دیامر بھاشا ڈیم۔۔ وزیراعظم عمران خان کی اپیل

09 ستمبر 2018

ایدھی فاؤنڈیشن دنیا بھر کے سب سے بڑے فلاحی اداروں میں سے ایک ہے۔ اس کے پاس طیارہ ایمبولینس بھی ہیں اور اس کی ایمبولینس گاڑیاں شہر شہر نظر آتی ہیں۔ ملک کے بہت سے شہروں میں ایدھی فاؤنڈیشن کے لنگرخانے موجود ہیں۔ معمر خواتین اور مردوں کی رہائش گاہیں بھی ہیں اور سینکڑوں ہزاروں لاوارث بچے ایدھی کے مراکز میں رہتے ہیں اور تعلیم پاتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کا بجٹ کروڑوں نہیں اربوں روپے تک ہوگا۔ ایک بار مرحوم عبدالستار ایدھی کو بھارت کی حکومت نے عطیہ پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ حکومتوں سے کچھ نہیں لیتے۔ ایدھی فاؤنڈیشن ملک کا واحد ادارہ نہیں ہے جو عوام کے چندے سے چلتا ہے۔ فاطمید اور سندس فاؤنڈیشن ایسے بہت سے ادارے اور ہزاروں یتیم خانے عام لوگوں کے چندے سے چلتے ہیں۔ ملک میں دینی مدارس کی تعداد 35ہزار بتائی جاتی ہے جن میں چوبیس لاکھ بچے رہتے ہیں اور تعلیم پاتے ہیں۔ یہ سب عطیات سے چلتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن اور اس کے علاوہ ناداروں کی کفالت کرنے والے ہزاروں ادارے پاکستان ہی میں کیوں پائے جاتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی مرحوم اور ان ایسے ہزاروں دردمندوں کو مستحقین اور لاوارثوں کی کفالت کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ حکومتیں اپنے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔ حکومتوں کے ویلفیئر کے ادارے اس لئے ناکام رہے کہ حکومتوں کے کاموں میں اوپر سے نیچے تک کرپشن نظر آتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اتنے اربوں روپے ان فلاحی اداروں کو کہاں سے حاصل ہو جاتے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ پاکستان جو ایک غریب ملک ہے لیکن اس کا شمار ان چند ممالک میںہوتا ہے جہاں کے عوام دنیا بھر میں سب سے زیادہ خیراتی اور فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ دو واضح نتیجے سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان کے عوام میں فلاحی کام کرنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان کے عوام کا اپنی حکومتوں پر اعتماد بہت کم ہے کہ حکومتیں ان کا پیسہ ان کی بھلائی یا ان کے ناداروں کی کفالت پر خرچ کرے گی۔ حکومتوں نے اپنے عوام کو اپنی کارکردگی کے ذریعے وہ اعتماد نہ دیا کہ وہ عوام کی ہمدرد ہیں۔ اس کے باوجود حکمرانوں کے ماہرین یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس سے وصول ہونے والی رقوم کی شرح کل قومی آمدنی کی نسبت بہت کم ہے۔ وجہ یہ عام تاثر ہے کہ عمال کے اندر اوپر سے نیچے تک کرپشن سرایت کر چکی ہے جو ٹیکس دہندگان کو ٹیکس بچانے کے طریقے بتاتی ہے تاکہ اس میں سے خود کمائی کر سکے۔ مختلف ادوار میں حکام نے پاکستان کی غربت اور پسماندگی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اور ترقیاتی کاموں کی سکیمیں پیش کر کے اتنے قرضے لئے کہ آج ملک کا ہر شہری ایک لاکھ روپے سے زیادہ کا مقروض ہے۔نئے وزیراعظم عمران خان نے خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں ڈیم بنانے کیلئے عطیات دیں۔ ستر سے اسی لاکھ پاکستانی بیرون ملک کاروبار یا نوکریاں کرتے ہیں' ان میں سے بیشتر خلیجی ممالک میں ملازمت کرتے ہیں لیکن جو یورپ اور امریکہ میں مقیم ہیں وہ متمول ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بالخصوص وہ جو یورپ اور امریکہ میں رہتے ہیں ایک ہزار ڈالر فی کس پاکستان میں ڈیم بنانے کیلئے چندہ دیں۔ اس پر منتخب نمائندوں نے بھی تنخواہیں دینے کی پیشکش کی ہے' فوج کی طرف سے بھی ایسی ہی پیشکش کی گئی ہے' سرکاری ملازمین بھی اس کارخیر میں حصہ لیں گے لیکن ضرورت پچاس ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کی ہے۔ لوگ وزیراعظم عمران خان کی بات پر یقین کرتے ہیں۔ انہوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال تعمیر کرکے کامیابی سے چلا کر دکھایا ہے۔ لوگ وزیراعظم عمران خان کی بات پر یقین کرتے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ وہ عوام کے پیسے کی حفاظت کریں گے اور ڈیم کیلئے جو عطیات آئیں گے وہ ڈیموں پر ہی خرچ کئے جائیں گے۔ پاکستان میں بھی بچے' بوڑھے' جوان اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں اور پراُمید ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر بیرون ملک پاکستانی خطیر رقم فراہم کریں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اپیل کیساتھ ہی اس فنڈ کی گورننگ باڈی کا بھی اعلان کیا جائے اور انجینئروں کے پینل کا بھی جو اپنی ترجیحات سے گورننگ باڈی کو آگاہ کرے۔

اس اپیل کیساتھ ہی ڈیم پر کام شروع کر دینا چاہئے۔ سابقہ حکومت کا کہنا ہے اس ڈیم کیلئے اس نے ایک سو ارب روپے زمین کی خریداری کیلئے مختص کئے تھے جن میں سے 55ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ علاقے کے کن زمین مالکوں کو کس بھاؤ دیئے گئے ہیں یہ عام معلومات کا حصہ ہونا چاہئے تاکہ کسی کے بارے میں غلط بخشی کی شکایت نہ رہے۔ علاقہ سے جو تاریخی ورثہ منتقل کرنا ہے تو یونیسکو کے تعاون سے اس پر کام شروع کر دیا جانا چاہئے۔ اس فنڈ کا حساب کتاب روز اول ہی سے جس قدر شفاف ہوگا اسی قدر فنڈ میں عطیات آئیںگے۔ یہ طے کر لیا جانا چاہئے کہ ڈیم کی تعمیر میں حکومت کا کیا کردار ہوگا' واپڈا کا کتنا حصہ ہوگا اور اس کی نگرانی کون سا ادارہ کرے گا۔ آئندہ پانچ برسوں کے دوران (جو کم ازکم مدت اس ڈیم کی تکمیل کے حوالے سے بتائی جا رہی ہے) اگر شفافیت اور برسرزمین کام ہوتا ہوا نظر آئے گا تو پاکستان کے فلاحی کاموں میں فراخدلی سے حصہ لینے والوںکا اعتماد بحال ہو جائے گا۔ اگر لوگوں کو نظر آئے گا کہ ان کا پیسہ وعدے کے مطابق خرچ کیا جا رہا ہے تو حکومت کو ٹیکس ادا کرنے کا کلچر بھی خودبخود تقویت پائے گا۔ دیامر بھاشا ڈیم فنڈ محض ایک منصوبے کا فنڈ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان میں دیانت اور شفافیت کے کلچر کو فروغ دینے کا بنیادی منصوبہ ہے۔ پاکستان میں دیانت اور شفافیت کے خواہش مندوں کو اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے دامے درمے قدمے سخنے آگے آنا چاہئے۔

مزیدخبریں