Daily Mashriq


حکومت سے طاقتور قبضہ مافیا

حکومت سے طاقتور قبضہ مافیا

2005ء کے خوفناک زلزلے کے تیرہ برس گزر جانے کے بعد بھی متاثرین بالاکوٹ کیلئے مجوزہ شہر بسانے کا منصوبہ ادھورا رہ جانا ہی المیہ نہیں المیہ یہ بھی ہے کہ اسے عملی طور پر ترک کر دیا گیا ہے کیونکہ حکومت بااثر اراضی مالکان سے اراضی کی قیمت کی ادائیگی کے باوجود اراضی کا قبضہ حاصل کرنے میں ناکامی کا شکار ہے۔ یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ مٹھی بھر افراد اور قبضہ مافیا کیا اتنا ہی طاقتور ہے کہ صوبائی حکومت ان سے زمین نہیں چھڑا سکتی یا پھر ہر آنے والی حکومت کو متاثرین زلزلہ سے کوئی ہمدردی اور علاقہ نہیں۔ اولاً صوبائی حکومت اس قابل ہے کہ وہ بزور قوت کسی سے بھی قبضہ شدہ اراضی چھڑا سکتی ہے۔ صوبائی حکومت کے پاس پولیس اور ایف سی کی نفری موجود ہے۔ بہرحال اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت کو اس ضمن میں ناکام لاچار اور مجبور ٹھہرانا ہی درست ہوگا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی تو باقاعدہ دعوت دیتے ہیں کہ قبضہ مافیا کیخلاف ان سے رجوع کیا جائے۔ موصوف خیبر پختونخوا ہی کے باسی ہیں۔ ان کو بکریال سٹی کی صورتحال کا علم ہوگا۔ بہرحال صوبائی حکومت کو اس ضمن میں خود کوششوں کیساتھ ساتھ وزیر مملکت برائے داخلہ سے مدد طلب کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان کے لب ولہجہ سے کسی طور یہ نہیں لگتا کہ جس صوبے میں ان کی جماعت پانچ سال سے حکمران رہی ہو وہاں بھی اس قسم کا قبضہ ممکن ہے ان کو بھی اس معاملے کا نہ صرف نوٹس لینا چاہئے بلکہ بلاتاخیر قبضہ مافیا سے اراضی چھڑا کر ترقیاتی کاموں کا فوری آغاز کروانا چاہئے۔ اس امر کی بھی چھان بین ہونی چاہئے کہ کہیں قبضہ مافیا بہانہ نہ ہو اور اس کی آڑ میں وہاں ترقیاتی کام روک نہ دئیے گئے ہوں۔ اس امر کا اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے کہ متاثرین زلزلہ کی مشکلات اور صبر وانتظار کا کیا عالم ہوگا اور حکومتوں کے رویئے سے ان کو کس قدر مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا اور وہ کس قدر یاسیت کا شکار ہوں گے۔ حکومت کو اس امر کا احساس ہونا چاہئے کہ نہ صرف متاثرین زلزلہ ہی مشکلات کا شکار ہیں بلکہ حکومت کا وقار بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ حکومت اگر اربوں روپے کے صرف کے بعد بھی اگر اس منصوبے کو عملی جامہ نہ پہنا سکی تو اس ناکامی کو کیا نام دیا جائے اس کا فیصلہ حکمران کو خود ہی کرنا چاہئے۔

احسن فیصلے

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے پرائمری اساتذہ کی ترقیوں کیلئے بی اے کی شرط عائد کرنے سے اساتذہ کو تحفظات کا اظہار کرنے کی بجائے اپنی تعلیمی استعداد میں اضافے کی سعی کرنی چاہئے جبکہ مختلف تعلیمی بورڈوں میں اساتذہ کو سال میں ایک مرتبہ ڈیوٹی کی اجازت متعلقہ ضلع کے ای ڈی او کی وساطت سے دینے کے فیصلے پر عمل درآمد پیشہ ور اور ملی بھگت سے امتحانی ڈیوٹیاں لیکر نقل مافیا کی مدد کرنے والے عناصر کا خاتمہ ہوگا یا پھر ان کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ اساتذہ کے امتحانی ڈیوٹی پر معترض ہونے کی گنجائش نہیں لیکن جس طرح بورڈوں میں ملی بھگت سے منظور نظر اساتذہ کو ان کی پسندیدہ اور ملی بھگت کے مقامات پر ڈیوٹیاں دی جاتی تھیں وہ باقاعدہ مافیا کی صورت اختیار کرگئے تھے جس کی روک تھام ضروری ہو گیا تھا۔ جہاں تک پرائمری اساتذہ کے تعلیمی استعداد کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا اسلئے ضروری ہوگیا ہے کہ اساتذہ اپنا تعلیمی استعداد بڑھا کر زیادہ بہتر طریقے سے بچوں کو پڑھا سکیں۔ دیکھا جائے تو اب فی زمانہ انٹرمیڈیٹ کسی درجے کے تعلیم کے برابر نہیں رہا۔ اساتذہ ترقی اور بہتر گریڈ کے خواہاں ہیں تو ان کو اس کے مطابق اپنی تعلیمی قابلیت واستعداد میں بھی اضافہ کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں