Daily Mashriq

ہم تم ایک۔۔

ہم تم ایک۔۔

وزیراعظم عمران خان نے جب سے عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لی ہے تب سے انہوں نے سب سے زیادہ ان کا آنا جانا سعودی عرب کا رہا ہے، جن کو پی ٹی آئی کا اقتدار شروع سے کھل رہا ہے وہ تب سے ہی نقاد بنے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں طرح طرح کی گلفشانی فرماتے رہتے ہیں اور اس امر میں موصوف وزیراعظم کے اقتدار سے پہلے کی تقاریر کا حوالہ بھی دیتے رہتے ہیں کہ انہوں نے تو کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت غیرجانبدار رہے گی لیکن وہ تو عالمی معاملات میں سعودی عرب کے شراکت دار بن گئے ہیں۔ بہرحال یہ تنقید کسی حد تک اپنی جگہ رکھتی ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے عمران خان نے ایک مرتبہ سعودی عرب کی یاترا کی تھی اس موقع پر انہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے فرما دیا کہ پاکستان سعودی عرب کیساتھ کھڑا ہے، اس پر بھی ناقدین چیں بجبیں ہوئے لیکن جنر ل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد سے تو ان ناقدین نے ات مچا دی ہے اور باربار دہرایا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جنہوں نے عمران خان اور ان کے وفد کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کمرشل فلائٹ سے جانے سے روکا تھا اور اپنا خصوصی طیارہ جانے لانے کیلئے مرحمت فرمایا تھا، وہ عمران خان کے امریکا کے قیام کے دوران ان کی بعض سرگرمیوں سے ناراض ہو چلے ہیں چنانچہ شہزاد محمد بن سلمان نے اپنا طیارہ اس وقت واپس لے لیا جب وہ واپسی کیلئے محو پرواز تھا، تاہم پاکستان میں سرکاری حکام نے اس بارے میں کوئی خیرخبر نہ دی، بلکہ پی ٹی آئی کے حلقوں کی جانب سے کہا گیا کہ طیارہ میں فنی خرابی پیدا ہوگئی تھی جس کی بناء پر طیارہ واپس نیویارک ہوائی اڈے پر اُتارا گیا، ساتھ ہی یہ امکانات ظاہر کئے گئے کہ عمران خان کی نیویارک میں مصروفیات سے بھارت اور اسرائیل کی بڑی سبکی ہوئی۔ غالباً ان کی جانب سے سازش کی گئی اور عمران خان کی فلائٹ کو نقصان پہچانے کی سعی کی گئی تاہم اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر کئی دوسرے امکانات بھی اُٹھتے ہیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ طیارے میں خرابی کا اعلان کسی سرکاری ادارے کی جانب سے نہیں کیا گیا، دوم امریکی سیکورٹی کا نظام ایسا ہے اور خاص طور پر ایسے موقع پر تو مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ امریکی ایئرپورٹ پر کوئی خفیہ کارروائی کر پائے، اگر طیارہ میں معمولی سی خرابی پیدا ہو جاتی تو پرواز سے پہلے جو ادارے طیارے کو اُڑنے کے قابل ہونا قرار دیتے ہیں وہ کبھی فلائٹ کی اجازت نہ دیتے علاوہ ازیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طیارہ میں خرابی کا علم اس وقت ہوا جب طیارہ کینیڈا کے ٹورنٹو ایئرپورٹ کے قریب یا حدود میں تھا چنانچہ ایوی ایشن قوانین یہ ہیں کہ پائلٹ ایسے ہنگامی حالات میں نزدیکی ایئرپورٹ پر طیارہ اُتارنے کا ذمہ دار ہے چاہے وہ کسی بھی ملک کا ایئرپورٹ ہو کافی فاصلے پر ناقص طیارے کی واپسی قواعد کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

میگزین کے مطابق یہ قابل ذکر بات ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کیلئے اپنے دورہ امریکہ کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ وہ سعودی عرب سے کمرشل طیارے کے ذریعے امریکہ جانا چاہتے تھے لیکن محمد بن سلمان نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ عمران سعودی عرب کے خاص مہمان ہیں اور اس لئے وہ سعودی عرب کے طیارے میں پرواز کر کے امریکہ پہنچیں گے۔ وہ امریکی دورے سے واپس لوٹ رہے تھے کہ انہیں یہ اطلاع ملی کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ان کے جہاز کو درمیانی راستے سے امریکہ واپس جانا پڑے گا اور عمران دوبارہ اپنے کمرشل طیارے سے واپس آگئے۔ انگریزی میگزین نے ایک حیرت انگیز دعویٰ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ طیارے میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی بلکہ محمد بن سلمان کی ناراضگی کے سبب عمران خان کو جہاز واپس کرنے کی ہدایت دی گئی تھیں۔ حکومتی ترجمان نے فرائیڈے ٹائمز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے قطعی بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ رسالہ نے عمران خان کے کامیاب دورے کو شکوک وشبہات میں لانے کی کوشش کی ہے۔ میگزین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان کے حامیوں کو لگتا ہے کہ عمران نے کشمیر، اسلامو فوبیا جیسے تمام خاص امور پر اپنے منفرد انداز میں پاکستان کا موقف پیش کیا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عمران کی تقریر کے دوران ہال آدھا خالی تھا اور عمران خان نے یہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان القاعدہ کے دہشتگردوں کو تربیت دے رہا ہے۔ اخبارکی رپورٹ میں لکھا' اس سفر کے کچھ غیر متوقع نتائج کی وجہ سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نیویارک میں پاکستانی وزیراعظم کی سفارت کاری کے کچھ پہلوؤں سے اتنے ناراض ہوگئے کہ انہوں نے اپنے نجی طیارے کو واپس بلا کر اور پاکستانی وفد کو بے دخل کرکے وزیراعظم عمران خان کی سرزنش کی۔ امکان ظاہرکیا جارہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ترکی اورملائیشیا کیساتھ ملکر مشترکہ اسلامی چینل شروع کرنے کیلئے اعلان سے بھی ناراض ہوگئے ہیں۔ حکومتی ترجمان نے کہا کہ یہ بے بیناد خبرہے، ترجمان نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ کے طیارے کو کینیڈا سے واپس امریکہ بھیجنے کی کال کی خبرناقابل فہم ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے حکمرانوں کے مابین تعلقات بہتر ہیں۔ رپورٹ میں وزیراعظم کے کامیاب دورہ امریکہ کو ناکام بتانے کی سازش کی جارہی ہے جو بھی صورتحال ہے وہ اپنی جگہ ہے تاہم اس امر کی ضرورت ہے کہ جو سیاہ بادل چھائے گئے ہیں ان کو ہٹانا ضروری ہے ورنہ ابہام بڑھتے بڑھتے مایوسی کی دہلیز پھلانگ جائے گا جس میں ہم تم ایک کا فارمولہ ڈوب سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں