافی دوست مولانا صاحب کے موبائل پر مس کال دیا کرتے تھے۔ گھنٹی کی آواز سنتے ہی مولانا صاحب موبائل نکال کر دیکھنے لگتے۔ سپیکر انہیں تنبیہہ کرتے کہ مولانا صاحب موبائل پر پابندی ہے مگر آپ کا فون بجتا ہے۔ وہ اگلی نشست پر بیٹھے شہید پیر محمد خان کی طرف اشارہ کرتے کہ جناب سپیکر یہ پیر محمد خان کی شرارت ہے۔ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ پیر محمد خان ہی کی یہ کارستانی ہے۔ پارٹی کے فیصلوں سے اختلاف بھی کھل کر کرتے اور مناسب فورم پر غلط فیصلوں کے خلاف آواز بھی اٹھاتے۔ شاید 2003ء کے سینٹ انتخابات میں ایم ایم اے کے ٹکٹ پر جے یو آئی کے کوٹے سے ایک خاتون ڈاکٹر کو سینٹ کی مخصوص نشست کے لئے امیدوار نامزد کیا گیا جن کا جے یو آئی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مولانا مجاہد خان نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور جب مولانا صاحب کو اس خاتون امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے جرأت کے ساتھ انکار کردیا اور کہا کہ میں اس کو قطعاً ووٹ نہیں دوں گا جس کے بعد مولانا کو دوسرے گروپ میں ڈالاگیا۔ مولانا مجاہد خان کی شخصیت پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ ان کی شخصیت کے کئی رخ ہیں۔ علم' عمل' تقویٰ اور دیگر کئی جہتیں ہیں جن کا احاطہ اس مختصر تحریر میں ممکن ہے نہ ہی ہماری اتنی صلاحیت کہ ان کے تبحر علمی کا احاطہ کرسکیں۔ تاہم سننے میں آیاہے کہ جے یو آئی ان کی یاد میں کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے۔ اگرچہ مولانا مجاہد خان کا انتقال نومبر 2014 ء میں ہوا اور گزشتہ چند سالوں کے دوران ان کی جماعت نے انہیں یاد نہیں کیا تاہم پھر بھی دیر آید درست آید اب بھی اگر مولانا کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے تو یہ ایک اچھی روایت ہے کہ ایسی تاریخی شخصیات کی یاد کو تازہ کیا جائے۔ ان کے کردار سے نئی نسل کو آگاہ کیا جائے اور ان کے افکار کو پھیلانے کی کوشش کی جائے۔مولانا کے حوالے سے چند یادداشت ذہن میں تازہ ہوگئے جنہیں سپرد قلم کیا۔ 98سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا' مگر آخر دم تک وہ چست اور چاق و چوبند تھے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

اداریہ