Daily Mashriq


بیانات نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے

بیانات نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے

کیا بریکس اعلامیہ مسترد کرتے ہوئے فقط یہ کہہ دینا کافی ہے کہ د ہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں۔ ہمارے ملک میں دہشت گردی کے تانے بانے وہیں سے ملتے ہیں؟ بہت سادہ بات یہ ہے کہ کالعدم تنظیموں کو مین سٹریم میں لانے کا جو شوق سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو چرایا تھا اس نے مسائل پیدا کئے اور سوال رقص کرتے ہوئے اب دندناتے ہیں۔ لاریب ہم یعنی پاکستان دہشت گردی سے بد ترین طور پر متاثر ہیں۔ 80ہزار کے قریب انسان اس دہشت گردی کا رزق ہوئے۔ معیشت کو جو بے پناہ نقصان پہنچا اس کے بارے چند دن قبل تفصیل کے ساتھ ان سطور میں عرض کرچکا۔ جس سوال سے ہم آنکھیں چرا رہے ہیں وہ کچھ اور نوعیت کا ہے۔ گو بعض اطلاعات کے مطابق چین میں خارجہ امور کے چند ماہرین اس اعلامیہ پر اعتراض کر رہے ہیں۔ قابل غور بات مگر یہ ہے کہ کیا چین میں آزاد شخصی آراء کی آزادی ہے؟ بحث اور رنگ لے جائے گی سو ہم فقط موضوع پر بات کرتے ہیں۔ بلائیے سابق وزیر داخلہ کو کسی کٹہرے میں اور ان سے سوال کیجئے کس کے ایما اور حکم پر انہوں نے ان کالعدم تنظیموں کو وفاقی دارالحکومت میں کھیل کھیلنے کی آزادی دی جن کے بارے میں شواہد موجود تھے کہ ان تنظیموں کے دہشت گرد گروہوں سے روابط ہیں؟قانون کیوں کمزور ہوا نام بدل کر سرگرمیاں جاری رکھنے والوں کے مقابل' حب الوطنی ہر کس و ناکس کے ایمان کا حصہ ہے۔ کوئی بھاشن نہ دے کہ حب الوطنی کیا ہے اور نہ ملکی مفاد اور حب الوطنی کے نام پر دھول جھونکی جاسکتی ہے۔ کمزور مقدمہ محض ہوا میں تلواریں چلانے سے نہیں لڑا جاسکتا۔ اس لئے بہت ادب سے درخواست ہے ہوا میں تلواریں چلانے کی بجائے اصلاح احوال پر توجہ دینا ہوگی۔ دنیا اگر پوچھتی ہے کہ افغان طالبان کا امیر پاکستانی حدود میں ڈرون کاشکار کیسے ہوا اور اس کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ و پاسپورٹ کیسے پہنچا تو اس سوال پر گلے پڑنے کی بجائے اپنے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔کھلے دل سے تسلیم کیجئے کہ افغا نستا ن میں مفادات کے تحفظ کی جنگ میں کود کر ہمیں کچھ نہیں ملا حساب کرلیجئے۔ افغان انقلاب سور (سرخ انقلاب) سے آج تک ہم نے افغانوں میں دوست کتنے بنائے اور دشمن کتنے۔ شمالی افغانستان والے ہمیشہ سے شاکی تھے اور ہیں۔ افغان پشتونوں کا رویہ کیا ہے۔ کرزئی' اشرف غنی' عبداللہ عبداللہ اور خود افغان طالبان ان سب کی پاکستان بارے آراء کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پھر ہم کہاں کھڑے ہیں نان نیٹو اتحادی بن کر کیا کمایا ہم نے۔ افغانیوں کے شکوے ختم نہیں ہوتے۔ پہلے ٹرمپ بولے' بھارت تو ازلی دشمن کی شناخت رکھتا ہے اب بریکس والے۔ ساری دنیا جھوٹی ہے۔ الزامات گھڑتی ہے۔ ہم سے جلتی ہے۔ بس کرہ ارض پر ہم ہی سچے ہیں۔ گامن سچار کی طرح (گامن سچار سرائیکی وسیب کا قدیم لوک کردار ہے) رائی کا پہاڑ بنتا ہوگا الزامات میں کچھ یقینا غلط ہوں گے مگر الزام تراشی کی سیریل کیسے چل پائی؟ اصل بات جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہماری کوئی خارجہ پالیسی تھی نہ ہے۔ ڈنگ ٹپائو پروگرام پر ریاستیں نہیں چلتیں حضور! نا محض ایک ایسے بیان سے زمینی حقائق تبدیل ہوتے ہیں خود جو بیان تاریخ سے متصادم ہو۔ بجا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی ہوئی۔ کسی کو یاد ہے کہ اس کارروائی پر خود ملک کے اندر سے سوالات اٹھے اور اہم ترین سوال یہ تھا کہ کارروائی پسند و نا پسند کی بنیاد پر کیوں کی گئی۔ بندہ پرور سمجھنے کی کوشش کیجئے ناقدین اسی ملک کے شہری ہیں نجیب الطرفین شہری کسی کا بیلنے میں ہاتھ نہیں آیا کہ آپ کی بھد اڑائے۔ اداروں کا احترام ہر شخص کے دل میں ہے مگر پاکستان سب سے اہم ہے۔ ان اداروں سے بھی جو پاکستان کی بدولت ہی توقیر کے حقدار ہوئے۔ خارجہ پالیسی تھی ہی نہیں تو ناکامی کیسی۔ اب بھی وقت ہے کہ مل بیٹھ کر خارجہ پالیسی وضع کیجئے۔ متوازن' غیر جانبدار اور قومی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی، بہت بھاگ لئے ہم حب الوطنی کے ٹرک کے پیچھے ۔ رکئے سانس لیجئے غور کیجئے آخر ساری دنیا ہماری ہی طرف انگلیاں کیوں اٹھاتی ہے۔ ہم نہیں کہتے بھارت سے ہیر رانجھا جیسے تعلقات استوار کیجئے۔ لیکن یہ بھی نہیں چاہتے کہ بھارت دشمنی کا سودا خوانچوں میں فروخت ہو۔ بات تلخ ہے لیکن عرض کئے دیتا ہوں یہ ستر برسوں سے سیاستدانوں کو جو گالیاں دلوائی جا رہی ہیں اور جمہوریت سے نفرت کاشت کی جا رہی ہے کاش ستر برسوں میں ہم نے چراغ محبت جلائے ہوتے۔ دو تین نہیں بلکہ یک حرف بھیج دیجئے بریکس اعلامیہ پر مگر خدا کے لئے اپنی چارپائی کے نیچے بھی ایک بار ڈانگ پھیر لیجئے۔ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے افغانستان میں ہیں تو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنی کہیں اور افغانوں کی سنیں بھی مل بیٹھ کر راستہ نکالنے کی شعوری کوشش کیجئے۔ ایران کی شکایات پر بھی غور کیجئے۔ آپ کو ایران سے شکوے ہیں تو اس کے سامنے رکھئے۔ کسی کو پاکستان کے لئے خدا بننے دیجئے نہ خدا بننے کی کوشش کیجئے۔ بریکس اعلامیے نے جس سفارتی تنہائی کو مسلط کیا ہے اس سے نکلنے کی کوشش بہت ضروری ہے۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں پاکستان ہی اول و آخر ہے۔ پاکستان کا طویل المدتی مفاد اس میں ہے کہ سرحدوں پر گرمی ہونہ دلوں میں کدورتیں' پر امن اور پائیدار تعلقات ہوں پڑوسیوں سے تاکہ عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے اہداف حاصل کئے جاسکیں۔کسی کو فکر ہے اس ملک کے لوگوںکی،60 فیصد کے قریب خط غربت سے نیچے جی رہے ہیں ہر آدمی سوا لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ ایک بار صرف ایک بار مختلف شکلوں کے عالمی سامراجوں کا چوبدار بننے کی بجائے اپنے لوگوں کے کاندھے سے کاندھا ملا کر میدان میں کھڑے تو ہوں۔ اس کے لئے لازم ہے کہ دنیا کے ساتھ اندر سے اٹھنے والی آوازوں پر توجہ دیں۔اصلاح احوال کو یقینی بنائیں اور پاکستان کو حقیقی جمہوری فلاحی مملکت۔

متعلقہ خبریں