عدالتوں سے استثنیٰ اور ریاست مدینہ

09 ستمبر 2018

ریاست مدینہ میں ایسا کب ہوتا تھا؟ وہاں تو احتساب بلاامتیاز ہوتا تھا اور استثنیٰ کا تو کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ ایسے کئی واقعات تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں جن پر مسلمان فخر کرتے ہیں مگر آج ہم ان واقعات کو صرف یاد کرکے ہی خود سے بھی شرمندہ ہوتے ہیں کہ ان اصولوں' ضوابط اور قوانین کو ہم نے کیوں ترک کر دیا۔ نہ صرف ترک کرکے ہم دنیا میں شرمندہ ہو رہے ہیں بلکہ ہمارے اسلاف کی ان روشن مثالوں کو اپنے لئے اہل مغرب نے مشعل راہ بنا کر عدل وانصاف کی مثالیں قائم کرلی ہیں۔ ہم ان معاشروں کا تذکرہ کرتے ہوئے خوش ہو لیتے ہیں لیکن نہ اپنی تاریخ کھنگالتے ہیں نہ اپنے کردار پر شرم محسوس کرکے اپنا تجزیہ کرتے ہیں اور صرف حوالوں کیلئے ہی مدنی ریاست کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ بقول حبیب ہاشمی

محسوس یہ ہوتا ہے یہ دور تباہی ہے

شیشے کی عدالت ہے' پتھر کی گواہی ہے

ریاست مدینہ کا ذکر ہے' خلیفہدوم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک نوجوان کھڑا ہوگیا اور خلیفہ کو منبر رسولۖ سے اترنے کا کہا کہ بقول نوجوان کے خلیفہ نے مال غنیمت میں اپنے حصے سے زیادہ حاصل کیا تھا' ایک ایک چادر سب کے حصے میں آئی تھی' خلیفہ وقت چونکہ دراز قد تھے اور ایک چادر سے ان کا لباس بننا ممکن نہیں تھا مگر جو لباس خطبہ دیتے وقت انہوں نے پہن رکھا تھا اس کے حوالے سے شکوک اُبھرتے تھے۔ خلیفہ دوم نے نہ برا منایا نہ غصہ کیا۔ خاموشی سے منبر رسولۖ سے اتر کر اپنے برخوردار کو اشارہ کیا' انہوں نے آکر وضاحت کی کہ اس میں قطعاً شک نہیں ہے کہ مال غنیمت میں ملنے والی چادر ان کے والد کے لباس کیلئے ناکافی تھی اس لئے بیٹے نے اپنے حصے کی چادر بھی والد گرامی کو دے کر انہیں لباس سلوانے میں مدد کی۔ نوجوان نے اپنا اعتراض واپس لے لیا اور خلیفہ نے خطبہ پورا کر لیا۔

خلیفہ دوم نے قاضی کی جانب سے عدالت میں حاضری کا پیغام ملنے اور ایک یہودی کی جانب سے خلیفہ وقت کیخلاف استغاثہ دائر کرنے پر جواب طلبی پر نہایت خاموشی کیساتھ مقررہ دن اور وقت پر عدالت میں حاضری دی۔ مقدمہ پیش ہوا اور بالآخر فیصلہ خلیفہ وقت کیخلاف آنے پر وقت کے اس حکمران نے سر تسلیم خم کیا جس کی قلمرو میں لاکھوں میل کے ممالک تھے اور جس نے انصاف کے وہ معیار مقرر کئے کہ ان کی طرز حکومت اور عدل وانصاف کو اپناتے ہوئے اہل مغرب نے عمر ڈاکٹرائن کا نام دے رکھا ہے۔یہ تھی استثنیٰ کے قانون کی حقیقت جو مسلمان خلفاء بھی اپنے اوپر لازم قرار دیتے تھے بلکہ یہ واقعہ بھی تاریخ کے چہرے کو روشن سے روشن ترین بنا کر ہمارے لئے وہ راہیں متعین کرنے کا باعث ہے جس سے ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور تاریخ کے اوراق میں یوں منقول ہے کہ خلیفہ وقت رات کے وقت بیٹھا ہوا بیت المال کا حساب کتاب کر رہا تھا' ساتھ میں ایک دوست بھی بیٹھا ہوا تھا' گپ شپ بھی چل رہی تھی' کچھ دیر بعد جب بیت المال کا حساب کتاب ختم ہوگیا مگر دونوں دوستوں کی گفتگو ابھی جاری تھی کہ خلیفہ نے چراغ گل کر دیا' ساتھ بیٹھے ہوئے دوست نے حیرت سے کہا' آپ نے اندھیرا کیوں کر دیا؟ خلیفہ وقت نے کیا تاریخی جملہ کہا۔ فرمایا' اب تک بیت المال کا حساب کتاب دیکھ رہا تھا تو بیت المال کے خریدے ہوئے تیل سے چراغ جلنے کا جواز تھا چونکہ اب ایسی صورتحال نہیں رہی اور ہم دونوں ذاتی گفتگو کر رہے ہیں اس لئے بیت المال کے چراغ کو جلا کر روشنی کرنے کا حق مجھے حاصل نہیں ہے۔

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

ریاست مدینہ کے چند واقعات دوہرانے کا کارن آج ریاست مدینہ کے تذکروں کا تسلسل سے اعادہ ہے اور گزشتہ روز کی ایک خبر نے ہمیں اس بات پر آمادہ کیا کہ جس استثنیٰ کے حصول پر ہمارے اسلاف کبھی تیار نہیں ہوسکتے ہم نے مغربی ملکوں کی تقلید میں اسے حرزجاں بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اس حوالے سے جمعتہ المبارک کے اخبارات میں چھپنے والی ایک خبر نے اس کالم کی بنیاد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ خبر یہ تھی کہ ڈاکٹر عارف علوی صدر منتخب ہونے کے بعد 2019ء میں پاکستان ٹیلی وژن اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے کے مقدمے میں آئینی استثنیٰ لیں گے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکیل علی بخاری انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہوئے جس کے بعد ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا چونکہ ڈاکٹر عارف علوی صدر منتخب ہو چکے ہیں اس لئے وہ استثنیٰ سے فائدہ اٹھائیں گے اور ان کیخلاف مقدمات نہیں چلائے جا سکتے۔ آئین میں بے شک استثنیٰ کا قانون شامل ہے اور ماضی میں کئی سربراہان مملکت اس سے استفادہ کرچکے ہیں۔ یہاں تک کہ سابق صدر زرداری کیخلاف ان کے دور صدارت کے دوران ناجائز اثاثوں کا معاملہ بھی دبا رہا۔ تاہم آج تو تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وزیراعظم عمران خان بات بات پر ریاست مدینہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سیاسی مخالفین پر طنز وتشنیع کے تیر برساتے رہتے ہیں تو کیا ان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ آئین میں سے یہ غیر اسلامی شق ہٹانے کیلئے ضروری قانون سازی کرکے حقیقی طور پر ریاست مدینہ کی یاد تازہ کریں گے۔

مزیدخبریں