Daily Mashriq


اقدام درست مگر۔۔۔

اقدام درست مگر۔۔۔

صوبائی حکومت کی جانب سے تمام شہروں میں نکاسی آب کی ناقص صورتحال کا ادراک وا عتراف کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنروں کی سربراہی میں کمیٹیاں قائم کرکے کم از کم اس مسئلے کو ایک سنگین اور حل طلب مسئلہ ضرور تسلیم کر لیا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کارروائی اور تجاوزات کے خاتمے سے شد ید بار شوں کے دوران پانی سر سے اونچا نہ ہو پائے گا ۔ امر واقع یہ ہے کہ قبل ازیں نکاسی آب کے مسائل پر صرف اس وقت ہی توجہ دی جاتی تھی جب سڑکیں تالاب بن جاتیں اور شہری مجبور ہو جاتے ہم سمجھتے ہیں کہ نکا س آب کی جس قسم کی بد ترین صورتحال بارشوں کے دوران دکھائی دیتی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بارش سے قبل ہی نالیاں پلاسٹک کے تھیلوں اور دیگر ٹھوس مواد سے بھری ہوئی ہیں مائع مواد بھی اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کی اگر صفائی نہ بھی ہو سکے تو نالیوں میں اگر پلاسٹک کی باہم گتھم گتھا تھیلیوں کا پہاڑ دیگر سخت مواد پر پڑ انہ ہو اور بارش کے پانی کو بہنے کا موقع ملے تو نالیوں میں پڑے نر م مواد کی از خود قدرتی صفائی میں بارش رکاوٹ نہیں معاون ثابت ہوگی۔ ہمارے تئیں کمیٹی کے ارکان کواولیں فرصت میں نالیوں کے اندر رکاوٹ پیدا ہونے والے مواد کی صفائی پر سب سے پہلے توجہ دی جانی چاہیئے جبکہ سیلابی گزر گاہوں میں رکاوٹیں اور تجاوزات کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ پانی کے شدید بہائو والے رخوںپر پشتے تعمیر کئے جائیں اس کمیٹی کا قیام تو احسن ضرور ہے لیکن حکومت کو اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اگر ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنروں کی خدمات اس طرح بلد یاتی سطح کے معاملات کی نگرانی کے بغیر کام نہیں چلتا تو پھر محکمہ بلدیات کے افسران اورسپروائزری عملے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے کیا ان کا کام صرف بد عنوانی کرنا اور کمیشن خوری رہ گیا ہے جبکہ عوامی نمائندوں کو بھی اپنے کردار و عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ عوامی مسائل کے حل میں اس قدر ناکام ہیں تو کیاعوام نے ان کو اچارڈالنے کیلئے مینڈیٹ دیا تھا ۔

نیم دروں نیم بیروں کی کیفیت کا اختلاف !!

پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب یا ان کی نامزدگی پر اسمبلی کی رکنیت کرنے والے عناصر کی جانب سے اختلافات کا اظہار ان کا جمہوری حق ہے مگر قیادت کو مطعون کرتے ہوئے اسمبلی کی ممبری سے چمٹے رہنے کی قانونی طور پر جو بھی راستہ نکالا جائے اخلاقی طور پر اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ جب جدا تیری منزل جدا میری راہیں کا فیصلہ کر لیا گیا تو پھر اس جدائی کا آغاز وہ تمام عزو شرف بھی واپس کرنا ہی روا ہوگا جولوگ اس درجے کی اخلاقیات کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ان کی باتوں اور الزامات میں وزن ہونے کے باوجود بھی بے حقیقت اور لغو قرار دینا غلط نہ ہوگا ۔ اگر تحریک انصاف میں وہ سب کچھ ہورہا ہے جو الزامات وہ لگا رہے ہیں تو اس جماعت کی رکنیت کا طوق جب تک ان کے گلے میں پڑا ہوا ہے تب تک تو وہ بھی اس کارواں ہی کا حصہ ٹھہرتے ہیں جس کے راہبر پر وہ انگشت نمائی کر رہے ہوتے ہیں ۔ دوسروں پر الزام تراشی اورانگشت نمائی دنیا کا سب سے آسان کام ہے کردار و عمل کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اختلاف ہی کو اخلاص و عداوت دونوں کا درجہ دیا جا سکتا ہے نیم دروں نیم بیروں کی کیفیت مذاق او ردھوکہ دینے میں تو شمار ہوگی اسے دیگر کوئی صورت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی کسی زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔

شہر خموشاں ، ایک تجویز

وزیرا علیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا پشاور میں شہر خموشاں کیلئے پانچ سوکنال اراضی کی نشاندہی کی ہدایت شہریوں کو عزیز و اقرباء کے موت کی صورت میں درپیش مسائل کا بہتر ادراک ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا گر اس کے ساتھ ساتھ قبرستانوں پر قابض مافیاکے خلاف سخت گیر اقدامات کا حکم دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا ۔ قبرستانوں میں تجاوزات اور قبروں کی بے حرمتی شہریوں کا ایک بڑا اور سنگین مسئلہ بن چکا ہے ۔ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے کے مصداق کسی وقف قبرستان میں مردہ دفنانے کے بعد اس کے مقبرے کی خیر مانگتا اور حفاظت بارے مشوش ہوئے بغیر چارہ نہیں ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نہایت قدیم قبرستانوں کے انہدام و صفائی بارے علمائے کرام سے اگر مشاورت کر کے کوئی اقدام کریں تو شہریوں کے آسودہ خاک ہونے کیلئے کافی اراضی میسر آسکے گی اور مافیاکی للچائی ہوئی نگاہوں کو بھی اس طرح سے قدرے روکنا ممکن ہوگا ۔

متعلقہ خبریں