Daily Mashriq


خارجہ پالیسی کو نئی سمت دینے کا موزوں وقت

خارجہ پالیسی کو نئی سمت دینے کا موزوں وقت

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے سفیروں کی کانفرنس کے اختتام اور چین کے دورے پر روانگی کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ختم نہیں کئے جارہے ہیں بلکہ خارجہ پایسی کو نئی سمت دی جائے گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان حکومتی اور معاشی تعلق موجود رہے گا تاہم پاکستان امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات کو باہمی احترام پر مبنی دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر ہی پاکستان کو نئی سمت کا تعین کرنا ہوگا ۔امریکہ سے تعلقات میںتبدلی اور بہتری لانے سے کسی کو بھی عدم اتفاق نہیں تھا اور نہ ہے امریکہ سے تعلقات کی نوعیت سے عوام ہوں یا خواص کسی کو بھی اتفاق نہیں تھا سوائے حکمران طبقے کے یا پھر اس طبقے کے جن کے امریکہ سے تعلقات اور مفادات تھے۔ ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایسا کوئی دور نہیں گزرا ہے جس پر تنقید نہ ہوئی ہو جس کی وجہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ ایک من مانی کرنے والے بڑے ملک اور احتیاجات کا شکار چھوٹے ملک کے درمیان کا تھا جس کے باعث امریکہ جب چاہتا پاکستان سے اپنی منوانے میں با آسانی کامیابی حاصل کر لیتا تھا ۔ ہمارے تئیں احتیاج کی مجبوری اور قیادت کی معذوری کا یکجا ہونا وہ مشکل تھا جس کا حل ایوان میں دھواں دھار تقریروں اور امریکہ کی مذمت کے باوجود نکلنا ممکن نہ تھا کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکمران جماعت قبل ازیں دو مرتبہ حکمرانی کر چکی ہے جبکہ تیسرے دور حکومت کا بھی اختتامی سال ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حکومت کی پالیسی میں تبدیلی موجودہ حکمرانوں کے عزم اور قیادت کا کمال ہے اس کا کریڈٹ ایک حد تک موجودہ قیادت کو ضرور جاتا ہے لیکن اس معاملے کا اصل محرک اور وجہ بدلتے حالات ہیں جس کے باعث امریکہ اورپاکستان کے درمیان دوریاں پیدا ہو ئیں۔ اگر کہا جائے کہ پاکستان قبل ازیں خطے میں پھنسے ہونے کی بناء پر اس پوزیشن میں ہی نہیں تھا کہ وہ امریکہ کی مخالفت مول سکتا بھارت جیسے دشمن کی ریشہ دوانیوں کے خلاف اسے برائے نام اتحادی درکار تھا جبکہ خطے میں روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت بھی حوصلہ افزاء نہ تھی جبکہ چین ایک دوست ملک ہونے کے باوجود الجھنے کی پالیسی سے بالحکمت اجتناب کی پالیسی پر کار فرما تھا۔ اب روس سے تعلقات میں بہتری آرہی ہے چین سی پیک کے تحفظ کیلئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے برکس اعلامیہ میں گو کہ پاکستان کی بعض کالعدم تنظیموں کا مکو ٹھپنے کا مطالبہ بھارت کے بیانیہ پر چین کی طرف سے پہلی مرتبہ کان دھرنا سمجھا جارہاہے لیکن وسیع تر تناظر میں چین کی جانب سے بھارت کی دلجوئی سے بالواسطہ طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرا کے سی پیک میں بھارت کی شمولیت کی راہ ہموار ہونے سے پورے خطے کا نقشہ اور حالات ہی تبدیل ہوں گے دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی کی وجہ سے بننے والے مسائل تو لا ینحل ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن اگراتفاق کی کوئی صورت بین الاقوامی تجارت میں تعاون کی بھی نکلتی ہے تو خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ بھارت کی جانب سے سی پیک کو ناکام بنانے کے جو جتن ممکن تھے اس کا اختتامی باب کلبھوشن یادیوکی گرفتاری اور ''تمہارا بندر ہمارے پاس ہے '' کے پیغام کی ترسیل کے ساتھ اختتام پذیر ہو چکا دوسری جانب ایران ، بھارت چاہ بہار پورٹ کی صورت میں سی پیک کے مقابل جس منصوبے پر غور کررہے تھے اس کی ناموزو نیت بھی سامنے آگئی ہے بدلتے حالات میں بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحیت کے امکانات بھی معدوم ہو گئے ہیں اس حقیقت کا بھی دونوں ملکوں کو اب احساس ہونا فطری امر تھا کہ لڑائی اور جنگ سے کسی کی جیت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی یہ کسی مسئلے کا حل ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر پاکستان کو مواقع ملنا اور اپنی جغرافیائی محل وقوع کے باعث اسے بدلتی دنیا میں نمایاں معاشی و اقتصادی کردار بننے کے ساتھ ساتھ اہمیت کا حامل ملک بننا بھی اس کا مقدر ہے خلیجی صورتحال او رسعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات میں پہلے کی بہ نسبت تبدیلی بھی پاکستان کیلئے موافقت کے ساماں میں اضافے کا باعث دکھائی دیتی ہے۔ ان حالات میں خارجہ پالیسی کی تشکیل نو کا جو ز ریں موقع ہاتھ آیا ہے اس کا بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔ بلاشبہ امریکہ سے تعلقات کی اہمیت ہے لیکن اس کی اہمیت اور ضرورت میں اب اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں ان میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں اور اس کے مزید امکانات بھی ہوں گے ۔ امریکہ ایک بڑی طاقت ہے تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ جیت کر دنیا میں خود کو منوالیا ہے اس کا واشنگٹن میں بیٹھے لوگوں کو اب اگر ادراک نہیں ہوا ہے تو اس کا ادراک کرنا ہوگا واشنگٹن پاکستان کو مطعون کرنے کی بجائے اس کی قربانیوں اور کامیابیوں پر نظر ڈالے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بجا طور پر کہا ہے کہ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے بعد خارجہ پالیسی کی فارمولیشن ضروری تھی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام حالات کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے اور قومی سلامتی کمیٹی میں اس پر غور و خوض اور مشاورت کی جائے اور ملکی قیادت ایک جامع اور عوامی امنگوں سے ہم آہنگ پالیسی تشکیل دے ۔

متعلقہ خبریں