وزیراعظم کا چندے سے ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان

09 ستمبر 2018

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے دوسرے خطاب میں پاکستانیوں سے ڈیم بنانے کیلئے اپنا حصہ ڈالنے پر زور دیتے ہوئے بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ ڈیم بنانے کیلئے فنڈ میں ڈالرز بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ڈیم فنڈ میں کم ازکم ایک ہزار ڈالر اگر بھیجیں تو ہمارے پاس دونوں ڈیم بنانے کیلئے بھی پیسہ ہو جائے گا اور ہمارے پاس ڈالرز بھی آجائیں گے تاکہ ہمیں کسی سے قرض بھی نہ مانگنا پڑے۔ دونوں جانب مشکل ہے ہمیں ایک تو ڈیم بھی بنانے ہیں اور ڈالر بھی چاہئے کیونکہ پاکستان میں اس وقت ڈالرز کی کمی ہے۔ ہمارے ریزرو بھی کم ہیں، اس لئے اس سے ریزرو بھی ٹھیک ہوں گے اور ہمیں کسی سے قرضے بھی نہیں لینے پڑیں گے۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے7جون2018 کو ملک بھر میں پانی کی قلت کا ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ قائم کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے حکم میں واضح کیا گیا تھا کہ اکاؤنٹ میں موجود فنڈز صرف اور صرف ڈیم کی تعمیر کیلئے اکٹھے کئے جا رہے ہیں، جنہیں کسی بھی صورتحال میں کسی بھی وجہ کے پیش نظر کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے کسی بھی ابہام سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ فنڈ کے ذرائع کی بابت کوئی ادارہ، کوئی انتظامیہ بشمول ٹیکس اتھارٹی، کوئی سوال نہیں کرے گی، تاہم فنڈ کے استعمال کا آڈٹ کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد بحریہ ٹاؤن کی طرف سے پانچ کروڑ روپے دینے جبکہ چیئرمین پاک کمیونٹی لندن اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی انجمن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اتنا چندہ دیں گے کہ اس سے ایک نہیں دو ڈیم بنائے جا سکیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبہ حب الوطنی سے دل کھول کر امداد دینے کے باوجود اتنی رقم جمع نہیں ہو سکتی کہ اس سے ڈیم بنائے جاسکیں۔ اگر دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے تیار منصوبے کو سامنے رکھا جائے تو اس کیلئے چودہ ارب ڈالر درکار ہیں جبکہ بھاشا ڈیم کیلئے اس سے بھی زیادہ رقم درکار ہوگی۔ اتنی بڑی رقم کی بیرون ملک پاکستانیوں کیساتھ ساتھ پاکستان کے عوام سے مجموعی طور پر فنڈ اکٹھی کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی لیکن عوام نے جس طرح تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے حمایت کی اس جذبے اور جنون کا امتحان نہیں لیا جانا چاہئے۔ مبادا وہ اسی جوش وجذبے کا مظاہرہ کرکے چودہ ارب ڈالر کی رقم نہ سہی اتنی رقم ضرور دے سکتے ہیں جس سے درمیانی درجے کا ڈیم بن سکے چونکہ یہ ایک قومی منصوبہ قومی مسئلہ اور قومی معاملہ ہے اس لئے اس کو کسی جماعت سے ہی منسلک کرنا مناسب نہیں۔ یہ ایک قومی معاملہ ہے اور ہمیں من حیث القوم اس کا دامے درمے قدمے سخنے مثبت جواب دینا چاہئے۔ جہاں تک وزیراعظم کے اعلان کا تعلق ہے اگر جذبات کی بجائے اس کا معروضی جائزہ لیا جائے تو اس سے قومی جذبے ابھارنے اور مسئلے کی سنگینی کی ترجمانی کی حد تک تو اتفاق ممکن ہے انہوں نے ایک ایسے مسئلے کی طرف قوم کی توجہ دلائی ہے اور اعانت طلب کی ہے جو ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے لیکن اگر معروضی حقائق کے مطابق دیکھا جائے تو یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ہمیں اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہئے کہ بنیادی اساس کیلئے اس طرح سے فنڈز جمع کرنا آسان کام نہیں۔ اس طرح سے وسائل شاید جمع بھی نہ ہوسکیں اس کیلئے حکومت کو بڑے اقدامات اٹھانے ہوں گے جیساکہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں دس کھرب تیس ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کیلئے مختص رقم کم کرکے سات سو پچھتر ارب روپے کر دی ہے۔ اس رقم کا ایک حصہ آبی منصوبوں کیلئے مختص کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح لیپ ٹاپ سکیم کیلئے مختص دس ارب روپے بھی آبی منصوبوں کیلئے دیئے جاسکتے ہیں۔ اسی نوعیت کے دیگر مدات اور پروگراموں میں کٹوتی کی جاسکتی ہے۔ یہ تاثر درست نہیں کہ ماضی میں ڈیموں کی تعمیر میں غفلت کا مظاہرہ کیاگیا۔2006ء میں مشرف دور سے بھاشا ڈیم کے منصوبے پر کام جاری ہے۔2010ء میں مشترکہ مفادات کونسل اس کی منظوری دے چکی ہے۔ گزشتہ حکومت کے عمائدین کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت دو سالوں میں بھاشا اور مہمند ڈیموں پر سو ارب روپے خرچ کرچکی ہے۔ بہرحال دیکھا جائے تو ملک میں ڈیموں کی تعمیر اراضی کے حصول سے لیکر قابل عمل ہونے کی رپورٹ کی تیاری جیسے مختلف مدارج پر کام جاری ہے جسے موجودہ حکومت کو تیزی سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے تئیں سابق ادوار میں بھی چندے سے قرض اتارو ملک سنوارو جیسا نعرہ لگ چکا تھا اس کی ابتداء وزیراعظم نے اپنی جیب سے خطیر رقم عطیہ کرکے کی تھی۔ بیرون ملک پاکستانیوں سمیت ملک بھر کے عوام نے بساط بھر حصہ ڈالا مگر یہ بھاری بوجھ اُترتا کیا الٹا اس میں اضافہ ہوتا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اگر قوم سے اپیل سے قبل مجوزہ فنڈ میں اپنا خطیر حصہ ڈالنے اور حکومتی افراد فرداً فرداً یا اجتماعی طور پر ایک بھاری بھر کم رقم اکٹھی کر کے مثال قوم کے سامنے رکھتے تو زیادہ موثر ہوتا۔ اب بھی وزیراعظم' گورنرز' وزرائے اعلیٰ، چیئرمین سینٹ' سپیکر قومی وصوبائی اسمبلیاں اور حکمران جماعت سے وابستہ ثروت مند افراد ایسا کریں تو یہ قوم کیلئے ایک مہمیز کا باعث ہوگی۔ پاک فوج اور دیگر سرکاری ادارے اور ملازمین پہلے ہی چیف جسٹس کے ڈیم بناؤ فنڈ میں اپنا حصہ ڈال چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دور حکومت میں دعوؤں کے باوجود اس ضمن میں خاطرخواہ کام نہیں ہوا چونکہ صوبے میں بے شمار چھوٹے بڑے منصوبوں کی گنجائش ہے اس لئے خیبر پختونخوا کو خاص طور پر اس مہم میں حصہ ڈالنا چاہئے۔ صوبے میں آبی بجلی کی پیداوار کے مواقع میں نجی شعبے کو پوری طرح سے شریک کرکے ان مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتاہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ قوم وزیراعظم کی اس اپیل کا مثبت اور بھرپور جواب دے گی اور ملک میں ڈیمز تعمیر کر کے آبی ذخائر میں اضافے کیساتھ ساتھ بجلی کی مناسب پیداوار بھی حاصل کی جاسکے گی۔

مزیدخبریں