Daily Mashriq


ہنگامے پر ہنگامہ

ہنگامے پر ہنگامہ

بظاہر پانامہ اور اقامہ میں ردیف کے اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ دونوں الفاظ میں کوئی مماثلت نظر نہیں آتی ۔پانامہ ایک ملک کا نام ہے ۔جو سنٹرل امریکہ میں کولمبیا اور کوسٹاریکا کے درمیان واقع ہے۔ایک طرف کیربین سی اور دوسری جانب شمالی بحر اوقیانوس واقع ہے۔پانامہ کی کل آبادی37لاکھ کے لگ بھگ ہے۔جو 75420سکوائر کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔پانامہ کی معیشت میں آف شور کمپنیوں کا بڑاکردار ہے۔پانامہ آف شور کمپنیوں کا ایک بڑا مرکز ہے۔دُنیا کے اکثر ممالک کے کالا دھن کا کاروبار کرنے والے اپنی سرمایہ کاری پانامہ میں آ ف شور کمپنیوں کے ذریعے کرتے ہیں۔آف شور کمپنیاں ٹیکس سے بچنے کیلئے بیرون ملک بنائی جاتی ہیں۔کمپنی کے مالکان سے یہ نہیں پوچھا جاسکتا کہ ان کے پاس سرمایہ کاری کیلئے پیسہ کہاں سے آیا ہے۔

پانامہ لیکس میں متعدد شخصیات کی آف شور کمپنیز کے متعلق انکشافات کے بعد سوالات پیدا ہوئے کہ آف شور کمپنی کیا ہوتی ہے؟ کیسے کام کرتی ہے؟اس کی قانونی حیثیت ہوتی ہے یا نہیں؟آف شور کمپنی وہ فرم ہے ۔جو کوئی شخص اپنے ملک سے باہر قائم کرے ۔یہ قانونی طور پر ان مقامات پر قائم کی جاتی ہے جہاں ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی ہو اور یہ سوال نہ پوچھا جائے کہ سرمایہ کاری کیلئے پیسہ کہاں سے آیا۔ایسی کمپنیوں کی نہ آڈٹ رپورٹ مانگی جاتی ہے نہ سالانہ ریٹرن ظاہر کیا جاتا ہے۔آف شور صنعت ایسی بہت سے خدمات فراہم کرتی ہیں۔

آ ف شور کمپنیوں کیلئے چند مشہور جزیروں میں برٹش ورجن آئی لینڈ ،چینل آف آئی لینڈ، بہاماس، جمہوریہ پانامہ اور دیگر چند جزیرے شامل ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے غیر معروف ملک میں سرمایہ کاری کا کیا فائدہ ہے اور ٹیکس کی جنت میں کیوں کاروبار کرتے ہیں۔تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ غیر قانونی طور پر حاصل ہونے والی آمدنی کو جائز آمدنی کے طور پر ثابت کرنا۔ ابھی تک پانامہ لیکس کا طوق صرف نواز شریف کے گلے پڑا ہے۔ اُس کی تحقیقات کر تے کرتے معاملہ پانامہ سے اقامہ تک پہنچ گیا ۔پانامہ کی تحقیق تو پانامہ کے حوالے سے نہیں ہوئی۔البتہ اقامہ کے کاغذات مل گئے۔'' اقامہ '' اکثر عرب ممالک میں غیر ملکیوں کیلئے قانونی طور پر ایک دستاویز جاری کی جاتی ہے ۔جو عرب ممالک کے تمام سرکاری دفتروں ،بنکوں ،ہوائی اڈے اور چیکنگ کے وقت ایک ثبوت کے طور پردکھایا جاتا ہے۔اقامہ میں غیر ملکی کا نام ،تاریخ پیدائش ،اقامہ کی حتمی تاریخ اور غیر ملکی کفیل کانام درج ہوتا ہے۔اقامہ اکثر اوقات ایک سال یا دوسال کیلئے جاری کیا جاتا ہے اور اس کی تجدید بھی کی جاتی ہے۔پانامہ لیکس کی تحقیقات کے دوران یہ بھی منظر عام پر آیا کہ میاں نواز شریف سابق وزیر اعظم پاکستان نے اقامہ بھی حاصل کیا تھا۔اس دوران یہ بھی پتہ چلا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے دبئی میں بطور ڈائریکٹربیٹے کی کمپنی سے جو رقم ملنا تھی وہ اُنہوں نے وصول نہیں کی۔لیکن ان کی آمدنی میں شامل ہے۔لیکن نواز شریف نے یہ وصول ہونے والی رقم اپنی آمدنی میں ظاہر نہیں کی ہے۔جس کی بناء پر ان کو آمدنی ظاہر نہ کرنے پر نااہل کردیا گیا۔سابق وزیر اعظم نے اس نااہلی کو قبول نہیں کیا اور عدالتوں کے اس فیصلے کے خلاف عوام سے رجوع کیا اور اپنے آپ کو عوام کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت سے 13 سوال پوچھے ۔ایک ترقیافتہ اور مہذب معاشرے میں عوامی عدالت کا وجود نہیں ہے۔عدالت عظمیٰ ایک ہے اور پاکستان میں اُس کو سپریم کورٹ کا نام دیا گیا ہے۔عدالتی فیصلے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے ریویو کا حق حاصل ہوتا ہے۔لیکن احتجاج کا حق نہیں اور خاص طور پر عوامی جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے عوام کو اُکسا کر اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ لینا کوئی اخلاقی اور جمہوری طریقہ نہیں ہوتا۔

جس کو جس منصب کیلئے عوام کے ووٹوں سے منتخب کیا جاسکتا ہے وہ انتخابات کے ذریعے تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔لیکن سنگین الزامات ثابت ہونے پر آئین کی خلاف ورزی کرنے والے کو بذریعہ عدالت ہٹایا جا سکتا ہے۔بین الاقوامی طور پر اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیںجس میں بد عنوان حکمرانوں کو عدالت کے ذریعے اپنے منصب سے ہٹایا گیا ہے۔بڑا مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ گیدڑ جال میں پھنس گیا ۔اُس نے چیخنا چلانا شروع کردیا کہ مجھے نکالو ورنہ قیامت آنے والی ہے ۔ لوگوں نے قیامت کے ڈر سے اُس کو آزاد کیا ۔جونہی وہ باہر نکلا ۔بھاگتے ہوئے زور زور سے چیخ رہا تھاکہ اُس پر تو قیامت تھی ۔قوم کی بقاء اس میں ہے کہ عدالتوں کا تقدس برقرار رہے اور عدالتی فیصلوں کو قبول کرنا جمہوری روایات ہیں۔لیکن بدقسمتی سے ہم کہتے ضرور ہیں۔لیکن اس پر عمل نہیں کرتے ۔خدا ہمیں جھوٹ اور سچ میں تمیز کرنے کی جرأت دے اور حق و باطل میں فرق سکھائے ۔کوئی وجہ نہیں کہ ہم ترقی و کامرانی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں