Daily Mashriq

آسٹریلیا کا پاکستان سے آزاد تجارتی معاہدے پر عدم دلچسپی کا اظہار

آسٹریلیا کا پاکستان سے آزاد تجارتی معاہدے پر عدم دلچسپی کا اظہار

آسٹریلیا نے تجارتی اشیا اور سروسز محدود ہونے کی بنیاد پر پاکستان کو ترجیحی مارکیٹ تک رسائی کی پشکش مسترد کردی۔

دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی جانب سے اشیا، سروسز اور سرمایہ کاری سے متعلق آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر مذاکرات کا باقاعدہ مطالبہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین مالی سال 17-2016 میں سروسز درآمدات کا حجم 66 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا جبکہ اسی عرصے میں برآمدات کا حجم 13 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا۔

دونوں ممالک کے مابین اشیا کے مقابلے میں سروسز کے میدان میں وسیع دوطرفہ تجارتی تعلقات ہیں۔

اس ضمن میں ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آسٹریلوی وفد نے دونوں ممالک کے مابین ایف ٹی اے پر مذاکرات کے آغاز سے متعلق مطالبے کو قطعی طور پر مسترد کردیا۔

ذرائع کے مطابق آسٹریلوی وفد کا ماننا ہے کہ تجارتی معاہدے کے لیے فی الوقت تجارتی حجم میں اتنی وسعت پیدا نہیں ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا کا نیوزی لینڈ، سنگاپور، تھائی لینڈ، امریکا، چلی، ملائیشیا، کوریا، جاپان اور چین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدہ (ایف ٹی اے) ہے ۔

علاوہ ازیں آسٹریلیا اور بھارت کے مابین ایف ٹی اے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے آسٹریلوی وفد سے بنگلہ دیش کی طرز پر ٹیرف میں کمی اور آسٹریلیا کی فروٹ مارکیٹ تک رسائی کا بھی مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان سے آسٹریلیا کینو، امرود، مچھلی، جھینگے، گوشت، چکن برآمد کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان نے مذکورہ اشیا کی برآمدات کی اجازت مانگی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ اشیا کی برآمدات کی اجازت انتہائی سخت شرائط پر ہی مل سکتی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ شرائط پورا کرنے کے بعد ہی ملک سے آم اور جرحی آلات برآمد کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب آسٹریلوی وفد نے پاکستان سے دالیں اور بیج تک رسائی کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے ادارہ شماریات نے بتایا تھا کہ حکومت مالی سال 19-2018 میں بر آمدات کے ہدف سے 5 ارب 3 کروڑ ڈالر پیچھے رہ گئی۔

جون کے مہینے میں ختم ہونے والے مالی سال میں بر آمدات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ایک فیصد کمی آئی جو 22 ارب 91 کروڑ ڈالر رہی جبکہ حکومت کی جانب سے 28 ارب ڈالر کا ہدف طے کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے کامرس ڈویژن کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی میں سست روی، یورپی یونین میں جاری تنازع اور امریکا-چین تجارتی کشیدگی کی وجہ سے ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں