Daily Mashriq


حکومت وقت!ذرا دھیان سے

حکومت وقت!ذرا دھیان سے

سیاست میں سمت بہت اہم ہوتی ہے لیکن سمت ہی سب کچھ نہیں ہوتی ۔ سیاست میں ساتھی بھی بہت اہم ہوتے ہیں ۔ ایک بالکل درست سمت والا سیاست دان ، رہنما اپنے ساتھیوں کے نامناسب رویوں کے باعث کئی محازوں پر شکست کھا سکتا ہے ۔ کئی بار اسکے یہ ساتھی اسکے ایسے زوال کا سبب بنتے ہیں کہ اس کے لیے اپنی ہی باتوں کی توجہیہ پیش کرنا ہو جاتا ہے ۔

اس حکومت کو ابھی عنان اقتدار سنبھالے ایک مہینے سے کچھ زائد کا عرصہ ہوا ہے تبدیلی کے خواہشمند عوام ، اپنی نظروں میں امید بھرے ان حکمرانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ ان نگاہوں کا اس حکومت کے ایک مخصوص طبقے پر بہت دبائو ہے ۔ اس مخصوص طبقے کے علاوہ حسب معمول فعلی بٹرے ہیں جو وقت آنے پر کسی بھی سیاسی جماعت کا علم نہایت آسانی سے اٹھا لیا کرتے ہیں ۔عمران خان کی سوچ بڑی مثبت ہے ، پاکستان سے ان کی محبت اورارادوں کی درستگی کے حوالے سے کس کو کوئی شک نہیں لیکن کئی باتیں ایسی ہیں جن کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔ عمران خان کے ساتھیوں میں ، بہت تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو محض منتخبین ہونے کے باعث ، پی ٹی آئی کی صفوں میں شامل ہیں اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو عمران خان کے قریبی ہوچکے ہیں ۔ ان میں سے کسی کی نیت پر شک نہیں ۔ ایک بڑے لیڈر کا کمال ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک عمومی آدمی کو بھی اپنا سنہرا رنگ لگا کر خاص بنا دیتا ہے ۔ لیکن سیاست میں ترجیحات بہ اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔عمران خان کے انہیں منتخبین کی فہرست میں ان لوگوں کی تعداد بے شمار ہے جن کی ترجیحات بظاہر تو عمران خان اور پی ٹی آئی کے منشور سے مل رہی ہیں ۔ وہ شاید اپنے آپ کو بدلنے عمران خان کی پسند یا پی ٹی آئی کی مقبولیت کے پیمانوں سے ڈھالنے کی کوشش تو کر رہے ہیں لیکن کئی باتیں ایسی ہی جن کا انہیں ادراک ہی نہ ہوگا۔ احساس تک نہ ہوگا۔اس لیے وہ ان باتوں میں تبدیلی میں کامیاب بھی نہ ہو سکیں گے ۔ یہ باتیں سمجھنا اور ان کے اثرات کا ادراک بہت اہم ہے ۔ کیونکہ جب تک یہ باتیں حکومت وقت کو پورے طور سمجھ نہ آجائیں وہ ان کا علاج کرنے میں بھی ناکام رہیں گے ۔ عمران خان صاحب نے منتخبین کا جو فارمولا اپنایا وہ کامیاب رہا ۔ کیا واقعی ان کی کامیابی اس فارمولے کی مرہون منت ہے ، اس سوال کا جواب ابھی باقی ہے ۔ ایک اندازہ تو یہ ہے کہ اس فارمولے کے باعث انہیں وہ کامیابی حاصل ہوئی جس کے لے وہ گزشتہ بیس سالوں سے جدوجہد کر رہے تھے ۔ ان کے ارد گرد بے شمار لوگ ایسے تھے جو انہیں یہ مشورہ دیتے تھے ، اس فارمولے پر عمل پیراہونے کی بات کرتے تھے اور انہیں اس کی منطق سمجھانے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ پے درپے ناکامیوں نے عمران خان کو بالآخر اس بات پر قائل کر لیا کہ اس فارمولے پر عمل کے بعد ہی انہیں کامیابی حاصل ہوگی ۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان کا خیال ہے کہ ان منتخبین کو وہ اپنے اور پی ٹی آئی کے منشور کے رنگ میں ڈھال سکتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے وہ درست سوچ رہے ہوں اور اگر وہ اس سمت میں کام کریں تو کامیابی حاصل ہولیکن ایک طرز فکر یہ بھی کہتا ہے کہ ان لوگوں کو سمجھانا، تبدیلی کی طرف مائل کرنا اتنا آسان نہ ہوگا۔ یہ لوگاک عمر سے اس رویئے کے حامل ہیں ۔ پروٹوکول کے جو مسائل بار بار دکھائی دیتے ہیں ، اس کی وجوہات میں بھی یہی ہیں ۔ پھر خواہشات کا بھی بہت عمل دخل ہے ۔ دوسروں کو عیاشی کرتے اک عمر دیکھا ہے ، اب اپنی باری آئی ہے تو وزیراعظم کی طبعیت ان کی خواہشات پر بار بن گئی ہے ۔ یہ لوگ اپنے رویئے مکمل تبدیل نہیں کر سکتے ۔ انہیں وزیراعظم کے رویئے میں کوئی منطق بھی دکھائی نہیں دیتی ۔ پھر یہ وہ لوگ ہیں جو ذہنی طور پر اس تبدیلی سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ یہ وہی لوگ ہیں ، ان کی وہی عادت ہیں جن کے باعث مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی پر انگلی اٹھائی جاتی ہے ، مفادپرست ،مافیا کے لوگ ، کسی کا کوئی کاروبار ہے ، کسی کی کوکچھ اورترجیحات ہیں ، ان لوگوں کا علاج کیسے ممکن ہوگا، ان کی عادتیں پختہ اور رویوں میں بگاڑ ان کی شخصیتوں کا حصہ ہے ۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال یہ بھی ہے کہ ان انتخابات میں دراصل عمران خان کو ان منتخبین کی ضرورت بھی نہ تھی ۔ عمران خان اپنے ہی لوگوں کے ساتھ یہ انخاب اسی اکثریت سے جیت سکتے تھے ۔ اب کی بار لوگوں نے ، سیاست دانوں کو نہیں تبدیلی کی خواہش کو ووٹ دیا ہے ۔ یہ بوجھ عمران خان نے بے وجہ ہی اپنے کاندھوں پر لادلیا ہے ۔ اس کی مکمل اصلاح بھی ممکن نہ ہوگی ۔ اور سی پیک اس حکومت کی تباہی یا ناکامی کا باعث بنیں گے کیونکہ وہ سُدھر نہ سکیں گے ۔یہ سدھاران کی خواہش بھی نہیں ۔ لوگوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز جلد ہی ہوجایا کرتا ہے ۔ لوگ بھی طویل عرصہ تک قربانی نہ دیں گے ۔ ایسے میں اگر عوام کو تبدیلی دکھائی نہ دینے لگی ، محسوس نہ ہونے لگی تو معاملات میں بگاڑ دکھائی دینے لگے گا۔ ابھی حکومت لوگوں کو نفسیاتی طور پر مطمئن کرنے کی کوشش تو کر رہی ہے ، لیکن گاڑیوں ، بھینسوں کی فروخت اور گورنروں کی رہائش گاہوں کو عوام کے لیے کھول دینے سے ہی تسلی نہ ہوگی ۔ گورنروں کی رہائش گاہوں پر مغرب کی طرح ٹکٹ لگنا چاہیے تاکہ ان کی دیکھ بھال ممکن ہو منتخبین کی مجبوریوں اور ایجنڈے کا بھی خیال رکھا جائے تاکہ معاملات کی درستگی ساتھ ساتھ ہوتی رہے ۔ محض کسی کی تقریر کرنے کی صلاحیت بھی اس کے وزیر بنادیئے جانے کی دلیل نہیں ہونی چاہیئے ۔ اس ملک کے اداروں کی اہمیت محسوس کرنا اور اس کا درست تجزیہ بہت اہم ہے ، وگرنہ ادارے ڈوبنے لگین گے اور یہ الزام ان کی حکومت کے سر ہوگا۔ یہ وقت بہت اہم ہے ۔ اس کی اہمیت کا اندازہ حکومت وقت کو ہنا بہت ضروری ہے ۔

متعلقہ خبریں