Daily Mashriq


امریکہ کی بھارت نوازی

امریکہ کی بھارت نوازی

6ستمبر کو جی ایچ کیو میں منعقدہ یومِ دفاع وشہداء کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں ''کسی کی جنگ '' میں شریک نہیں ہوگا اور ہم اپنی خارجہ پالیسی بھی ایسی ہی بنائیں گے جس میں ملکی مفاد مقدم ہو۔ وزیراعظم نے ''کسی کی جنگ'' میں شامل نہ ہونے کی بات ایسے وقت میںکی ہے جب امریکہ کی طرف سے پاکستان کا کولیشن فنڈ روک لیا گیا ہے۔ یاد رہے کولیشن فنڈ وہ ہے جو پاکستان دہشتگردی کی جنگ میں اپنی طرف سے پہلے خرچ کر چکا ہے اور امریکہ کی طرف سے اس کی ادائیگی ہونا باقی ہے۔ اس بات کو آسان الفاظ میںیوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی طرف ہمارے بقایاجات ہیں۔ امریکہ کی طرف سے فنڈز کی ادائیگی کے برعکس پاکستان سے باربار ڈومور کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ امریکہ کی جنگ میں پاکستان نے بے پناہ جانی ومالی نقصان اُٹھایا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ پاکستان کی عظیم قربانیوں کو تسلیم کرتا' پاکستان کو ان قربانیوںکا صلہ ملتا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرپا تعلقات کیلئے امریکہ کی جانب سے پاکستان کی عسکری وسول قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا جاتا لیکن امریکہ نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے تعلقات استوار کئے۔ امریکہ کی دہری پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان پرکہا کہ: ''ہم پاکستان سے جو تعاون چاہتے ہیں' پاکستان وہ تعاون فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے' امریکہ اپنے مطالبات پر آج بھی قائم ہے کہ پاکستان' افغان طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے عناصر کو پاکستانی قبائلی علاقوں سے نکالے یا افغان طالبان کیساتھ سیاسی مذاکرات کا آغاز کرنے میں مدد فراہم کرے۔''

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان کے دورہ کے بعد بھارت پہنچے تو بھارتی سرزمین پر انہی کے گیت گائے جانے لگے' جسے امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کہا جا سکتا ہے' امریکہ وبھارت کے اس گٹھ جوڑ میں چین بھی نشانے پر آگیا ہے اور امریکہ کی بھارت کیساتھ دوستی وضرورت اور چین کیخلاف معاشی اور سٹریٹجک محاذ آرائی کا آغاز ہو گیا ہے' دونوں ممالک کے لیڈر اسی دائرے میں باہمی تعلقات کو دیکھنے اور بہتر بنانے میں کوشاں ہیں۔امریکہ کی طرف سے بھارت نوازی کی تازہ مثالیں پاکستان کیلئے نہایت تشویش اور پریشانی کا سبب ہیں کیونکہ پاکستان طویل عرصہ تک امریکہ کا قریب ترین حلیف رہا ہے، پاکستانی قیادت نے امریکہ کی خاطر اپنے ملک کو دہشتگردی کی دلدل میں دھکیل کر اپنے لئے خطرات مول لئے لیکن اس کے صلے میں پاکستان کو کیا ملا؟

امر واقعہ یہ ہے کہ امریکہ افغانستان کی طویل ہوتی جنگ سے نکلنا چاہتا ہے لیکن کابل حکومت پر نگرانی اور بھارت کے ذریعہ اپنا اثر ورسوخ اور تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے' اس مقصد کیلئے امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ بھارت میں امریکہ وبھارت کے مابین ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت بھارت کو امریکہ کی حساس فوجی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ امریکہ کے بھارت کی طرف میلان اور پاکستان کی نسبت بھارت کو نوازنے پر وزیراعظم عمران خان نے ''کسی کی جنگ'' میں شامل نہ ہونے کا جو اعلان کیا ہے یہ انتہائی خوش آئند ہے پاکستان کے تمام سیاسی حلقوں کی جانب سے اس کی تحسین کی جانی چاہئے۔ 9/11کے بعد جب امریکہ بدمست ہاتھی کی طرف اپنے اتحادیوں کیساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا کاش! اس وقت کے حکمران پرویز مشرف نے ہوش کے ناخن لئے ہوتے اور امریکی جنگ میںکودنے سے پہلے سوچ لیا ہوتا تو آج وطن عزیز دہشتگردوں کے نشانے پر نہ ہوتا۔ وزیراعظم عمران خان نے جو اعلان آج کیا ہے اگر چند سال پہلے ہم امریکی جنگ سے نکلنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہوتے تو آج ہم پرامن معاشرے میں جی رہے ہوتے اور قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے کیساتھ ساتھ ہماری معیشت بھی تباہ حال نہ ہوتی۔ جب سے پاکستان نے چین کیساتھ مل کر اقتصادی راہداری کا آغاز کیا ہے امریکہ وبھارت دونوں ممالک پر ہیجانی کیفیت طاری ہے' امریکہ اور بھارت چاہتے ہیں کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کسی صورت پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ پائے۔ ہماری عسکری وسول قیادت یقیناً ان کے ناپاک عزائم سے آگاہ ہوگی اور اس سے نمٹنے کیلئے انہوں نے لازمی طور پر ٹھوس منصوبہ بندی کر رکھی ہوگی لیکن وزیراعظم عمران خان نے امریکی چنگل سے نکلنے کا جو اعلان کیا ہے اس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے کیونکہ اس بات کو سمجھنے کیلئے کہ ''یہ جنگ ہماری ہے یا پرائی'' 19سال لگے ہیں، امریکہ کوشش کرے گا کہ وہ پاکستان کی روکی ہوئی امداد بحال کر کے اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔ اگر ہم ماضی کی حکومتوں کا جائزہ لیں تو امریکہ کی طرف سے جب جب نرم رویہ اختیار کیا گیا پاکستانی قیادت نے امریکہ کی توقعات سے بڑھ کر وفاداری کا ثبوت دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور عسکری قیادت پاک امریکہ تعلقات میں کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہ کریں گے اور ایسی پالیسیاں وضع کریں گے جس سے ہماری آنیوالی نسلوںکو خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ خبریں