خط میں گرمجوشی نہیں۔۔۔ رسم دنیا نبھایا

09 ستمبر 2018

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی اور عمران خان نے 18اگست کو بطور نئے وزیراعظم کے حلف اُٹھایا۔ دنیا کے عام سفارتی رواج کے مطابق مختلف سربراہانِ مملکت نے انہیں مبارکباد کے خطوط لکھے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی کامیابی کیلئے رسمی یا دلی دعاکی۔ یہ معمول کی ایک کارروائی ہے جو ایسے مواقع پر کی جاتی ہے اور ایسا ہی ایک انتہائی محتاط انداز میں لکھا ہوا مبارکباد کا خط بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھی عمران خان کے نام بھیجا ہے جس میں ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے لیکن اس سے زیادہ امن اور علاقے کے ممالک کیساتھ اچھے تعلقات کیلئے اپنی حکومت کی کوششوں اور خواہش کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے اپنے ملک کی طرف سے اس خواہش کا بھی اظہار کیا ہے کہ نئی حکومت کے زیر قیادت معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں اور ان کی روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلی لاسکیں۔ اگرچہ اس خط میں وہ گرمجوشی نہیں جس کی کسی برادر اسلامی ملک سے تو قع کی جاسکتی ہے تاہم اس کو بھی ایک بہتر اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت ہمیشہ مختلف اور حساس رہی ہے۔ 1971 کے خونچکاں واقعات اور پھر پاکستان کی تاریخ کا سب سے افسوسناک سانحہ یعنی سقوط ڈھاکہ کا پیش آنا ہی ان تعلقات کی نوعیت کو مخصوص بناتا ہے۔ 1971 میں جس طرح ہمارے اپنے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی نااہلیو ں، شیخ مجیب الرحمن اور اس کے حواریوں کی غداری اور سب سے بڑھ کر بھارت کی مکارانہ سازشوں نے برصغیر کی تاریخ کو پلٹا وہ ایک ایسا المیہ ہے جو ایک مستقل تکلیف کا باعث ہے۔ دشمن کو یہی گوارہ نہ تھا کہ مسلمان یوں متحد ہوں اور وہ ایک اکائی بن کر ان کیلئے خطرہ بن جائیں لہٰذا اس نے انگریز کے ہوتے ہوئے جو سازشیں کی تھیں انہیں مزید تیزتر کر دیا۔مشرقی پاکستان میں وہ کھیل کھیلا گیا جس پر اگر تاریخ دان انصاف سے تحقیق کرے تو بھارت کو جنگی جرائم کا باقاعدہ مجرم قرار دے دیا جائے گا۔ اس نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے غنڈوں کے ذریعے جس طرح مشرقی اور مغربی پاکستانیوں کا قتلِ عام کروایا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے اور خود کئی بھارتی صحافیوں، لکھاریوں حتیٰ کہ فوجی افسران بلکہ جرنیلوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ان دہشتگردوں کو باقاعدہ تربیتی کیمپوں میں تربیت دی۔ غیرجانبدار صحافیوں اور مبصرین نے اپنے تجزیوں میں شواہد کیساتھ ان واقعات کو تحریر کیا ہے جن میں بھارت کے ان تربیت یافتہ قاتلوں نے پاکستانیوں کا قتلِ عام کیا لیکن بھارت کی پراپیگنڈہ کرنے کی مکروہ صلاحیت نے عام بنگالیوں کو یہ باور کرایا کہ مغربی پاکستان کوئی قابض ملک ہے اور مشرقی پاکستان محکوم۔ حالانکہ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ابتدائی دور میں کئی صدور اور وزرائے اعظم کا تعلق ملک کے اسی حصے سے تھا جن میں قائداعظم کے بعد پاکستان کے گورنر جنرل بننے والے خواجہ ناظم الدین کے علاوہ حسین شہید سہروردی، محمد علی بوگرہ، سکندر مرزا، نورالامین سب وزرائے اعظم اور گورنر جنرل جیسے عہدوں پر فا ئز ہوئے۔ 1960کی دہائی میں ملک کے مغربی حصے میں جو ترقیاتی کام ہوئے ویسے ہی مشرقی پاکستان میں بھی ہوئے لیکن پھر بھی بھارت نے اپنا گھناؤنا کھیل کھیلا اور مشرقی پاکستان میں اس تاثر کو عام کیا کہ انہیں محروم رکھا جا رہا ہے اور اسی سازش کو پھیلاتے پھیلاتے آخرکار یہاں وہ حالات پیدا کئے گئے جو سقوط ڈھاکہ پر منتج ہوئے اور بھارت نے اپنے خیال میں ایک طفیلی ریاست کو جنم دیا۔ شیخ مجیب نے ان کی اس خواہش کا بھرپور احترام کیا اور پاک فوج کے اوپر ایسے ایسے الزامات عائد کئے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جن میں خاص طور پر بنگالی مسلمانوں کا قتل عام اور عورتوں کی آبروریزی کے شرمناک الزامات بھی شامل تھے لیکن اپنی سازش کی کامیابی کے صرف پانچ سال بعد ہی شاید بنگلہ فوج بھارتی غلامی برداشت نہ کر سکی اور اسے اس کے خاندان کے چالیس افراد سمیت قتل کر دیا۔ دوسری حکومتوں کے دور میں پاک بنگلہ تعلقات میں کافی بہتری بھی دیکھی گئی لیکن حسینہ واجد دخترِ شیخ مجیب کی حکومت میں پاکستان مخالف نظریات اور جذبات کو ہمیشہ ہوا دی گئی۔ جماعت اسلامی کے ان کارکنان کو جنہوں نے اس وقت بھی اپنے ملک پاکستان سے وفاداری کا ثبوت دیا اور بنگلہ دیش بننے کے بعد بنگلہ دیشی باشندوں اور سیاستدانوں کی حیثیت سے وہاں کی سیاست میں حصہ لیا اُنہیں بڑھاپے میں بے رحمی سے پھانسیاں دیں اور یہ سزا ان کی اپنے ملک سے وفاداری کے جرم میں دی گئی۔ اس کی حکومت میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو پاکستان آنے سے روکا گیا۔ ایسا بھی نہیں کہ تمام بنگلہ دیشی پاکستان کے مخالف ہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اب بھی پاکستان کیلئے نیک جذبات رکھتے ہیں اور بھارت کے اثر سے آزاد رہنا چاہتے ہیں لیکن بہت کچھ حکمرانوں پر منحصر ہے اور حسینہ واجد کی حکومت کا کبھی بھی پاکستان کی طرف مثبت رویہ نہیں رہا اور اس بار اس محتاط خط میں بھی کوئی گرمجوشی نہیں تاہم اگر اُنہوں نے ہمت کر کے رسم دنیا نبھائی ہی ہے تو اپنا رویہ بھی تبدیل کریں اور وہ تعصب جو انہیں ورثے میں ملا ہے اس سے بھی خود کو آزاد کریں اور اپنی قوم کے جذبات پر سے بھی پہرہ اٹھالے۔

مزیدخبریں