Daily Mashriq


ہم اور ہمار ا''گرینڈ ڈائیلاگ''

ہم اور ہمار ا''گرینڈ ڈائیلاگ''

معاشرے کے بااثر اور حکمران طبقات میں گرینڈ ڈائیلاگ کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک بڑے سے ہال کے وسط میں سجی ایک بڑی سی میز اور اس کے گرد بڑوں کے درمیان گرما گرم بحث کا تصور اُبھرتا ہے۔ شاید باقی دنیا میں گرینڈ ڈائیلاگ کا یہی انداز مروج اور یہی مطلب ہو مگر پاکستان میں اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے ۔یہاں اصطلاحات کا اپنا ہی مفہوم ہوتا ہے اور اس مفہوم کا تعلق وقت کی ضرورت اور نتائج سے ہوتا ہے۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے پارلیمنٹ کی بے بسی اور بے کسی کا رونا روتے روتے اچانک ملک میں گرینڈ ڈائیلاگ کی بات کی تو اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جانے لگا تھا کہ ملک میں ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت کا احساس پیدا ہوگیا ہے اور اب اس ڈائیلاگ کی میز روایتی انداز میں سجنے والی ہے ۔رضاربانی کی اس تجویز کا مثبت جواب آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے یہ کہہ کر دیا کہ اگر ملک میں گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز ہوا تو فوج اس میں شامل ہو سکتی ہے ۔اس کے بعد تو اس تصوراتی جرگے کا انعقاد چند گام پر دکھائی دینے لگا مگر وقت نے ثابت کیا کہ درحقیقت ملک میں اس گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز ہو چکا تھا جس کی وکالت وحمایت چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے اچانک شروع کر دی تھی ۔ رضاربانی آئین پر سختی سے عمل درآمد کے علمبردار ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ آئین پر عمل درآمد اور تقسیم اختیار کی پاسداری ہی میں سب کی بقا مضمر ہے ۔نوازشریف کی نااہلی کے شورو غل کے درمیان چیئرمین سینیٹ نے گرینڈ ڈائیلاگ کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا تو بہت سوں کی حیرت کی انتہا نہیں رہی۔گرینڈ ڈائیلاگ سے ان کی مراد سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان مکالمہ اور کھیل کے ضوابط پر بات چیت سے تھی دوسرے لفظوں میں اسے ایک نئے عمرانی معاہدے کے مطالبے کی تائید ہی کہا جا رہا تھا۔

رضاربانی کی اس تجویز کا مثبت جواب فریق ثانی بلکہ فریق اول یعنی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں دے دیا ۔رضاربانی پانامہ فیصلے کے بعد سیاست دانوں اور مقننہ کی بے بسی اور کسمپرسی کا رونا رو رہے تھے۔ گرینڈ ڈائیلاگ کے معاملے میں قبول وایجاب کی یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ملک میں سول ملٹری کشمکش پورے جوبن پر دکھائی دے رہی تھی۔یوں لگ رہاتھا کہ ریاست کے دو ادارے آمنے سامنے ہیں مگر اس دوران ہی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایسی کسی کشمکش کی تردید کی ۔گوکہ اس وقت شاہد خاقان عباسی کو کٹھ پتلی سمجھنے والوں کی کمی بھی نہیں تھی اور وہ خود بھی اس تاثر کو گہرا کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے مگر زمینی حقیقت یہی تھی کہ وہ ملک میں انتظامیہ کے سربراہ تھے اور اختیار اور اقتدار سے متعلق فیصلوں پر انہی کا حق فائق تھا۔ انہوں نے تردید کے ذریعے انتظامیہ کے کسی کشمکش کا حصہ نہ ہونے کی بات کرکے خود کو سارے معاملے سے الگ کر دیا ۔انتظامیہ کے بعد آئی ایس پی آر نے بھی فوج کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ سول اور فوج میں اختلاف رائے کا مطلب کشمکش نہیں۔ اس تناظر میںسیاسی قوتوں کے ترجمان شاہد خاقان عباسی اوراس کے بعد فوج کے ترجمان نے ایسی کسی کشمکش کی تردید کی ۔ اس کے بعد منظر بہت تیزی سے تبدیل ہونے لگا کہ بیگم کلثوم نوازعلاج کی غرض سے لندن روانہ ہوگئیں ۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بیگم کلثوم نواز کی خیریت دریافت کرنے کے لئے میاںنوازشریف کو ٹیلی فون کیا ۔ٹیلی فون کی پہلی گھنٹی ہی گرینڈ ڈائیلاگ کا سندیسہ تھا۔ملک میں گرینڈ ڈائیلاگ کے آغاز کے آثار کچھ اس وقت نمودار ہوئے جب پاکستان کی ایک اہم سیاسی قوت کے سربراہ آصف علی زرداری جو اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی کے ساتھ ملک چھوڑ گئے تھے ملک کا عسکری منظر بدلتے ہی تالی بجاتے ہوئے واپس لوٹ آئے ۔پھر آصف زرداری کے حوالے سے منظر بدلتا چلا گیا ۔ملک میں ان کی آمدورفت کا سلسلہ بحال ہوگیا ۔اس دوران سیاسی قصے کہانیوں کا ایک زرق برق کردار ماڈل ایان علی ضمانت پر رہا ہو کر اُڑن چھو ہوگئیں ۔آصف زرداری کے دست راست اور چار سو اناسی ارب کی مبینہ کرپشن کے ذمہ دار ڈاکٹر عاصم کو طبی بنیادوں پر ریلیف ملنا شروع ہوگیا یہاں تک کہ انہیں طبی بنیادوں پر ضمانت مل گئی ۔

ان کے بارے میں عدلیہ نے مختلف اوقات میں یہ ریمارکس دئیے تھے کہ میڈیکل ہسٹری بتاتی ہے کہ ڈاکٹر عاصم نے کبھی اسپرین کی گولی بھی نہیں کھائی۔ایک اور عدالتی تبصرہ یوں تھا کہ اس بیماری کے نام پر جو بھی ملک سے باہر گیا واپس نہیں آیا ۔ایک بیمار باہر سے ٹی وی انٹرویو دے رہے ہیں معز ز جج کا اشارہ حسین حقانی کی طرف تھا جو میمو گیٹ سکینڈل میں بیماری کے نام پر ضمانت لے کر باہر گئے تھے ۔ڈاکٹر عاصم کے بارے میں عدالت کا ایک تبصرہ یہ بھی تھا کہ انہوں نے چھٹی لے کر اس وقت علاج کیوں نہیں کرایا جب وہ وزیر حکومت تھے۔ اب ڈاکٹر عاصم بھی کسی وقت باہر کی اُڑان بھرلیں گے ۔پیپلزپارٹی نے باسٹھ تریسٹھ کے معاملے پر خود کو اعلانیہ طور پر مسلم لیگ ن سے دور کر لیا ہے ۔شاید وہ پنجاب کی سیاسی حرکیات کو بھی اس حد تک خراب نہ کرے کہ مسلم لیگ ن کو زیادہ فائدہ ملنے پائے ۔یوں صاف دکھائی دیتا ہے کہ ملک میں گرینڈ ڈائیلاگ کے روایتی اور حقیقی مناظر کو چشم تصور سے دیکھنے والوں کو مایوسی ہو گی کیونکہ نہ ملک میں بڑے مکالمے کے لئے بڑی میز سجے گی نہ اس میں مکالمہ ہوگا ،نہ اس میز کی تہہ سے کوئی نیا عمرانی معاہدہ ظہور پذیر ہوگا ۔کسی من کو بھائے یا ناگوار گزرے ہمارا گرینڈ ڈائیلاگ اسی طرح نگاہوں نگاہوں او ر اشارو ں اشاروں میں ہوتا ہے ۔

متعلقہ خبریں