Daily Mashriq


بے رحم احتساب ایک خواب وسراب؟

بے رحم احتساب ایک خواب وسراب؟

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک مقدمے کے دوران عدالتی ریمارکس میں کہا ہے کہ دوبئی میں پاکستانیوں کے ایک سو پچاس ارب ڈالر کا سراغ مل گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت کیا کرتی ہے اور عدالت کیا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ایک سو لوگوں کے نام دے باقی ہم دیکھ لیں گے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اب تک ایک سو دس ارب کا پتا چل چکا ہے۔ ظاہر ہے یہ رقم غیر قانونی طور پر باہر گئی ہے۔ اب ٹیکس کی کٹوتی کی نہیں بھاری جرمانوں کا معاملہ ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں احتساب کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس نظریئے کیساتھ جڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ملک لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا اور ہر ایک کا کڑا احتساب ہوگا۔ احتساب جمہوری نظام کی بنیاد ہے اور جمہوریت کا تصور جہاں عوامی رائے اور طاقت سے عبارت ہے وہیں اس نظام کا لازمی حصہ احتساب بھی ہے۔ اس وقت تک دنیا کے تمام قابل ذکر ملکوں میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کا سراغ ملا ہے۔ یہ ان محنت کش پاکستانیوں کی جائیدادیں ہرگز نہیں جو اپنے وطن سے دور دیارغیر میں خون پسینے کی کمائی سے کچھ بناتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو رہتے پاکستان میں ہیں، سیاست، ملازمت اور کاروبار پاکستان میں کرتے ہیں اور جو کماتے ہیں وہ غیرقانونی ذرائع سے، جعلی دستاویزات اور فرضی ناموں سے باہر منتقل کرتے ہیں۔ اس کا مقصد ٹیکس اور احتساب سے بچنا ہوتا ہے۔ حقیقت میں معیشت کسی ملک کی رگوں میں دوڑنے والا خون ہوتا ہے اور ان لوگوں نے پاکستان کی رگوں سے خون نچوڑ کر اسے لاغر وبیمار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس طرح یہ لوگ سنگین جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان احتساب کا نظام نہ ہونے کے باعث بدعنوانی نے پہنچایا ہے۔ عمران خان کی بائیس سالہ سیاست احتساب کے نعرے اور تصور کے گرد گھومتی رہی ہے۔ پاکستان کا گرد وپیش ہی نہیں زمانہ بدل رہا ہے۔ ایک نیا عالمی منظر تشکیل پا رہا ہے۔ قومیں اگلے ایک سو سال یا اس سے آگے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں جیسے امریکہ اور بھارت کے درمیان سو سالہ دفاعی شراکت داری کا معاہدہ۔ دنیا میں یہ موڑ اور یہ مراحل صدیوں اور قرنوں بعد آتے ہیں۔ قریب قریب دوسری جنگ عظیم کے بعد یہی منظر تھا جب دنیا کی پرانی تقسیم ختم ہو رہی تھی اور وقت وحالات کی راکھ پر جہانِ نو پیدا ہو رہا تھا۔ دنیا دو نئے بلاکوں میں تقسیم ہو رہی تھی۔ ایک طرف امریکہ کی قیادت میں سرمایہ دار بلاک تھا تو دوسری طرف سوویت یونین کی قیادت میں کمیونسٹ بلاک۔ پوری دنیا ان دو بلاکوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے پر مجبور تھی۔ غیر جانبدار تحریک کا ڈول تو ڈالا گیا تھا مگر یہ درحقیقت سوویت یونین کے ہمدردوں اور ہمنواؤں کا اکٹھ تھا۔ سرد جنگ کا بھارت جس تحریک کا روح رواں ہو وہ غیرجانبدار ہونے کے علاوہ سب کچھ کہلا سکتی تھی کیونکہ عملی طور پر بھارت سوویت یونین کی تھیلی کا کینگرو تھا۔ اب دنیا کو وہی منظر اور مقام درپیش ہے۔ امریکہ اور اس کے ہمنوا جن میں اسرائیل، بھارت اور یورپ کا کچھ حصہ اورجاپان شامل ہے ایک طرف کھڑے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ روس اور چین الگ مقام پر کھڑے نظر آرہے ہیں۔ ایران، ترکی اسی جانب لڑھک رہے ہیں جلد یا بدیر سعودی عرب کے پاس بھی اسی جانب رخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ اس بلاک میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ پاکستان دنیا کی تیزی سے وسعت پذیر معیشت چین کا ہمسایہ، قریبی اتحادی ہی نہیں بلکہ دنیا کی وسعتوں کی سمت چین کیلئے کھلنے والی کھڑکی ہے۔ یہ تازہ ہوا میں سانس لینے کیلئے چین کے پاس واحد اور قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ پاکستان کا استحکام، نظام کی شفافیت چین کیلئے حددرجہ اہم ہے۔ سی پیک کی صورت میں چین نے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر کے جہاں اپنا بہت کچھ داؤ پر لگا رکھا ہے وہیں پاکستان میں خواہشات اور اخلاقی اقدار کے پروانے کے آگے ساکھ اور دیانت اور امانت کا چراغ سجا کر رکھ دیا ہے۔ یہ من حیث القوم پاکستانیوں کیلئے ایک امتحان ہے کہ وہ ماضی کے طور طریقے بدل کر دنیا کی بڑی طاقت کے اعتماد پر پورا اترتا ہے یا اپنی روایتی کہولت اور سستی کو سینے سے لگائے قیامت کی چال چلنے والے زمانے سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ چین امریکہ نہیں کہ وہ پاکستان کو قلیل المدتی مقاصد کیلئے استعمال کرکے اپنے ساتھ گھسیٹتا رہا۔ چین اور پاکستان کی سرحدیں ملتی ہیں اور پاکستان چین کیلئے آزاد دنیا سے آکسیجن کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اس لئے بدلے ہوئے وقت کیساتھ پاکستان کو بدلنا ہوگا۔ اس تبدیلی کا پہلا تقاضا بدعنوانی سے پاک سسٹم ہے۔ بدقسمتی سے بدعنوانی پاکستان میں ایک عمومی سماجی رویہ، مزاج اور عادت بن چکی ہے۔ عام فرد سے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں تک کوئی بھی شخص اس قباحت سے پاک نہیں۔ ان حالات میں پاکستان میں بے لاگ اور ہمہ گیر احتساب کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس بار یہ احتساب محض خواب اور سراب ہی رہا تو پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔

متعلقہ خبریں