Daily Mashriq


شہباز شریف کی گرفتاری

شہباز شریف کی گرفتاری

مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کی نیب کی طرف سے گرفتاری کو پی ٹی آئی کے سیاسی ایجنڈے کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام سے جو وعدہ کیا تھا وہ ایفا کر دیا، اس طرح پی ٹی آئی کی قیادت اپنے کارکنوں میں اعتماد قائم کرنے میں بظاہر کامیاب ہو گئی ہے۔ شہباز شریف کو سستے گھر بنانے کے ایک منصوبہ ’’آشیانہ سکیم‘‘ میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسین فواد کے انکشافات اور سیاسی دباؤ کے الزامات کے بعد شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے۔ فواد حسین فواد کے علاوہ شہباز شریف کے قریب جانیوالے لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ احد چیمہ بھی کئی ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں۔ وہ بھی آشیانہ سکیم میں بے قاعدگیوں کے الزام میں ہی گرفتار کئے گئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی شہباز شریف کی گرفتاری پر احتجاج کیا ہے۔ سردار ایاز صادق کی سربراہی میں اپوزیشن کے ارکان قومی اسمبلی پر مشتمل ایک وفد نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر سے ملاقات کی اور ان سے اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری پر بحث کیلئے فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم اسپیکر قومی اسمبلی جنہیں قواعد کے مطابق نیب نے شہباز شریف کی گرفتاری سے پہلے مطلع کر دیا تھا، قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلانے پر تیار نہیں ہیں۔ اپوزیشن کے وفد سے انہوں نے یہی کہا ہے کہ وہ دو ہفتے میں اجلاس بلائیں گے۔ اس معاملہ میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سردمہری کے علاوہ وزیراطلاعات کے اس بیان نے بھی اپوزیشن کی تشویش اور سیاسی انتقامی رویہ کی افواہوں میں اضافہ کیا ہے کہ ابھی تو ایک شخص گرفتار ہوا ہے ابھی اور بہت سی گرفتاریاں ہوں گی۔ فواد چوہدری نے اگرچہ یہ بھی کہا ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے اور یہ نیب کا دائرہ اختیار ہے اور اسی نے یہ اقدام کیا ہے لیکن میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے نمائندے جب اسی سانس میں یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ ابھی مزید بڑے لوگ گرفتار ہوں گے تو ایسے احتساب کو سیاسی بنانے کا مزاج ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ بدعنوانی کا خاتمہ اور ملک کے بڑے سیاستدانوں کی بد عنوانی کو سامنے لانے اور اس پر انہیں سزا دلوانا تحریک انصاف اور عمران خان کا سیاسی سلوگن رہا ہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد بھی وزیراعظم کے علاوہ حکومت کے دوسرے نمائندے گاہے بگاہے اس نعرے کو حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے اور اہم معاملات پر غیر واضح پالیسیوں کی کمزوریوں کو چھپانے کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد عمران خان کی دھواں دار تقریر میں بھی ان الزامات کی گونج سنائی دی تھی۔ پھر نیب کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نومنتخب وزیراعظم سے ملاقات کی اور عمران خان نے انہیں احتساب کے عمل میں ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ یہ ملاقات کرپشن کو سیاسی نعرہ بنانے والی سیاسی پارٹی کے ہمدردوں کو خوش کرنے کیلئے تو شاید ضروری تھی لیکن عدل کی فراہمی کے تناظر میں یہ فاؤل پلے تھا۔ قومی احتساب بیورو آئینی ادارہ ہے۔ اسکے سربراہ کو اپنا کام کرنے کیلئے کسی حکومت سے سرپرستی کی درخواست کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی حکومت نیب کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس کے باوجود جب وزیراعظم نیب کے سربراہ سے ملتے ہیں اور انہیںتعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں تو یہ رویہ اداروں کی خودمختاری پر سوالیہ نشان کے طور سامنے آتا ہے۔ چند روز میں ضمنی انتخاب ہونیوالے ہیں۔ یہ انتخابات قومی اور پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی سیاسی قوت میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امید وار ہی تحریک انصاف کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہوں گے۔ ان انتخابات سے عین پہلے شہباز شریف کی گرفتاری کے سیاسی مقاصد اور پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کرپشن کیخلاف جنگ جیتنے کیلئے اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاستدانوں کا احتساب ضرور ہونا چاہئے لیکن اگر ملک میں احتساب کا ادارہ صرف ایک خاندان اور ایک سیاسی جماعت کا راستہ روکنے کیلئے استعمال ہوگا تو اس کے بارے میں شبہات پیدا ہونا اور سوال اُٹھنا ناگزیر ہے۔ پاکستان میں حکومتی، عدالتی اور سیاسی معاملات کو خلط ملط کیا گیا ہے۔ اسی لئے شہباز شریف کی گرفتاری سے یہ شبہ قوی ہو رہا ہے کہ نیب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں سیاسی گرفتاریوں کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے کیونکہ قانونی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ شریف خاندان پر قائم ہونے والے کیسز کمزور ہیں، چند ماہ کے بعد جب سیاستدان رہا ہو جائیں گے تو عوام میں جائیں گے اور پی ٹی آئی کی حکومت مالی مشکلات کے باعث عوامی مقبولیت کھو رہی ہوگی تو حالات یکساں مختلف ہوں گے اسلئے پی ٹی آئی کی قیادت ایسے عمل سے گریز کرے جو جمہوری روایات کیخلاف ہو۔

متعلقہ خبریں