Daily Mashriq

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

یہ ان دنوں کی بات ہے جب دنیا گلوبل ویلیج نہیں بنی تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے ایک ٹیلی فونک کال کی دوری پر نہیں رہتے تھے۔ ان کو ایس ایم ایس یا ای میل کے ذریعے ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہنے یا ایک دوسرے کے مافی الضمیرسے آگاہ ہونے کی سہولت حاصل نہ تھی۔ وہ ایک دوسرے سے چیٹ کر سکتے تھے نہ ویڈیو کال کا تبادلہ ہو سکتا تھا۔ ان کے درمیان الیکٹرونک سوشل رابطوں کا کوئی بھی ذریعہ نہیں تھا کیونکہ ان دنوں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی، نہ کمپیوٹر ایجاد ہوا تھا نہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی جادوگریاں وجود میں آئی تھیں اور نہ بچے بچے کے ہاتھ میں ایک سے ایک بڑھیا موبائیل سیٹ یا ٹیبلٹ ہوا کرتا تھا۔ البتہ ایسا ہونے کے امکانات صاف نظر آرہے تھے جس کے زیراثر دانائے راز پکار اُٹھا تھا

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آسکتا نہیں

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

زندگی تب بھی زندگی ہی تھی، زندگی اب بھی زندگی ہے۔ اُن دنوں دور پار کے لوگ اپنے کسی میٹھے پیارے یا سجن بیلی کی باتوں سے اس کے حال احوال سے صرف اس وقت آگاہ ہوسکتے تھے جب ان کو ان کا کوئی خط، چٹھی یا پتر موصول ہوتا اور وہ خط چٹھی یا پتر ایک مقام سے دوسرے مقام تک اس طرح نہ پہنچتا جس طرح کوئی ایس ایم ایس، ٹیلی فون کال، ای میل یا واٹس ایپ جیسی ایپلیکیشن جا پہنچتی ہے۔ بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے خط پتر بھیجنے والوں کو۔ پہلے تو انہیں چٹھی پتر کے لکھوانے کے مرحلے طے کرنے پڑتے، ایک دوسرے کے ترلے لے لیکر یا منت سماجت کر کر کے کہنا پڑتا کہ چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھدے، حال میرے دل کا تمام لکھدے۔ جب کسی سے چٹھی لکھوانے کا مرحلہ طے ہو جاتا تو اس کو بھجوانے کا مرحلہ طے کرنا پڑتا اور بے چاری نوراں پیغام رساں یا قاصد کبوتر کی منت سماجت یا سو سو طرح کی خوشامد کرتے ہوئے اسے کہتی کہ واسطہ ای رب دا تو جاویں وے کبوترا، چٹھی میرے ڈھول دی پہنچاویں وے کبوترا۔ جس دور میں خط پتر بھیجنے کیلئے قاصد یا پیغام رساں کبوتروں کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں اسے کبوتروں کے ذریعہ ڈاک کا نظام چلنے کا دور کہا جاسکتا ہے۔ جب اس بات کا اندازہ ہوا کہ اک جگہ سے کسی دوسری جگہ تک پیغام رسانی یا چٹھی پتر بھجوانے کیلئے تیز رفتار گھوڑے یا اونٹوں سے بھی کام لیا جاسکتا ہے تو ترسیل ڈاک کیلئے ان سواریوں اور ان کے سواروں سے کام لیا جانے لگا۔ چٹھیاں پتر پیغامات اور پارسلوں کا تھیلا اُٹھائے ایک مقام سے دوسرے مقام تک ایک گھڑ سوار پہنچتا، ڈاک کا تھیلا اپنے پہلے پڑاؤ یا منزل تک چھوڑ کر وہاں رکھی ڈاک کو لیکر زیرو پوائنٹ کی طرف واپسی کا سفر اختیار کرتا جبکہ پہلی منزل یا پہلے پڑاؤ پر اس کی چھوڑی ہوئی ڈاک کو اس کام پر مامور دوسرا گھڑ سوار لیکر اگلی منزل کی جانب روانہ ہو جاتا اور یوں ایک مربوط نیٹ ورک کے ذریعہ ترسیل ڈاک کا سسٹم چلتا رہتا۔ وقت کے گزرنے کیساتھ ساتھ ڈاک کے نظام کو جاری وساری رکھنے کیلئے دخانی جہازوں، ریل گاڑیوں اور ہوائی جہازوں تک کا استعمال ہوتا رہا۔ جب فیراڈے نے بجلی دریافت کی اور گراہم بیل نے ٹیلی فون ایجاد کیا یا مارکونی نے ریڈیائی رابطوں کے سلسلے شروع کئے تو پیغام رسانی کے نظام میں بھی برق رفتاری لانے کی کوشش کی گئی اور یوں میرے 'پیا گئے رنگون وہاں سے کیا ہے ٹیلی فون تمہاری یاد ستاتی ہے' جیسے گیت تخلیق ہونے لگے۔ یہ ابتداء تھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سر اُٹھانے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی۔ اب صرف چٹھی پتر کے ذریعہ لوگ آپس میں مربوط نہیں رہنے لگے ٹیلی فون اور ٹیلی گرام بھی اس کارخیر میں اپنی برق رفتاریاں دکھانے لگے۔ ان دنوں ٹیلی گرام کو تار کہہ کر پکارا جاتا اگر کسی کو بہت ارجنٹ یا تیز رفتاری سے پیغام پہنچانا ہوتا اسے تار ماری جاتی۔ جی ہاں تار مارے جانے کی اصطلاح استعمال ہوتی۔ تار یا ٹیلی گرام شارٹ میسج بھیجنے کی ابتدائی قسم تھی، ایک مقام پر ٹائپ ہونے والے الفاظ میلوں دور ٹائپ ہوکر پرنٹ کئے جاتے اور انہیں ایک کاغذ پر چپکا کر لفافہ میں بندکرکے اس پر تار موصول کرنے والے کا پتہ لکھ کر خط ہی کی صورت میں پہنچایا جاتا، تار بھیجنے کا یہ طریقہ کار انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں بیتے دنوں کی کہانی بن چکا ہے، لیکن یہ اور اس قبیل کی ہر اس کہانی کو آج 9اکتوبر کے دن ہم دہرا دہرا کر بیان کرنا چاہتے ہیں کہ آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں ڈاک کے نظام کا عالمی دن منایا جارہا ہے، ہر سال 9اکتوبر کو ڈاک کے نظام کے عالمی دن منانے کا آغاز 1969میں ہوا لیکن اس سے بہت پہلے 9اکتوبر1874 میں یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) کے نام سے ایک بین الاقوامی تنظیم وجود میں آئی جس نے 9اکتوبر 1969 کو اس دن کو منانے کی گرہ ڈالی اور ساتھ ہی اس بات کا اعلان بھی کیا کہ اس دن یونیورسل پوسٹل یونین کا قیام عمل میں آیا تھا، اسلئے یہ دن ترسیل ڈاک کی اس عالمی تنطیم کی سالگرہ کا دن ہے جس کو ترسیل ڈاک کے نظام کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے، پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں اس دن نمائشوں، سیمینارز اور نئے ڈاک ٹکٹوں کا اجراء بھی کیا جاتا ہے، یہ سلسلہ مدتوں پہلے سے چل رہا ہے کیونکہ دنیا کے گلوبل ویلیج بننے کے باوجود ڈاک کے نظام کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے اور آج کے دن اس دور کو رہ رہ کر یاد کیا جاتا ہے جب اسداللہ خان غالب کہا کرتے تھے

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

متعلقہ خبریں