Daily Mashriq

چودہ سال بعد بھی متاثرین زلزلہ کی مشکلات کم نہ ہوئیں

چودہ سال بعد بھی متاثرین زلزلہ کی مشکلات کم نہ ہوئیں

آٹھ اکتوبر2005کے قیامت صغریٰ برپا کرنے والے زلزلے کے چودہ سال گزرچکے مگر بحالی کے کام کی حالت یہ ہے کہ اب بھی تحصیل بالاکوٹ کے 86سکولوں سمیت ضلع مانسہر ہ کے 179سکو ل تاحال تعمیر نہ ہو سکے، کئی سکولوں میں بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور بچوں کو بالعموم اور سردیوں میں خاص طور پر سخت مشکلات کا سامنا ہے۔زلزلے سے متاثرہ 179 سکول چودہ سال گزرنے کے بعد کیوںنہ بن سکے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ہمارے تئیں چونکہ اس عرصے میں یہ چوتھی حکومت ہے بنا بریں ہر حکومت پر خاص طورپر درمیانی عرصے کی دو حکومتوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کے دور میں سخت ترین غفلت کا ارتکاب کیا گیا۔ ابتدائی حکومت میں ظاہر ہے انسانی جانوں کو بچانے اور ان کو ازسرنو بسانے پر توجہ دی گئی آخری دور حکومت کے ابتدائی سال ہیں لیکن من حیث المجموع دیکھا جائے تو ان تمام حکومتوں کی کارکردگی اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی وصوبائی اداروں کا کام نا تسلی بخش بلکہ مایوس کن ہے۔بالاکوٹ کی تباہی کے بعد بکریال سٹی بنانے کی بڑی تگ ودو کا تاثر دیا گیا، حالت یہ ہے کہ ہنوز اس کیلئے زمین کا حصول بھی ممکن نہیں ہوسکا ہے کجا کہ شہر بس جائے۔ ادارے قائم کئے جاتے ہیں ملازمین کی بھرتی ہوتی ہے سربراہی پر مقتدریں قابض ہو جاتے ہیں اور پھر چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔ کیا اس کا بھی کوئی عدالت نوٹس لے گی اس کی بھی نیب تحقیقات کرے گی اور حکومت یہاں بھی احتساب کی ضرورت محسوس کرے گی اگر یہ تکلف گوارا کیا گیا اور معاملات کی درست چھان بین کی گئی تو ہوشربا صورتحال سامنے آنے کا امکان ہے لیکن اس کا امکان اسلئے نہیں کہ دیکھتے جانتے تغافل برتا جارہا ہے جس کی وجہ جاننا مشکل نہیں۔

ڈاکٹرزاور صوبائی حکومت اعتدال کا راستہ اختیار کریں

محکمہ صحت کی جانب سے صوبے کے تقریباً تمام ہسپتالوں میںطبی عملے کی ہڑتال کی وجہ سے او پی ڈیز اور آپریشنوں کا نظام بری طرح سے متاثر ہونے کی تصدیق صوبائی حکومت کیلئے لمحہ فکریہ اور فوری طور پر درمیانی راستہ نکالنے کی مساعی اختیار کرنے یا پھر جو بھی مناسب طریقہ ہو اُسے اختیار کر کے داکٹروں کی ہڑتال ختم کرنے کی سنجیدہ سعی کرنی چاہئے۔ پشاور کے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کیساتھ ساتھ ضلع میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں میں بھی او پی ڈیز سے بائیکاٹ کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہسپتالوں کی انتظامیہ متبادل انتظامات کیلئے محکمہ صحت کے فیصلے کا انتظار کررہی ہے ہڑتال کی وجہ سے ہسپتالوں میں تمام چھوٹے بڑے آپریشن بھی معطل ہیں جس کی و جہ سے آپریشن کی لسٹ بھی طویل ہوگئی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس سارے عمل میں غریب عوام اور مریض پس کر رہ گئے ہیں مگرانا پرست فریقین کو اس کا احساس نہیں۔حکومت اورڈاکٹر برادری دونوں کو مصالحت اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور دکھی وبیمار انسانیت کی بددعائوں سے بچنے کی کوششیں کرنی چاہئے۔ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ڈاکٹر بھلے ہسپتالوں میں علاج کا بائیکاٹ کریں وہ چاہیں توسڑکوںپر بیٹھ کر بھی مریضوں کا علاج اور ان کی خدمت کر سکتے ہیں یہ درست ہے کہ ایسا کرنا ادھورا اور نا مکمل کام تو ہوگا لیکن نہ ہونے سے کچھ ہونا ہی بہتر ہوگا۔

ثمر باغ کے عوام کا بجلی کی بندش پر مجبوراً احتجاج

تحصیل ثمرباغ دیر میں بجلی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے جس کیخلاف عوام نے پاک افغان شاہراہ پر چار گھنٹے دھرنادیا جبکہ ثمرباغ، کامبٹ، صدبر کلے اور مسکنی کے با زاروں میں تاجروں نے شٹرڈاؤن ہڑتال کر دی ۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ ثمرباغ ایکسپریس لائن جلد ازجلد مکمل کرکے گرڈ سٹیشن پرتعمیرا تی کام شروع کیا جائے۔ امر واقع یہ ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار پوری ہو تو ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ سٹیشن کی عدم موجود گی وعدم تعمیر کے باعث عوام کو بجلی نہیں ملتی ثمر باغ کے لوگوں کو بھی ثمرباغ ایکسپریس لائن کی عدم تکمیل اور گرڈسٹیشن نہ ہونے سے مسائل ومشکلات کا سامنا ہے، مظاہرین کی قیادت کر کے علاقے کے ممبرصوبائی اسمبلی نے بھی اپنی بے بسی اور احتجاج پر مجبور ہونے کا عملی اظہار کیا ہے۔ اس طرح کی صورتحال حکومت اور عوام دونوں کیلئے بہتر نہیں، محکمہ برقیات کے حکام کو پوری کوشش کرنی چاہئے کہ بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر بنایا جائے اور عوام کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں