Daily Mashriq

افغانستان امن عمل کیلئے پانچ نکاتی معاہدہ

افغانستان امن عمل کیلئے پانچ نکاتی معاہدہ

افغانستان میں قیام امن سمیت خطے کی سلامتی کے لیے پاکستان کی امن کوششیں دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں، طالبان اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا اور افغانستان کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دینا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان افغانستان کو پرامن اور خوشحال ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان قیادت کی سربراہی ہی افغانستان میں امن کا واحد راستہ ہے۔ اسلام آباد میں پاک 'چین' افغان سہ فریقی مذاکرات میں 5نکاتی معاہدے پر اتفاق بھی دراصل افغانستان میں امن کے لیے پاکستان اور چین کی جانب سے ایک کوشش ہے۔ جس میں اقتصادیات ' رابطہ سازی' سکیورٹی' انسداد دہشت گردی اور سفارتی تربیت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ہے' چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا مرحلہ وار اور ذمہ دار ہونا چاہیے' پاکستان اور چین افغان تنازعہ کے پرامن حل کے لیے طالبان اور افغان حکومت میں براہ راست مذاکرات کے خواہاںہیں' چینی وزیر خارجہ نے افغانستان میںقیام امن کیلئے زوردیتے ہوئے کہا کہ فریقین حتمی معاہدے تک مذاکرات جاری رکھیں ۔ شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی کہ وہ اگلے مرحلے میں افغانستان اور پورے خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الافغان مذاکرات کی جانب پیش رفت کریں گے۔ اسلام آباد میں سہ فریقی مذاکرات کے موقع پر چین نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر تاجروں اور لوگوں کی سہولت کے لیے کولڈ اسٹوریج ' طبی مراکز ' ایمیگریشن کاؤنٹر اور واٹرسپلائی اسکیم میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، اس موقع پر پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی طرف سے مشترکہ طور پر افغانستان کے ساتھ کثیر الجہتی شعبوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ پاکستان ' چین اور افغانستان تاریخی اور جغرافیائی طور پرجڑے ہوئے ممالک ہیں ' کسی ایک ملک کے سیاسی و معاشی حالات دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے کوشاںدکھائی دیتا ہے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغانستان میں مکمل امن کے قیام کے لیے افغان قیادت کو باہمی اختلافات ختم کرنے ہوں گے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے متعدد ادوار ہو چکے ہیں جس میں دو طرفہ اعلیٰ قیادت شامل ہوتی رہی ہے، طالبان کی طرف سے مؤقف اختیار کیاگیا کہ امریکہ نے ان کے 98فیصد مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والے مجوزہ معاہدے کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ امریکی اور بین الاقوامی فوجیں افغانستان سے نکل جائیںگی جب کہ طالبان دیگر جنگجوگروپوں کو افغانستان سے آ پریٹ کرنے کی اجازت نہیںدیں گے۔ طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والے مذاکرات کے متعدد ادوار کے دوران بھی طالبان کی طرف سے حملوںمیں کمی نہیں آئی جسے جواز بنا کرافغانستان کی موجودہ قیادت سیخ پا ہوئی اور طالبان کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے پر زور دیتی نظرآ رہی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کو مذاکرات میں شامل نہ کیا جانا بھی مذاکرات کی سبوتاژی کا سبب بن رہا ہے ۔ دو دہائیوں کی خانہ جنگی کے بعد ہونے والے مذاکرات بظاہر بے ثمر اور بے نتیجہ خاتمے کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں ' اس تناظر میں مذاکرات کو ثمر آور بنانے کیلئے چین اور پاکستان کے اہم کردار کے ساتھ ساتھ افغانستان کی قیادت اور طالبان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مذاکرات کے حتمی مرحلہ پر صبر و تحمل اور حکمت کامظاہرہ کریںکیونکہ اگر مذاکرات کے اس مرحلہ پر فریقین نے دانش مندی کا مظاہرہ نہ کیا تو خاکم بدہن افغانستان میں قیام امن کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔

متعلقہ خبریں