Daily Mashriq


لاعلاج مہنگائی

لاعلاج مہنگائی

وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو لاہور میں پریس کانفرنس میں جہاں عوام کو کسی ریلیف کی خوشخبری نہ دی وہاں انہوں نے یہ بھی مژدہ نہ دیا کہ جاری صورتحال میں تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ انہوں نے اس امر کا صاف عندیہ دیا کہ وطن عزیز کے عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی مجبوری ہے اس کا فوری علاج ممکن نہیں البتہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں حالات میں بہتری کی امید ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے ٹھوس منصوبہ بندی کا عندیہ نہیں دیا کوئی ایسی حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا جس پر عمل پیرا ہوکر ملک کی معاشی حالت میں بہتری لانا ممکن ہوگا۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں اپنے روایتی جملے یہ احساس کئے بغیر دہرا دئیے کہ اب وہ حزب اختلاف کی احتجاجی جماعت کے قائد نہیں بلکہ ملک کے وزیراعظم ہیں۔ بہرحال وزیراعظم عمران خان بدعنوان عناصر سے ہڑپ شدہ قومی دولت واپس لیکر، بیرون ملک ان کی جائیدادیں نیلام کرکے، بیرون ملک بنکوں سے ان کی رقم واپس لیکر اور ٹیکس نہ دینے والوں سے ٹیکس وصول کرکے اس سرمایہ کو عوام کی فلاح وبہبود کیلئے استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔ جہاں تک وزیراعظم کے مالی بدعنوانیوں میں ملوث افراد سے لوٹی ہوئی رقم کی وصولی کا سوال ہے یہ ایک سیاسی نعرے کی حد تک تو درست امر رہا ہے لیکن عملی طور پر اس معاملے کو انجام تک پہنچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس مقصد کیلئے اولاً یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ کس کس عہدے پر فائز شخص نے کتنی لوٹ مار کی اس مرحلے میں قوانین کا آڑے آنا اور دستاویزی شہادتوں کی عدم موجودگی وغیرہ وغیرہ ایسی رکاوٹیں شامل ہیں جن کو عبور کرتے ہوئے نہ صرف زمانہ لگتا ہے بلکہ محفوظ طریقے سے ہونے والی کرپشن کا سراغ ڈھونڈنا بھی ناممکن ہوتا ہے۔ جہاں تک بیرون ملک سے رقم واپس لانے یا وہاں جائیدادوں کی نیلامی کے ذریعے رقم کے حصول کا معاملہ ہے اسے اگر کئی سنجیدہ قانونی وجوہات کی بناء پر ناممکن قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس ضمن میں اگر پانامہ کے مشہور مقدمے کی مثال دی جائے جس میں عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جی آئی ٹی بھی بنی، پاکستان اور پاکستان سے باہر دستاویزات اور ریکارڈ کو کنگھالنے کا دعویٰ بھی کیا مگر اس کی پٹاری سے بدعنوانی کے الزام کا نتیجہ یہی نکلا کہ سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج نے فیصلے میں لکھا کہ بادی النظر میں اس مقدمے میں بدعنوانی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ اس طرح کے معاملات کو سیاسی اور انتخابات سے جوڑنے کی وجوہات اور مواقع ایک جدا مسئلہ ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال کا اندازہ عالمی بینک کی اس رپورٹ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی بیرونی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے بنیادی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور قرض کی شرح بڑھنے کے خطرے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ معروف انگریزی معاصر کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے جنوبی ایشیا سے متعلق بجٹ کرنچ کے نام سے رپورٹ شائع کی گئی جس میں ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ فرق کو ختم کرنے کیلئے درست اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں معاشی دباؤ کو برداشت کیا جاسکے۔ پاکستان کی معاشی صورتحال اس وقت خراب ہے اور مالی پالیسی سخت کرنے سے اخراجات کیساتھ ترقی میں کمی کا امکان ہے۔ تاہم مالی صورتحال بہتر کرنے اور برآمدات کو بڑھانے کیلئے قلیل مدتی اقدامات کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت کو تنزلی سے باہر نکالا جائے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے خسارے کو درست کرنے کیلئے معاشی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں بڑھتی ہوئی شرح سود کی وجہ سے پاکستان کو بہت زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت پڑے گی۔ ورلڈ بینک کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی)4.8 فیصد تک رہے گی کیونکہ حکومت کی جانب سے توازن برقرار رکھنے کیلئے مالی پالیسی کو مزید سخت کئے جانے کا امکان ہے۔ جیسے ہی پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہوگی تو جی ڈی پی 2020 میں5.2 تک پہنچ جائے گی، تاہم اس بہتری کا انحصار میکرو اکنامک استحکام، سازگار بیرونی ماحول، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور برآمدات کی بحالی پر ہوگا۔ ورلڈ بینک کے مطابق مالی سال2019 کے دوران افراطِ زر کی شرح8 فیصد تک رہے گی جبکہ یہ2020 میں بھی برقرار رہے گی۔ اس کیساتھ ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کیلئے ترسیلاتِ زر سے جزوی طور پر مالی معاونت ہوتی رہے گی۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق آئندہ2 برس کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ بڑھنے اور تجارتی خسارہ بڑھنے کا امکان ہے۔ ان حالات میں عوام کیلئے ریلیف مانگنے کی بجائے ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ملکی وسائل کو بروئے کار لاکر جس طرح سے ملک کو اس بحران سے نکالنے کی بات کی ہے اس کی کامیابی کیلئے قوم کو دعا گو ہونا چاہئے اور ہم میں سے ہر ایک کو اس میں اپنا حصہ اخلاص کیساتھ ڈالنا چاہئے۔ جہاں تک ٹیکس وصولیوں کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دینے کا سوال ہے یہ اقدام ناممکن نہیں عین ممکن ہے۔ گزشتہ حکومتوں کو اس میں ناکامی رہی ہے موجودہ حکومت اگر اس ضمن میں نصف بہتری بھی لائے تو کم ازکم ملک کو قرضے کم لینے پڑیں گے جو غنیمت ہوگی جہاں تک وزیراعظم کے لاہور میں پریس کانفرنس اور وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے ریمارکس کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی جانب سے ایک طرح سے اس امر کا اعتراف ہے کہ ان کا وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کیلئے ایک ایسے شخص کا انتخاب جو ضروری فائلیں نمٹانے میں مشکل محسوس کرتا ہو بھرپور دفاع کے باوجود درست نہیں۔ وزیراعظم کا وزیراعلیٰ پنجاب سے کارکردگی رپورٹ طلب کرنے کی بجائے ان کی شخصیت اور عہدے کا دفاع ازخود اس امر کا اعتراف ہے کہ پنجاب میں معاملات پر گرفت تسلی بخش نہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب کو وزیراعظم کے دست شفقت کی ضرورت ہے۔قوم حکومت سے بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف بدعنوان عناصر کا احتساب کا بلا امتیاز احتساب کا وعدہ پورا کرے گی بلکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گی۔

متعلقہ خبریں