Daily Mashriq


ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

بقر عید کی چھٹیوں کے بعد تمام تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں۔صبح سویرے سڑکوں پرخوب رونق تھی سکول کے بچے اور بچیاں اپنے ننھے منے ہاتھوں میں بستے تھامے اپنے اپنے سکولوں کی طرف رواں دواں تھے اسی طرح کالج کے طلبہ و طالبات اپنے اپنے مادر علمی کی طرف جارہے تھے۔ بڑی عید جسے گوشت کی عید بھی کہتے ہیں اللہ کی راہ میں قربان کیے گئے جانوروں کا گوشت تقسیم بھی کیا جاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ کھایا بھی جاتا ہے ہزار مسائل کے باوجود عید کے دن یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسی کو کوئی غم نہیںلیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عید کے دن بچھڑے ہوئے پیارے بہت یاد آتے ہیں۔ اسی لیے لوگوں کی ایک کثیر تعداد عید کی نماز پڑھنے کے بعد قبرستان کا رخ کرتی ہے۔ لوگ اپنے مرحومین کو عید کے دن ضرور یاد کرتے ہیں۔ عید کی چھٹیوں کے بعد کالج پہنچے تو ہر طرف سفید لباس میں ملبوس طلبہ نظر آئے یہ سال اول کے وہ طلبہ تھے جن کا کالج میں پہلا دن تھا آنکھوں میں حیرانیاں لیے چاروں طرف دیکھ رہے تھے نئی جگہ نیا ماحول نئے اساتذہ پھر کالج اور سکول کے ماحول میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ سکول میں پاپندیاں صبح طلبہ کو باقاعدہ اسمبلی میں حا ضر ہو نا پڑتا ہے۔ جہاں سب مل کر قومی ترانہ پڑھتے ہیں اور پھر قومی ترانے کے بعد اکثرسکولوں میں علامہ اقبال کی مشہور نظم ۔

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنّا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

بچے بڑے جوش و خروش اور ایک مخصوص لے میں پڑھتے ہیں سننے والے پر رقّت طاری ہو جاتی ہے۔خاص طور پر جب یہ شعر پڑھا جاتا ہے تو درد دل رکھنے والے حضرات اپنے آنسو نہیں روک سکتے۔

ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا

درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

کالج میں اسمبلی نہیں ہوتی ترانہ نہیں ہوتا طلبہ اپنی اپنی کلاس لینے آتے ہیں درمیان میں کوئی کلاس نہ ہو تو چمن میں بیٹھ کر گپیں ہانکتے ہیں کالج انتظامیہ کی پوری پوری کوشش ہوتی ہے کہ نئے طلبہ کو اچھا ماحول فراہم کیا جائے انہیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جب نئے طلبہ آتے ہیں تو ان کو باقاعدہ ایک نظام کے تحت تربیت دی جاتی ہے سب سے پہلے وہ کالج کے وسیع وعریض ہال میں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں انہیں مختلف مضامین کے اساتذہ کالج کے قواعد و ضوابط کے حوالے سے باقاعدہ لیکچر دیتے ہیں جس میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ آپ نے فلاں پیریڈ کمرہ نمبر فلاں میں لینا ہے انہیں باقاعدہ اساتذہ کی معیت میں پورے کالج میں گھمایا جاتا ہے۔ مختلف لیبارٹریز بتائی جاتی ہیں لائبریری کی سیر کروائی جاتی ہے تاکہ بعد میں وہ بڑے آرام کے ساتھ اپنی اپنی کلاسوں میں بغیر کسی تکلیف کے پہنچ سکیں۔ اس کے علاوہ دوران تعلیم اساتذہ انہیں بتاتے ہیں کہ کالج کا ماحول کیسا ہے یا آپ کو جو آزادی یہاں میسر ہے اس کے کیا فوائد ہیں۔ یہ آزادی آپ میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اب ہم اپنے نفع و نقصان سے باخبر ہیں۔ اگر کلاس لیں گے تو اس میں ہمارا فائدہ ہے اور اگر کلاسوں سے راہ فرار اختیار کریں گے تو اس کا نقصان صرف اور صرف ہمیں ہی ہو گا۔ کالج کھلتے ہی دوسرے دن باقاعدہ کلاسیں شروع ہو جاتی ہیںکلاس سے باہر اگر کوئی لڑکا گھومتا نظر آئے تو اس سے باہر گھومنے کی وجہ پوچھی جاتی ہے۔ کالج کے پرنسپل اور وائس پرنسپل ہر روز صبح سویرے پورے کالج کا رائونڈ لگاتے ہیں اور ہر کلاس میں استاد کی موجودگی کو یقینی بناتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بہت سی مشکلات اور مسائل کے باوجود گورنمنٹ کالج پشاور کا ہر سال بڑا اچھا رزلٹ آتا ہے۔ پشاوراور آس پاس کے علاقوں کے طلبہ کی ایک کثیر تعداد یہاں داخل ہوتی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں پشاور کی آبادی میں خا طر خواہ اضافہ ہوا ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے پشاورشہر میںدو مزید کالج بنائے جائیں تاکہ گورنمنٹ کالج پر جو بوجھ ہے وہ کم ہو سکے۔ اگرچہ پرائیویٹ کالجوں کی تعداد بھی بہت زیاد ہ ہے لیکن بہت سے طلبہ کے لیے ان کالجوں کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ہم نئے آنے والے طلبہ سے کہتے ہیں کہ اللہ پاک نے آپ لوگوں کو ایک موقعہ دیا ہے یہاں تعلیم حاصل کرنے کا اور آپ نے اس موقع سے فائدہ اٹھانا ہے۔ آپ اس قوم کا مستقبل ہیں آپ نے آنے والے وقت میں وطن عزیز کی باگ ڈور سنبھا لنی ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی بہت ضروری ہے ایک مشہور مفکر کا کہنا ہے کہ تعلیم کا مقصدیہ ہے کہ آپ طلبہ کو اس طرح تربیت دیں کہ وہ آنے والی پوری زندگی میں اپنی تربیت خود کرتے رہیںیہی وہ خود اعتمادی ہے وہ فہم و فراست ہے جو طلبہ کو اپنی راہیں خود تلاش کرنے پرآمادہ کرتی ہے۔ مغرب کی ترقی کا راز ہی یہی ہے کہ انہوں نے اپنے ماحول کے مطابق اپنے مسائل کا حل ڈھونڈا انہوں نے اپنے طلبہ کو وہ سکھایا جس کی ضرورت ان کے معاشرے کو تھی آج کا طالب علم بہت مستعد ہے اس کی رسائی دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی تک ہے وہ دنیا میں روز بروز ہونے والی تبدیلیوں سے بھی آشنا ہے اور ہمارے لیے سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ ہماری زمین اس حوالے سے بڑی زرخیز ہے پاکستانی نوجوان دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں جن جان لیوا اور حوصلہ شکن مسائل اور حا دثات کا ہمیں سامنا ہے وہ سب کے سامنے ہیں لیکن اس کے باوجود ہماری نوجوان نسل نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!۔

متعلقہ خبریں