Daily Mashriq


کرپشن میں چوتھا نمبر

کرپشن میں چوتھا نمبر

مشہور امریکی جریدے ''فوبرز''نے اپنے تازہ شمارے میں تنوی گپتا کی ایک رپورٹ میں بھارت کو کرپشن میں دنیا کا پہلا نمبر دیا ہے ۔تنوی گپتا نے اس رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اٹھارہ ماہ کی طویل تحقیقاتی سروے رپورٹ کو بطورحوالہ پیش کیا ہے ۔اس رپورٹ کے مطابق 40%رشوت ستانی کی شرح کی بنیاد پر میانمارکرپشن میں پانچویں نمبر پر ،40%پرپاکستان چوتھے نمبر پر ، 41%پرتھائی لینڈتیسرے نمبر پر ، 65%پرویتنام دوسرے نمبر ، انڈیا کو 69%رشوت ستانی کی شرح کی بنیاد پر کرپشن میںپہلے نمبر پر قرار دیا ہے ۔ بھارتیوں کو یوں بھی نمبر ون ہونے ، ورلڈ چیمپئن ہونے کا بہت شوق رہتا ہے کیونکہ وہ دوسرے نمبر پر آنا برداشت ہی نہیں کرسکتے اس لیے یہ خبر کم از کم اس حوالے سے بھارتیوں کے لیے خوشگوار ضرور ہوگی ۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو چوتھے نمبر پر آنے پر ہمیں دکھ تو بہت ہوا ہے لیکن پھر دل کو تسلی دی کہ اتنے برے حالات میں عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر آجانا بھی غنیمت ہے ۔ برے حالات سے ہماری مراد عالمی منظر نامہ ہے کہ دنیا والے اپنے لیے مودی اور ٹرمپ جیسے جنونی منتخب کررہے ہیں اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم وہی نیلی پیلی واسکٹ والے معصوم لوگوں کو باربار خدمت کا موقع دے دیتے ہیں ۔ اب معصوم لوگوں کی موجودگی میں کسی بھی شعبے میں پہلے نمبر پر آنا ناممکن ہی ہوگا ۔ویسے اگر ہم کرپشن کی تعریف کو سمجھنے کی کوشش کریں تو کچھ یہ جواب آئے گا کہ کرپشن اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی ایسا کام کرنا جو قانون یا آئین کے خلاف ہواور جس سے ذاتی طور پر یا کسی دوسرے کو فائدہ حاصل ہو جائے ۔یا کسی کا ایسا عمل جو کسی ایک کے حق کو غصب کرتا ہو اور کسی دوسرے کو کہ جس کا حق نہ ہو اس کو وہ حق دے دیا جائے ۔ اس کے علاوہ بھی کرپشن کی تعریفیں ہوسکتی ہیں لیکن ہمیں بس اتنی ہی سمجھ بوجھ ہے ۔اب ایمنسٹی والوں کو کیا خبر کہ جسے وہ کس کس چیز کو کرپشن کے کھاتے میںڈال رہے ہیں ہوسکتا ہے بعض باتیں ہمارے سماجی رویوں کا حصہ ہوں اور ایمنسٹی والوں نے اسے بھی کرپشن میں ڈال دیا ہو۔ جیسے امتحانوں میں ڈیوٹی پرتعینات افسروں سے اپنے بچے کی سفارش کرنا ۔ یا جیسے تمام تر عبادات کے باوجود بجلی کی چوری کرلینا ، یا جیسے تما م تر دین کو سمجھنے اوراس پر عمل کرنے کے باوجود اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو موروثی جائیداد میں حصہ نہ دینا ، جیسے سرکاری املاک اور وسائل کو بے دریغ استعمال کرنا یا ضائع کرنا ،اگر کرپشن کی تعریف دیکھی جائے تو یہ تمام معاملات بھی کہ جنہیں سماجی سطح پر درخوراعتنا نہیں سمجھتے دراصل یہ بھی کرپشن ہی کی ذیل میں آتے ہیں لیکن ہمیں پولیس یا واپڈا والوں کی رشوت ہی کرپشن دکھائی دیتی ہے ۔ کتنے نامی گرامی کرپٹ ہمارے ہاں اشرافیہ اور V VIPکا درجہ رکھتے ہیں اور ہم ان کے لیے زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے ۔ عالمی سطح پر امریکہ کا عراق اور افغانستان پر حملہ کیا دنیا کی سب سے بڑی کرپشن نہیں تھی کہ جب صرف امریکہ کی اسلحہ ساز صنعت کو بڑھاوادینے کے لیے دنیا کے امن کو داؤ پر لگا دیا گیا تھا ۔ کیا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے دوران اسلحہ کی خرید وفروخت کے ہونے والے اربوں کے سودے کرپشن کے زمرے میں نہیں آتے کہ اسی اسلحے کو کہیں تو استعمال کیا جائے گا ۔

برطانوی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی خاتون رکن کی ایک ویڈیو دیکھی کہ جس میں وہ برطانوی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہی تھیں۔ برطانوی حکومت نے میانمار کی حکومت پر پانچ لاکھ پاؤنڈ کا اسلحہ بیچا۔ خاتون رکن پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت کو اس بنا پر روہنگیا میں انسانی قتل و غارت گری میں شراکت دار ٹھہرادیا ۔اسی روہنگیا کے مسئلے پر عالمی برادری کی خاموشی کیا کرپشن کے زمرے میں نہیں آتی کہ امریکہ میں کسی دیوانے شخص کے ہاتھوں چاقو سے چند لوگ زخمی ہوجائیں توساری دنیا کا میڈیا واویلا شروع کردیتا ہے لیکن میانمار میں انسان اور انسانیت کے تصور ہی کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن چار سو ایک غلیظ چپ طاری ہے ۔ یہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا کا اس کی وجہ سے دنیا کو حقائق بہم پہنچ رہے ہیں ۔ کیا ان حالات میں دنیا کے بڑے بڑے نشریاتی اداروں کے بشمول سارا میڈیا کرپشن کا مرتکب نہیں ہے ۔ وہی میڈیا افغانستا ن میں کسی خاتون پر ہونے والے تشدد کی ایک فوٹیج کی یخنی بنا ڈالتا ہے ، جو شرمین چنائے کی پاکستانی خواتین پر ہونے والے مظالم پر مبنی ڈاکومنٹری فلم پر ایوارڈ ملنے پر دھمال ڈالتا ہے اس میڈیا کا کیمرا کیچڑ میں لت پت روہنگیا مسلمانوں کو دیکھنے میں کیوں دھندلا ہوجاتا ہے کہ جن کے پاؤں تلے زمین نہیں کہ جن پر آسمان بھی نامہربان ہے ۔اسی میڈیا کو کشمیر بھی دکھائی نہیں دیتا جہاں ظلم کی انتہاؤں کو کراس کیا جاچکا ہے ۔ تو پھر کس کرپشن کی بات ہورہی ہے ۔ کرپشن پوری دنیا میں سرایت کرچکی ہے ۔ کیا سیاست، کیا کاروبار ، کیا مذہب ،کیا میڈیا مگر مسئلہ صرف اتنا ہے کہ کرپشن کی Definition محدود ہے ورنہ اسی ڈیفی نیشن کو وسعت دی جائے تو کرپشن میں پہلا ملک امریکہ ہوگا دوسرا برطانیہ تیسرا اسرائیل اور چوتھا انڈیا ، اس ڈیفی نیشن کے مطابق پاکستان کو شایداس فہرست کہیں آخری نمبروںمیںجگہ ملے ۔ بہرحال یہ بھی غنیمت ہے کہ ابھی کرپشن کی کوئی نئی تعریف سامنے نہیں آئی سو تب تک ہم اس چوتھے نمبر کا مزہ لیتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں