Daily Mashriq


سیاسی انتقام مگر کیسے؟

سیاسی انتقام مگر کیسے؟

آیئے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ گرفتاری سیاسی انتقام کس طرح ہے؟ شہباز شریف گرفتار ہوئے تو اپوزیشن نے سیاسی انتقام کا الزام عائد کیا اور تحریک انصاف کی حکومت پر کڑی تنقید کی۔ میرے نزدیک جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں نیب آزادانہ طور پر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہے اور نیب کے معاملات میں مسلم لیگ(ن) کی سابقہ حکومت اور تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کا کوئی عمل دخل دکھائی نہیں دیتا ہے لیکن پھر بھی اگر کوئی ٹھوس مداخلت کا ثبوت پیش کرتا ہے تو میرے سمیت بہت سے لوگ اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اب تک کسی نے کوئی ایک ٹیلی فون کال ایسی ریکارڈ نہیں کی جس میں جسٹس قیوم کیس کی طرح کہا جا رہا ہو کہ فلاں شخص کے مقدمے کا جلد فیصلہ سنانا ہے یا اُسے سزا دینی ہے۔ آج نیب پر اس قسم کا پریشر دکھائی نہیں دیتا جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں تھا یعنی نیب اُس وقت اپنے احتساب میں سلیکٹو تھا جو حکومت کا حصہ بن گیا وہ نیب کے شکنجے سے آزاد ہوگیا اور مخالفین کو پھانس لیا گیا۔امر واقع یہ ہے کہ شہباز شریف جس مقدمے میں گرفتار ہوئے ہیں اُس کی انکوائری اور تفتیش ان کے اپنے دور سے نیب میں چل رہی ہے۔ احد چیمہ فروری2018 میں گرفتار ہوئے، ایل ڈی اے کے چیف انجینئر اسرار سعید اور ایک دوسرے افسر عارف بٹ بھی اُس وقت پکڑے گئے جب شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے، ان دونوں افسران نے اعترافی بیان بھی دیئے کہ ان سے غلط کام سرزد ہوئے، فواد حسن فواد اور پنجاب کے وزیر صحت سلمان رفیق نے مسلم لیگ(ن) کے دور میں ہی نیب کی پیشیاں بھگتیں، عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نیب نے کرپشن کیخلاف کارروائیاں کی ہیں ان میں سیاسی انتقام ڈھونڈنا ٹھیک نہیں ہے۔ شہباز شریف کو گرفتار کرنا نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا فیصلہ ہے اس میں تحریک انصاف کی حکومت کی مداخلت کہاں سے آگئی؟ شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کے مرکزی ملزم ہیں، انہوں نے آج نہیں تو کل پکڑے جانا تھا، 14ارب روپے کا یہ اسکینڈل شہباز حکومت کی نااہلی اور اقرباء پروری کی داستان ہے۔ قومی خزانے کو شیرمادر سمجھ کر لٹانے والے رہنماؤں کی بے حسی کے قصے تو پاکستانی عوام سنتی آئی ہے یہ پہلی مرتبہ سمجھ میں آیا ہے کہ چالاک حکمران اپنا جھوٹا تشخص قائم کرتے ہیں لیکن درون خانہ وہ کچھ اور وارداتوں میں مصروف ہوتے ہیں۔

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

ایک طرف شہباز شریف کا عوام پر تاثر ہے کہ یہ دن رات کام کرتے ہیں۔ ’’پنجاب سپیڈ‘‘ کی اصطلاح ان کے حوالے سے بولی گئی مگر آشیانہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ سات سالوں سے اس منصوبے پر ماسوائے اقرباء پروری اور جعلی کارروائی ڈالنے کے کوئی کام نہیں ہوا۔ چوہدری لطیف اینڈ سنز کو PPRAرولز کے مطابق ٹھیکہ دیا گیا لیکن نام نہاد جعلی کمپنی کاسا ڈویلپرز کو کنٹریکٹ دینے کیلئے آٹھ ماہ بعد یعنی ستمبر2013 میں لطیف اینڈ سنز کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا۔ اس وقت کی فنانس سیکرٹری طارق باجوہ نے اپنی انکوائری رپورٹ میں لکھا کہ لطیف اینڈ سنز کو پیپرا رولز کے مطابق کنٹریکٹ دیا گیا تھا۔ اس ٹھیکے کو منسوخ کرنے کا جرمانہ پنجاب حکومت نے 59ملین روپے کیوں ادا کیا؟ دو سال تک یہ منصوبہ کٹھائی میں پڑا رہا۔ بعدازاں اسے کاسا ڈویلپرز کے حوالے کیا گیا جس نے تین سال گزر جانے کے باوجود کوئی کام نہیں کیا۔ اربوں روپے مالیت کی زمین پر کم وسائل والوں کیلئے بنائے جانیوالے مکانات سات برس بعد بھی نہ بن پائے۔ نام نہاد ’’پنجاب سپیڈ‘‘ کا یہ ہے ایک اور تاریک پہلو۔ صاف پانی کمپنی اسکینڈل میں بھی نیب کی فائنڈنگ یہ ہے کہ اربوں روپے ضائع کرنے کے باوجود ایک بوند صاف پانی مہیا کرنے میں شہباز شریف کی بنائی ہوئی کمپنی ناکام ونامراد رہی ہے۔ کیا لیگی قیادت یہ چاہتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نیب کو ان غیرقانونی کاموں اور قومی خزانے کو پہنچائے گئے اربوں روپے کے نقصان کے احتساب روکنے میں کوئی کردار ادا کرے۔ اول تو ایسا سوچنا بھی ممکن نہیں ہے لیکن ایک لمحے کیلئے اگر فرض کر لیا جائے کہ تحریک انصاف اپنے آپ کو کسی الزام سے بچانے کیلئے مسلم لیگ(ن) کیساتھ تعاون پر آمادہ ہو بھی جاتی ہے تو وہ کیونکر اور کیسے نیب کے معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے؟ مسلم لیگ (ن) کی قیادت تاثر دے رہی ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری کا ضمنی انتخاب سے تعلق ہے لیکن یہ بات کرتے ہوئے نوازشریف اور مریم نواز کی رہائی کو نظرانداز کیوں کیا جا رہا ہے؟ ہر بات میں سازش تلاش کرنا اور ہر اقدام کے پیچھے کوئی خاص وجہ ڈھونڈنا ایک ایسا طرز عمل ہے جو بحیثیت قوم ہماری سرشت میں شامل ہو چکا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ ہمارے قومی رہنما اس طرح کے راگ الاپتے رہتے ہیں۔ بیمار ذہنیت کے حامل ہمارے قومی رہنماؤں نے قوم کو بھی ذہنی بیمار بنا دیا ہے جو سازش کرنیوالے ہوتے ہیں اور جنہیں ہر اقدام کو کنٹرول کرنے کی عادت ہوتی ہے انہیں لامحالہ ہر کام اور عمل میں سازش اور پس پردہ ہاتھ دکھائی دیتے ہیں۔ مسلم لیگ نے پاکستان میں جس طرح کا طرز حکمرانی متعارف کرایا اُس میں درج بالا کام یونہی ہوتے تھے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں یہ بدگمانی بلاجواز قرار دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے یا کسی اور وجہ سے اداروں کی آزادی میں مداخلت کی مرتکب ہوگی چونکہ اب تک کا اس کا ٹریک ریکارڈ یہی ہے۔

متعلقہ خبریں