Daily Mashriq


ایک اور تجربہ کرنے سے قبل پہلے کے تجربات کا جائزہ لیا جائے

ایک اور تجربہ کرنے سے قبل پہلے کے تجربات کا جائزہ لیا جائے

خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام میں ایک مرتبہ پھر اس قسم کی اصلاحات لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں جس کی قبل ازیں بھی کوشش کی گئی تھی مگر معاملہ تضادات کاشکار ہو گیا۔ اس مرتبہ تقریباً انہی اصلاحات کو دوبارہ لانے کی شنید ہے۔ مجوزہ اصلاحات میں بعض اصلاحات پر عملدرآمد ممکن بھی ہے اور اس کی ضرورت بھی محسوس ہو رہی تھی مگر بعض ایسی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں جو بھاری پتھر اٹھانے کے مترادف ہیں۔ ضلعی حکومتوں کے نظام کو مضبوط کرنے اور ایک مثالی بلدیاتی نظام متعارف کرانے میں دوسرے صوبوں پر بازی لے جانے کی ایک مرتبہ پھر سعی کی اس لئے حمایت نہیں کی جاسکتی کہ ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانا مشکل بلکہ ناممکن امر نظر آتا ہے۔ ہم حکومت کو یہ یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ قبل ازیں بھی خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کے فیصلے کے وقت جذباتی انداز اپنایا گیا تھا اور اعلان کیا گیا تھا کہ ضلع ناظم سرکاری افسران کی اے سی آر لکھے گا۔ ان افسران میں ضلع میں خدمات انجام دینے والے جملہ افسران شامل تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ضلع ناظم کو ان کے تبادلے کے بھی اختیارات ہوں گے مگر جب وقت آیا تو حکومت کو اپنے فیصلے کے مضمرات کا احساس ہوا یا پھر ان کو احساس دلایا گیا کہ بیوروکریسی کو اس طرح سے ضلعی حکومت کے زیرنگین لانا ممکن نہیں کہ ضلع ناظم ڈی ایم جی اور پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کا تبادلہ کر سکے اور ان کی اے سی آر لکھ سکے۔ سابق صدر جنرل (ر) مشرف نے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی حضرات کے عہدوں کے نام ڈی سی او اور ڈی پی او کر کے ان کو ضلع ناظم کے ماتحت لانے کی سعی ضرور کی تھی مگر ان کا تجربہ بھی ناکام ثابت ہوا۔ البتہ موجودہ حکومت نے ان سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اختیارات کا منبع ضلع ناظم کو بنا دیا تھا۔ جس سے اضلاع میں اختیارات کا توازن بری طرح بگڑ گیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ حکومت نے بغیر کسی ہوم ورک کے یہ فیصلہ کیا تھا جسے واپس لیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر وہی غلطی دہرائی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر حکومت ضروری سمجھتی ہے تو وہ ضرور اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنائے لیکن اس سے قبل تھوڑا بہت ہوم ورک کرنے اور ماضی کی غلطیوں اور ماضی میں اس قسم کی مساعی کی ناکامیوں پر ایک نظر ضرور ڈالی جائے تاکہ غیر ضروری کھینچا تانی سے بچا جاسکے۔

غلطی کا بروقت ازالہ

تحریک انصاف کی قیادت کا عوام اور علمائے کرام بلکہ جملہ اہل اسلام کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے قابل اعتراض شخص کی نامزدگی کا فیصلہ واپس لے کر دانشمندانہ اور بروقت اقدام کیا ہے۔ مذکورہ مسئلے پر کسی ایک جماعت یا افراد کو تحفظات نہ تھے بلکہ یہ عقیدت اور عقیدے کا معاملہ تھا جس میں عوامی جذبات کا اشتعال کی آخری حدوں کو عبور کر جانا فطری امر تھا۔ ملک میں عقیدہ ختم نبوتۖ اور ناموس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے جذبات ایک ملعون غیر ملکی کی وجہ سے پہلے ہی برانگیختہ تھے۔ اس معاملے میں حکومت نے مسلمانوں کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کرکے جو تحسین حاصل کی تھی اس کے فوراً بعد محولہ برعکس اقدام حیران کن اور صدمے کا باعث تھا جس پر ملک بھر میں سخت ردعمل کا خدشہ تھا بلکہ یقینی طور پر حالات قابو سے باہر ہوسکتے تھے جس کا بروقت ادراک کیا گیا۔ اس ضمن میں اگر وزیراعظم پہلے ہی وفاقی وزیر مذہبی امور سے مشاورت کرتے تو احتجاج کے موقع کی نوبت ہی نہ آتی۔ بہرحال حکومت نے محولہ تجویز کو تجویز ہی کے مرحلے میں عملی جامہ نہ پہنا کر اچھا فیصلہ کیا۔ بہتر ہوگا کہ آئندہ بھی حکومت دین سے متعلق معاملات میں احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھے اور علماء سے رہنمائی کے بعد قدم اُٹھائے۔

متعلقہ خبریں