Daily Mashriq


سوت نہ کپاس کولی سے لٹھم لٹھا

سوت نہ کپاس کولی سے لٹھم لٹھا

لیجئے اب شاہد خاقان عباسی اور اوگرا کی خیر نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تقریباً ڈیڑھ سال تک وزیراعظم کے عہدے پر متمکن رہے اور اس دوران اپنے نجی گھر میں بغیر کسی پروٹوکول کے رہا۔ ان کے بارے میں خبر آئی ہے کہ سابق وزیراعظم اور اوگرا نے چار سال تک خلاف قانون گیس ٹیرف میں اضافے کا نوٹیفکیشن روکے رکھا۔ اس طرح گیس کمپنیوںکو اڑھائی ارب روپے کا خسارہ دیا چنانچہ گیس کمپنیوں کو خسارہ پہنچانے کے الزام میں انکوائری شروع کر دی ہے، عمران خان کو اسی خسارے کی وجہ سے گیس کی قیمتوں میں ایک سو تریالیس فیصد اضافہ کرنا پڑا ہے، منطق تو اچھی ہے، تحریک انصاف کے قائدین گزشتہ پانچ سال کے دوران مہنگائی پر سابقہ حکومت کے گردے چھیلتے رہتے تھے۔ عمران خان کنٹینر پر چڑھ کر نہ صرف سابقہ حکومت کی کارکردگی بیان کرتے رہتے تھے بلکہ وہ گیس اور بجلی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر لال پیلے ہوکر عوام کو حکم دیتے کہ بجلی کے بل ادا نہ کریں اور خود بھی بلوں کو آگ لگا کر کہتے کہ وہ بل ادا نہیں کریں گے۔ اسی طرح جنہوں نے آئی ایم ایف کی ٹیم سے بات چیت کے بات اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے وہ بھی ہر سال قومی اسمبلی میں بجلی، گیس اور دوسری اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ پر بلوں کے پھریرے لہرا لہرا کر صرف احتجاج نہیں کرتے تھے بلکہ حکومت کو بے لفظی سنایا کرتے تھے۔آئی ایم ایف کیساتھ تحریک انصاف کی حکومت کا کیا طے ہوا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے مگر نتائج اپنا اثر ضرور دیتے ہیں چنانچہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد مہنگائی کے عفریت نے عوام کو نگلنے کیلئے جس طرح جبڑے کھول لئے ہیں وہ تحریک کے قائدین کا سابقہ حکومت کیخلاف بڑبول ہی ہے۔ عمران خان بڑی شان بے نیازی سے قرضے نہ لینے کے جھوم جھوم کر راگ بھیروی الاپ لیا کرتے تھے اور قرضے لینے کا طعنہ دیا کرتے تھے، جب سابق حکومت رخصت ہوئی تھی اس وقت حکومت کے پاس پچہتر ارب ڈالر کا ذخیرہ تھا اب اس کا نصف رہ گیا ہے۔ کم ازکم قوم کو تو بتائیں کہ یہ باقی نصف کو کیا گھن کھا گیا۔ اس وقت جو مہنگائی کا سونامی آیا ہے اس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ حکومتوں کی تبدیلی کی روایت یہ ہوا کرتی ہے کہ وہ اپنے پروگرام کو آگے بڑھایا کرتی ہے، یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ تحریک انصاف جس نے اپنے ایک پاپولر منشور کیساتھ ہی اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد سو دن کا وژن بھی دیا تھا، گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس کی، گمان یہ تھا کہ وہ اپنی حکومت کے وژن کی کامیابیوں پر بات کریں گے مگر انہوں نے سابقہ حکومت کے عیب ٹٹول ڈالے، اگر سرسری طور پر وزیراعظم کی پریس کانفرنس کا جائزہ لیا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ تحریک کے وعدے وعیدے اپنی جگہ، حالات نے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے ہیں، جس کی بناء پر وہ اب اسی ڈگر پر چلیں گے جس پر سابقہ حکومتیں تھیں یعنی نہ آسمان بدلے گا نہ تبدیلی ہلے گی۔ صرف چہرے بدلے بدلے ہوں گے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ خسارے کو ختم کرنے کیلئے لوٹی ہوئی دولت واپس لانا پڑے گی مگر اب تک کیا اقدام اس بارے میں اُٹھائے گئے ہیں اگر ابھی عوام کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے تو دو ایک روز میں سامنے آہی جائے گا مگر عمران خان نے لوٹی ہوئی دولت لوٹانے کے اقدامات کے بارے میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ترجمان کے دعوؤں کی نفی کر دی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ شہاز شریف کی گرفتاری سے وفاقی حکومت کا قطعی تعلق نہیں ہے حالانکہ جب شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے ہتھکڑیاں بھی نہیں جھاڑی گئیں تھیں تو اس ہی لمحے پنجاب اور وفاق کے وزراء اطلاعات نے شہباز شریف کی گرفتاری کی ڈونڈی پیٹ ڈالی تھی۔ اب معترضین کا یہ اعتراض کوئی وقعت نہیں رکھتا کہ ان وزراء کو ایک دم کیسے خبر ہوگئی کہ شہباز شریف دھر لئے گئے ہیں کہ انہوں نے ڈونڈی پیٹنا شروع کر دی کیونکہ عمران سے پہلے ان کے وزیر دفاع پرویز خٹک نے پنجاب کے وزیراطلاعات اور وفاق کے وزیراطلاعات چودھری فواد کے دعوؤں کی تردید کی تھی کہ حکومت کا شہباز شریف کی گرفتاری سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ان سے تو ایک ٹی وی اینکر پرسن اور خبرکار نے اپنے پروگرام میں اسی رات جس دن نیب کے چیئرمین نے ملک کی اہم ترین شخصیت سے ملاقات کی تھی کہا تھا کہ ان کو لگتا ہے کہ شہباز شریف کیلئے جیل کی کوٹھری دھو دی گئی ہے، یہ پنجاب اور وفاق کے کیسے وزیراطلاعات ہیں کہ ان کی کوئی اطلاع ہوتی ہی نہیں ہے بہرحال اب شہباز شریف کا حشر ڈاکٹر عاصم سا ہونا متوقع ہے۔تاہم نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کر کے شریف خاندان اور مسلم لیگ ن پر بڑا احسان کیا ہے کہا جاتا ہے کہ اس احسان پر مسلم لیگ ن اور شریف خاندان نے نیب کا شکریہ بھی ادا کر دیا ہے کیونکہ مسلم لیگ کے گھر کے بھیدی نے گھر پر ہی لنکا ڈھا دی تھی، رانا مشہود نے ادعا کیا تھا کہ مسلم لیگ ن کے معاملات طے ہوگئے ہیں ایک دو ماہ میں پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت نظر آئے گی۔ رانا مشہود جیسے سجنیدہ سیاستدان نے ایسی غیرذمہ دارانہ بات نہ جانے کس لہر وبحر میں کہہ دی جس سے مسلم لیگ ن اور شریف خاندان پر ڈیل کرنے کا بٹہ لگا، پی پی کی نفیسہ شاہ نے تو باقاعدہ طور پر ڈیل کرنے کا الزام جڑ دیا تھا۔ شریف خاندان کو کسی بھی قسم کی ڈیل کرنے کی تردید کرنا پڑی تھی مگر عوامی سطح پر اس تردید کو پذیرائی نہ حاصل ہو پائی کیونکہ پاکستان میں ایسی ویسی تردیدیں آتی رہتی ہیں مگر نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کر کے بات کھول دی جو سیاسی نقصان رانا مشہود کے ذریعے شریف خاندان اور مسلم لیگ ن کو پہنچا یا پہنچ رہا تھا وہ اس کے سارے دلدر دور ہوگئے، سارے داغ بھی دھل گئے چنانچہ اب انہیں کہنا چاہے نیب شکریہ۔