Daily Mashriq

جعلی کرنسی، سوروں کا ریوڑ اور ناپید ڈاک ٹکٹ

جعلی کرنسی، سوروں کا ریوڑ اور ناپید ڈاک ٹکٹ

معاشرتی ارتقاء کیساتھ شادی بیاہ کی بڑھتی رسومات اور فضولیات میں کمی آنی چاہئے خاص طور پر خیبر پختونخوا کے روایتی سادہ معاشرے میں تو فضولیات کی بالکل گنجائش نہیں ہونی چاہئے لیکن معاملہ اُلٹا ہے شاید اس کی وجہ تعلیم اور شعور کی کمی ہے یا پھر دکھاوے اور بناوٹ کا کلچر لوگوں کو ایسے بھا گیا ہے کہ آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی بدعت تراشی جاتی ہے کہ جو صرف بے ضرر ہی نہیں بلکہ پوری طرح ضرر رساں ہوتی ہے۔ فہم وشعور اور احساس کیلئے زیادہ تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں۔پشاور سے عبدالعزیز جو پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہیں انہوں نے اپنے روزمرہ کے تجربے کی روشنی میں باراتیوں کی جانب سے سڑکوں پر نقلی روپے پھینکنے سے حادثات میں اضافہ کے خطرات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے جعلی کرنسی نوٹوں کو اصلی سمجھ کر اندھا دھند ان کو اُٹھانے کیلئے سڑک کی طرف لپکتے ہیں اور گاڑی کی زد میں آتے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ باراتی ایسا نہ کریں، عبدالعزیز نے جس بات کی نشاندہی کی ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس بہانے جعلی نوٹ چھاپنے والوں کو آزادی ملتی ہے اس قسم کے جعلی نوٹ گاؤں اور قصبات میں دھوکہ دہی کیلئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں، اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی کرنسی کی نقل چھاپنے کی قانونی طور پر ممانعت ہونی چاہئے اور خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف جعلسازی کے مقدمات کا اندراج ہونا چاہئے۔ راستے میں پولیس جس بارات کے باراتیوں کو ایسا کرتے دیکھ لے تو بارات روک کر باراتیوں کیخلاف کارروائی کی جانی چاہئے تاکہ معصوم بچوں کو دھوکہ دینے اور حادثات سے بچایا جاسکے۔دیر پائیں سے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے ایس ایس اساتذہ کے کاغذات ایک ماہ سے زائد عرصے سے ڈی ای او آفس سے اسلئے نہیں بھیجے جارہے ہیں کہ ان کے پاس ڈاک ٹکٹ موجود نہیں یہ شکایت تین چار اساتذہ نے ایک برقی پیغام میں کی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ڈی ای او آفس کو اتنا بجٹ تو آتا ہوگا کہ ڈاک خرچ چلایا جاسکے۔ سرکاری ڈاک پر ویسے بھی زیادہ ٹکٹ نہیں لگتے یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ محض اس کی خاطر اساتذہ کے کاغذات ویریفکیشن کیلئے نہ بھیجے جاسکیں۔ سرکاری معاملات میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر تاخیر کے باعث ملازمین اور عوام کی تکالیف ومشکلات کا عدم ادراک اور خواہ مخواہ کی تاخیر بابوؤں کا وتیرہ بن گیا ہے۔ بہرحال ڈی ای او آفس جتنا جلد اساتذہ کے کاغذات برائے تصدیق بھجوائے اتنا اچھا ہوگا، نظامت تعلیم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قسم کے معاملات پر نظر رکھے۔خیرآباد نوشہرہ سے سماجی کارکن عمران تبسم نے دریائے کابل اور دریائے سندھ کے راستے اٹک کے جنگلات سے سوروں کے ریوڑ کی خیرآباد بازار، جموں روڈ، پٹھان ہسپتال، شعبان اور شیخان کے محلہ جات میں رات ہوتے ہی گھس آنے اور لوگوں پر حملے، فصلوں اور باغات کی تباہی کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے ٹی ایم او جہانگیرہ سے سوروں کو مارنے کی درخواست کی تو انہوں نے ایسا کرنے پر وائلڈ لائف کی جانب سے اندراج مقدمہ کا عذر پیش کیا۔ سوروںکے ریوڑ کی علاقے میں شادی کی ایک تقریب پر حملہ میں ایک بچہ اپاہج بن چکا ہے، لوگ عشا وفجر کی نماز کیلئے نہیں جا سکتے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور عوام کی زندگیوں اور معمولات کیلئے رکاوٹ اور خطرات کا باعث معاملہ ہے، لوگوں کا تحفظ سوروں کی حفاظت سے کہیں بڑھ کر ضروری ہے۔ اس ضمن میں مزید غفلت کی گنجائش نہیں، حکام کو فوری طور پر حرکت میں آنا چاہئے۔واٹر مینجمنٹ ایری گیشن ڈائریکٹوریٹ فاٹا کے2004سے کام کرنے والے ملازمین کو پشاور ہائیکورٹ نے2013ء میں مستقل کرنے کا حکم جاری کیا، بعد ازاں سپریم کورٹ سے بھی یہی فیصلہ آیا لیکن محکمہ آبپاشی کے حکام اس کے باوجود ملازمین کو مستقل کرنے سے انکاری ہیں، کیا یہ قانون کی حکمرانی اور انصاف ہے؟ یہ سوال واٹر مینجمنٹ آفیسرز اور اہلکاروں نے کیا ہے۔ بالکل بھی یہ قانون کی حکمرانی اور انصاف نہیں بلکہ عدالت کے احکامات ماننا اور بلاتاخیر لاگو کرنا متعلقہ محکمے کی ذمہ داری ہے۔ ایسا نہ کرنے پر توہین عدالت کا ارتکاب ہوتا ہے جس کی الگ سے سزا ہے۔ سکریٹری ایری گیشن اس معاملے کو جلد سے جلد نمٹائیں، اگر عدالت عالیہ وعدالت عظمیٰ کے احکامات کی پابندی نہیں ہوگی تو پھر لوگ انصاف لینے کیا خود بندوق لیکر نکلیں۔ لوگوں کو اس پر مجبور نہ کیا جائے، وزیر آبپاشی کو معاملے کی انکوائری کرانے کی ضرورت ہے۔بٹ خیلہ بازار سے ایک تاجر نے اپنے علاقے میں افغان مہاجرین کو پاکستانی شناختی کارڈ کے اجراء پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بعض افراد کی نشاندہی بھی کی ہے جس کا یہاں تذکرہ بوجوہ ممکن نہیں، ہمارا مقصد متعلقہ اداروں تک شکایت پہنچانا ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بہت سے افغانیوں کے پاس پاکستان کا قومی شناختی کارڈ ہے اور وہ بڑے فخر سے لوگوں کو بتاتے بھی ہیں کہ انہوں نے کتنی رقم خرچ کرکے یہ شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں۔ ایسا کرنے پر مقامی لوگوں کا غم وغصہ بجا ہے، نادرا اور دیگر سرکاری اداروں کو اس قسم کی صورتحال میں خواب غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے، کم ازکم معلوم افراد کیخلاف تو کارروائی ہونی چاہئے۔ میرے خیال میں مشکوک فیملی ٹری کے حامل شناختی کارڈ بنانے والوں کی چھان بین میں جعلی شناختی کارڈ والے جلدی سے پکڑے جائیں گے، لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے نام اور شناخت نادرا کو بھی بھجوائیں اور معززین علاقہ ان کیخلاف کارروائی پر بھی زور دیں۔ نادرا اہلکاروں کو رقم لیکر افغانیوں کو اپنے ملک کا شہری ظاہر کرنے پر کچھ تو غیرت وحمیت کا پاس رکھنا چاہئے۔قارئین کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ نمبر ان کی شکایت کی صرف اور صرف ایس ایم ایس کے ذریعے وصولی کیلئے وقف ہے نمبر بند بھی ہو تب بھی اپنا پیغام بھجوائیں۔ کوشش کی جائے شکایت واضح لکھیں، نام اور علاقہ بھی لکھنا ضروری ہے، نام کی اشاعت نہ چاہیں تو اس کا احترام کیا جائے گا۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں