Daily Mashriq

’ریپ‘ کی کوشش کرنے والے نے کہا ’چینی لڑکیاں بہت پسند ہیں‘

’ریپ‘ کی کوشش کرنے والے نے کہا ’چینی لڑکیاں بہت پسند ہیں‘

دنیا میں ’می ٹو مہم‘ کا سبب بننے والے ہولی وڈ کے بدنام زمانہ پروڈیوسر 69 سالہ ہاروی وائنسٹن کے خلاف ایک بار پھر خواتین کی جانب سے نئے الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف مزید اور نئی خواتین کی جانب سے الزامات لگائے جانے کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب کہ ان کی جانب سے جنسی ہراساں کی جانے والی خواتین کی جانب سے لائی گئی کہانیوں کو 2 سال مکمل ہوئے ہیں۔

ابتدائی طور پر ہاروی وائنسٹن پر 5 اکتوبر 2017 کو بیک وقت 22 خواتین نے کئی سال تک جنسی ہراساں کرنے اور ریپ کے الزامات لگائے تھے۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف بعد ازاں دیگر خواتین بھی سامنے آئی تھیں اور اب تک ان پر 100 سے زائد خواتین جنسی ہراساں، جنسی استحصال، بلیک میلنگ اور ریپ کے الزاماگ لگا چکی ہیں۔

ہاروی وائنسٹن پر امریکا کی مختلف عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں اور ان پر جنسی جرائم کے تحت 2 بار فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔

وہ اس وقت ضمانت پر رہا ہیں اور انہیں سزائیں سنائے جانے کے ٹرائل کا آغاز آئندہ برس جنوری سے ہوگا۔

ہاروی وائنسٹن کے واقعے کے بعد ہی دنیا میں ’می ٹو مہم‘ کا آغاز ہوا تھا۔

اس مہم کے 2 سال مکمل ہونے کے بعد اب مزید خواتین ہاروی وائنسٹن کے خلاف سامنے آئی ہیں اور انہوں نے فلم پروڈیوسر پر شدید الزامات عائد کیے ہیں۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف الزامات لگانے والی نئی خواتین میں ان کی سابق اسسٹنٹ چینی نژاد برطانوی خاتون رووینا چو بھی شامل ہیں، جنہوں نے امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ میں ایک تفصیلی کالم لکھا اور کالم سے قبل ایک کتاب میں فلم پروڈیوسر کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔

چینی نژاد برطانوی خاتون رووینا چو نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہاروی وائنسٹن کی جانب سے جنسی استحصال اور ہراساں کیے جانے کے بعد کم سے کم 2 بار خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی۔

رووینا چو نے دعویٰ کیا کہ ہاروی وائنسٹن نے 21 برس قبل ان کا ’ریپ‘ کرنے کی کوشش کی۔

خاتون کے مطابق وہ متوسط خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور انہیں برطانیہ میں بہتر زندگی گزارنے کے لیے نوکری کی ضرورت تھی اور ان کی خواہش تھی کہ وہ ہولی وڈ میں اچھی ملازمت پر کام کریں۔

انہوں نے بتایا کہ طویل کوششوں کے بعد انہیں ہاروی وائنسٹن کی کمپنی میں ’اسسٹنٹ‘ کی ملازمت ملی جس پر انہیں ان کی خاتون دوست نے خبردار کیا کہ فلم پروڈیوسر اچھی شہرت کے مالک نہیں اور ان سے بچ کے رہنا پڑے گا۔

رووینا چو کے مطابق انہوں نے دوست کے خبردار کیے جانے کے بعد محتاط ہوکر ہاروی وائنسٹن کے ساتھ کام کیا اور ابتدائی دنوں میں سب کچھ بہتر چل رہا تھا لیکن بعد میں انہیں بھیانک تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔

چینی نژاد برطانوی خاتون کے مطابق ہاروی وائنسٹن نے ان کا ’ریپ‘ کرنے کی کوشش کے دوران انہیں بتایا کہ انہیں ’چینی لڑکیاں بہت پسند ہیں، کیوں کہ وہ موقع شناس ہوتی ہیں‘۔

رووینا چو کے مطابق انہوں نے ہاروی وائنسٹن کو بتایا کہ وہ ویسی چینی لڑکی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کوئی مشہور خاتون اور فلمی اداکارہ ہیں۔

خاتون کا کہنا تھا کہ ایک دن وینس فلم فیسٹیول کے دوران ہاروی وائنسٹن نے انہیں ہوٹل کے کمرے میں نیم عریاں ہوکر مالش کرنے کا کہا۔

چینی نژاد برطانوی خاتون کے مطابق ہارو وائنسٹن نے ان کے کپڑے اتار پھینکے اور انہیں بستر پر دھکا دے کر انہیں مالش کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی کہا کہ بعد میں دونوں ایک ساتھ نہائیں گے۔

رووینا چو نے الزام عائد کیا کہ ہاروی وائنسٹن نے ان کہا کہ وہ صرف ایک ہی بار یہ کام کریں گے اور یہ کہ چند منٹس کا کام ہی تو ہے۔

چینی نژاد خاتون کے مطابق انہیں ڈر تھا کہ ہاروی وائنسٹن ان کے ساتھ زبردستی کرکے ان کے کپڑے تک پھاڑ دیں گے، تاہم اسی دوران انہیں وہاں سے بھاگنے کا موقع ملا اور وہ ’ریپ‘ سے بچ گئیں۔

رووینا چو کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے دو بار خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی اور یہ سارہ واقعہ انہوں نے اپنی خاتون دوست کو بتایا جنہوں نے انہیں ہمت دلائی اور دونوں نے مل کر ہاروی وائنسٹن کے خلاف کیس کرنے کا فیصلہ کیا مگر انہیں مشورہ دیا گیاکہ فلم پروڈیوسر بہت طاقتور اور امیر ہیں، ان کے خلاف کیس کرنا فضول ہے۔

خاتون نے امریکی اخبار سے بات کرتے ہوئے ہاروی وائنسٹن کے اثر و رسوخ، اںڈسٹری میں ان کے مقام، لوگوں میں ان کے نام کے خوف سمیت اپنے اہل خانہ اور پروفیشنل زندگی پر بھی کھل کر بات کی۔

رووینا چو نے یہ بھی بتایا کہ ہاروی وائنسٹن کے بہت طاقتور ہونے کی وجہ سے وہ 21 سال تک ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکیں اور 2 سال قبل ان کے خلاف کئی خواتین کے سامنے آنے تک بھی وہ خاموش رہیں لیکن اب وہ مزید خاموش نہیں رہیں گی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ہاروی وائنسٹن کی سابق اسسٹنٹ میڈیا کے سامنے آئی ہیں اور انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے پر کھل کر بات کی۔

دوسری جانب رووینا چو کے دعووں کے بعد ہارروی وائنسٹن کے وکلا نے ان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان کے بیانات کو ڈرامہ قرار دیا۔

ہاروی وائنسٹن کے وکلا نے دعویٰ کیا کہ خاتون کے فلم پروڈیوسر کے ساتھ باہمی رضامندی کے تحت 6 ماہ تک جسمانی تعلقات رہے۔

خیال رہے کہ ہاروی وائنسٹن نے دیگر خواتین کے الزامات بھی مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف سازش قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ساتھ خواتین نے باہمی رضامندی کے ساتھ تعلقات استوار کیے۔

متعلقہ خبریں