Daily Mashriq


ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈاک کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ سیمینار منعقد ہو رہے ہوںگے، ڈاک کے ٹکٹوں کی نمائش بھی لگی ہوگی اور دانشور ڈاک کے نظام کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے کیلئے لمبی لمبی تقریریں کر کے بیتے زمانے کو واپس لانے کی کوشش کر رہے ہوں گے، یہ دن 1874ء سے ہر سال9 اکتوبر کو یونیورسل پوسٹل یونین کی سالگرہ کی مناسبت سے منایا جاتا ہے اور دنیا والوں کو بتایا جاتا ہے کہ ڈاک کے اس نظام نے دنیا کو کہاں سے کہا ں تک پہنچا دیا۔ یہ جو آپ اخبار دیکھ رہے ہیں نا یہ بھی ترسیل ڈاک کے ایک مربوط سسٹم کے ذریعے آپ تک پہنچا ہے، چٹھی پتر خیر خبر کو جس نظام کے تحت ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جاتا رہا اسے ہی ڈاک کا نظام کہا گیا، اس کی ضرورت ہر دور میں رہی، پتھر کے زمانے کا انسان بھی تصویری رسم الخط میں غار کی دیواروں پر اپنی خیر خبر کو آنے والی نسلوں تک محفوظ کرتا رہا۔ جب انسان نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تو اسے قلم سیاہی تو دستیاب تھی ہی لیکن درخت کے پتوں اور اس کی چھال پر اپنے تحریری پیغامات لکھنے لگا۔ وہ اپنی تحریروں کو کچی مٹی کی تختیوں پر لکھ کر اسے بھٹی میں پکانے لگا تھا یا پیپارس نامی چھال پر اپنے مافی الضمیر کو لکھ کر ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے لگا تھا۔ چمڑے یا پیپارس کے رول پر لکھے ہوئے یہ پیغامات کبھی شاہی فرمان کی صورت میں پڑھ کر سنائے جاتے، کبھی حالات حاضرہ کی تروتازہ خبر کا ابلاغ کرتے اور کبھی سجنوں کی چٹھی پتر بن کر ایک دوسرے کے حالات وجذبات کی ترسیل کا ذریعہ بنتے اور یوں میلوں کی مسافت پر رہتے ہوئے بھی لوگ خط وکتابت کے اس نظام کے ذریعے ایک دوسرے کے بارے میں جانکاری یا آگہی حاصل کرتے رہتے۔ خط چٹھی یا پتر کی ترسیل کیلئے چٹھی لیکر جانے والے اور اس کا جواب لیکر آنے والے کا کردار بھی بڑا اہم اور قابل ذکر گردانا گیا۔ اس اہم فریضے کو نبھانے والے کو قاصد کا نام دیا گیا۔ انتظار کرنے والے چٹھی یا خط پتر کے لانے اور لیجانے والے قاصد کی راہیں تکتے نہ تھکتے تھے اور انتظار کی خفت مٹانے کیلئے غالب پیا کی طرح خط کا جواب لکھنے بیٹھ جایا کرتے تھے

قاصدکے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

قاصد کا نام زبان پر آتے ہی ہمیں قاصد کبوتروں کا زمانہ یاد آجاتا ہے

یار نے خط وکبوتر کے کئے ہیں ٹکڑے

پرزے کاغذ کے کریں جمع کہ پر جمع کریں

خط کیساتھ قاصد اور قاصد کبوتروں کا رومانوی استعارہ اس وقت ایک یاد بن کر رہ گیا جب عقل انسانی نے کبوتروں پر اکتفاء کر نے کی بجائے خط پتر بھیجنے کا نظام تیز رفتار گھوڑوں اور گھڑ سواروں سے لینا شروع کر دیا۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں گھوڑوں کے ذریعے ترسیل ڈاک کا نظام مثالی تھا۔ ایک پڑاؤ سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے پڑاؤ تک سرپٹ دوڑتے گھوڑے ڈاک کے ایک خاص نظام کے ذریعے ایک جگہ کی ڈاک دوسری جگہ پہنچاتے اور یوں میلوں کی مسافتوں پر بیٹھے لوگ دوریوں کی مجبوریوں کو ڈاک کے اس نظام کے ذریعے پاٹنے لگتے۔ جس طرح عشق کی عین سے اس کے قاف تک کی منزلیں قلم قرطاس اور قاصد پر مبنی تین نکتوں والی تکون کو خط یا مکتوب کے ذریعے ملاتی ہیں اسی طرح محب محبت اور محبوب کے درمیان رابطے کا باعث بھی میم سے شروع ہونے والے الفاظ بنے اور ان کے درمیان پیغام رسانی کیلئے ارسال کی جانے والی تحریر کو محبت نامہ کا نام دیا گیا۔ کاتب مکتوب اور مکتوب الیہ کے ناموں سے بھی اس رومانوی اصطلاح کو پکارا گیا۔ خلاصہ کلام یہ کہ خط وکتابت ہر دور اہلیان قلب ونظر کی ضرورت بن کر سامنے آئی اور جب پہیہ ایجاد ہوا تو ترسیل ڈاک کا نظام گھوڑوں اور اونٹوں کی بجائے آٹو موبائل گاڑیوں، ریل گاڑیوں، سمندری اور ہوائی جہازوں کے ذریعے چلنے لگا۔ خط وکتابت کی ترسیل کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہونے کے باوجود خط کے جواب کے انتظار میں صرف ہونے والی گھڑیوں کے طولانی اور صبرآزما ہونے میں کسی بھی قسم کی کمی نہ آئی۔ اس کمی کو دور کرنے کیلئے ’’برقیرہ یا ٹیلی گرام‘‘ ارسال کرنے کا نظام متعارف ہوا اور یوں ایک جگہ کا پیغام دوسری جگہ کم سے کم الفاظ اور کم سے کم وقت میں بھیجے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ٹیلی گرام کو تار کہتے تھے، پرانے وقت کے سیدھے سادے لوگ اور جب کسی کو کسی کا تار ملتا تو تار پانے والا چونک جاتا۔ بھولے باچھا کو جب بیٹے کی تار ملا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اس کا رونا دھونا سن کر ہمسایوں کا جمگٹھا جمع ہوگیا۔ اس کے گھر اور تار کا مضمون پڑھنے کی بجائے سارے ہمسائے تار تار کا شور مچا کر رونے لگے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سیاں جی کے نام چٹھی گاؤں کا منشی لکھا کرتا تھا، ہمارے ہاں چٹھی نویس منشی ڈاکخانوں کے باہر بھی دکان سجائے بیٹھے مل جاتے تھے۔ مگر آہ کہ لدھ گیا سادگی کا وہ زمانہ اب تو ایس ایم ایس، ای میل، واٹس ایپ نے پرانے زمانے کے ترسیل ڈاک کے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ نہ کوئی غالب رہا نہ مکاتیب غالب پڑھنے والے باقی بچے، ہر کس وناکس کے ہاتھ میں موبائل سیٹ ہے اور وہ مائیکرو سیکنڈز میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ترسیل ڈاک کا سلسلہ قائم رکھے ہوئے ہے۔ گلوبل ویلیج بن گئی ہے یہ دنیا اور عنقا ہوگئے ہیں قریہ قریہ بسنے والے کلی وال، آہ کہ

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام

اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر

متعلقہ خبریں