Daily Mashriq

بھارتی صدر کے لیے فضائی حدود کی بندش

بھارتی صدر کے لیے فضائی حدود کی بندش

بھارتی صدر رام ناتھ آئس لینڈجانے کے لیے پاکستان فضائی حدود سے گزرنا چاہتے تھے' اس مقصد کے لیے بھارتی حکام کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کی گئی لیکن پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر روا رکھے جانے والے بھارتی سلوک کے پیشِ نظر بھارت کے صدر کو آئس لینڈجانے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پاکستان کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ کشمیری عوام پر بھارتی افواج کی طرف سے بربریت و ظلم جاری ہے' پاکستان نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے محتاط طریقے سے مسئلہ کشمیر کو اُٹھایا لیکن بھارت نے مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا ' وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو اس کے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دیں گے ۔ یاد رہے کہ گذشتہ دنوں پاکستان کی جانب سے 3ماہ کے لیے فضائی حدود کے بند کیے جانے سے بھارت کی ایک نجی ایئرلائن دیوالیہ ہو چکی ہے۔ پاکستان نے بھارتی صدر کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر کے بھارت کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی روایتی حمایت ہی نہیں کر رہا ہے بلکہ وہ عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر تسلط کے بعد بھی اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ وہ تجارتی تعلقات قائم رکھ کر اپنے مفادات کی تکمیل کرے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے کیونکہ بھارت کے 5اگست کے یکطرفہ اقدام کے بعد دو طرفہ تعلقات اس قدر آسان نہیں رہے ہیں ' بھارت کو پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے قبل کشمیر کا پرامن حل نکالنا ہو گا۔

پشاور ہائی کورٹ کی حساس فائلوں تک چوکیدار کی رسائی!

ہر محکمے میں ایک ریکارڈروم ہوتا ہے 'جس میں محکمے کا تمام ریکارڈ رکھا جاتا ہے' محکمہ کی حساسیت کے پیشِ نظر ریکارڈ روم کی سیکورٹی یقینی بنائی جاتی ہے تاکہ متعلقہ افراد اور ذمہ داران کے علاوہ اس ریکارڈ روم تک کسی کی رسائی نہ ہو۔ عدالتوں کے ریکارڈ روم کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نظام انصاف کا دارومدار عدالتوں کے فیصلوں پر ہوتا ہے' یہی وجہ ہے کہ ججز کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کو سالوں تک محفوظ رکھا جاتا ہے اور بطور ریفرنس انہیں پیش کیا جاتا ہے۔ ایبٹ آباد تھانہ سٹی کی حدود سیشن کورٹ کے ا یک کمرہ سے گذشتہ دنوں 3ہزار سے زائد فیصلہ شدہ فائلیں چوری ہوئیں تو اسسٹنٹ رجسٹرار نے مقامی تھانے میں مقدمہ درج کرایا۔ پولیس کے کھوج لگانے سے پتہ چلا کہ چوری شدہ فائلوں کو کباڑ خانے میں بیچنے والا اسی عدالت کا چوکیدار ہے جس نے محض چند سو روپے کے لالچ میں قیمتی فیصلوں پر مبنی عدالت کی فائلیں بیچ ڈالیں' ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو محض سرسری نہ لیا جائے، اس کی مکمل انکوائری کرائی جائے کہ چوکیدار کے پیچھے اصل کون لوگ ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت کے ریکارڈ روم کی سیکورٹی یقینی بنائی جائے تاکہ ناقص سیکورٹی کا فائدہ اٹھا کر کوئی حساس مواد تک رسائی نہ کر سکے۔

تندور صارفین کیلئے گیس کے پرانے نرخوں کی بحالی

روٹی کی قیمت کے تعین کے حوالے سے حکومت اور نانبائیوں میں تاحال اتفاقِ رائے نہیں ہو پا رہا ہے' نان بائی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ تقریباً 2ماہ پہلے معاملات طے پا گئے تھے' جس میں حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ آٹا سستا اور گیس کے پرانے نرخ بحال ہوں گے ' آج دو ماہ ہونے کو ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کیے گئے وعدے پورے نہیںکیے گئے ہیں۔نان بائی ایسوسی ایشن کے ذمہ داران نے حکومت سے شکوہ کیا ہے کہ سوئی ناردرن گیس نے نئے ٹیرف کا اعلامیہ جاری ہونے کی تاریخ سے نان بائیوں کو لاکھوں کے بل بھیج دیے ہیں ' اس ضمن میں نان بائیوںکا متفقہ فیصلہ ہے کہ گیس بل جمع نہیںکرائے جائیں گے ۔ دوسری طرف حکومت نے تندوروں کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے لیا ہے'تندوروں کے صارفین سے یکم جولائی سے پہلے کے نافذ العمل نرخ لیے جائیں گے ' جب کہ جن تندور مالکان نے اضافی ریٹ کے ساتھ بل جمع کرائے ہیںوہ بلوں کی درستگی کے لیے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفاتر سے رجوع کریں تاکہ ان کے گیس کے بل آنے والے نرخوں کے حساب سے ایڈجسٹ کر دیے جائیں۔ حکومت اورنانبائیوں کے درمیان اتفاقِ رائے نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ حکومتی سطح پر منصوبہ بندی کا فقدان ہے ' یوں اس کا نقصان عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومتی منصوبہ سازخوب غور و خوض کرتے اور ایک ایسا فیصلہ کرتے جو نان بائیوں کو بھی قبول ہوتا اور عوام کی قوتِ خرید بھی متاثر نہ ہوتی ۔اب اگر تندور صارفین کے لیے گیس کے پرانے نرخ بحال کر دیے گئے ہیں توعوام کو مناسب نرخوں پر روٹی کی دستیابی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

کم عمر قیدیوں کیلئے بورسٹل انسٹیٹیوٹ منصوبہ

18سال سے کم عمر بچے جو کسی نہ کسی جرم میں ملوث ہو کرجیل چلے جاتے ہیں ایسے کم عمر بچے چونکہ ناپختہ ذہن ہوتے ہیں' ان میں زیادہ تر تعداد لاوارث یا گھر سے بھاگے ہوئے بچوں کی ہوتی ہے اس لئے جرائم پیشہ افراد کے کہنے پر نادانستہ طور پر مختلف جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں، ایسے قیدیوں کے بارے میں ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جس قدر ممکن ہو سکے ان بچوں کو باعزت شہری بنایا جائے۔ اگر ان بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت کی جائے تو یقیناً یہ بچے باعزت شہری بن سکتے ہیں۔ اس منصوبے پرعمل درآمد کے لیے ریاست کو چند اقدامات اٹھانے ہوں گے جن میں سے سرفہرست اقدام یہ ہے کہ کم عمر بچوں کے لیے الگ سے جیل ہونی چاہیے۔ سات سال قبل ایم ایم اے کی حکومت نے کم سن قیدیوں کی ذہنی ' اخلاقی اور نفسیاتی بحالی کے لیے ابتدائی خاکہ تیار کیا 'تاہم قانون موجود نہ ہونے کی بنا پر اس منصوبے پرعمل درآمد کو یقینی نہ بنایا جا سکا'7سال بعد تحریک انصاف کی حکومت نے اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کی تحسین کی جانی چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ تحریک انصاف کی حکومت اس منصوبے پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرے گی۔

متعلقہ خبریں