Daily Mashriq

غربت اور جہالت ختم کیسے ہوںگے حضور؟

غربت اور جہالت ختم کیسے ہوںگے حضور؟

جی بالکل غربت اور جہالت سے لڑنا چاہئے لیکن یہ حکومت وقت کا کام ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ فروغ علم کیلئے پالیسی بنائے۔ لازم ہے کہ کم ازکم بارہویں جماعت تک مفت اور لازمی تعلیم ہو۔ بارہویں جماعت کا امتحان اگر سکالرشپ کیلئے بھی سمجھا جائے تو معاشرے کے عام طبقات کے مستحق ومحنتی بچوں کو آگے بڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے کیساتھ ساتھ سماجی ارتقاء میں اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان میں حکومت نے تعلیم' صحت اور روزگار کے حوالے سے اپنے فرائض کبھی بھی دو سے تین فیصد بھی مشکل سے ادا کئے۔ تعلیم تجارت ہے یہاں اور صحت کا شعبہ بھی تاجروں کے حوالے ہے۔ فقیر راحموں تو قصابوں کے حوالے کہتا ہے، خیر اس کی بات رہنے دیں، آگے بڑھنے سے قبل ایک بات عرض کروں' چھ ستمبر کو یوم شہداء منایا گیا۔ ریاست نے جو افغان پالیسی پر ہزاروں پاکستانیوں کی قربانی دلوائی انہیں یاد کیوں نارکھا گیا؟ ہم تعلیم پر ہی بات کرلیتے ہیں، طویل عرصہ سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ میٹرک تک ذریعہ تعلیم مادری زبان کو ہونا چاہئے، ذریعہ تعلیم نہیں تو کم ازکم دسویں جماعت تک مادری زبان لازمی مضمون کے طور پر نصاب کا حصہ ہو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ نصاب میں شامل تاریخ کے مضمون کو ازسرنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم ایسا کر پائیں گے؟ میرا جواب نفی میں ہے۔ نصاب میں شامل تاریخ کا مضمون دو حصوں پر مشتمل ہونا لازمی ہے، اولاً اس انڈس ویلی کی تاریخ جہاں بہتر سال قبل پاکستان قائم ہوا، مجھے اعتراف ہے کہ اس حصے میں ہم سقوط مشرقی پاکستان کے بنیادی اور حقیقی عوامل پر بات نہیں کرسکیں گے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی سطح پر حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کو نصاب کا حصہ بنا لیا جائے؟۔ یہ شکوہ بھی درست ہے کہ جدید نصابی تعلیم میں سے فنی تعلیم کو الگ کردیا جائے تو باقی ماندہ تعلیم محض ملازمتوں میں تو معاون بن سکتی ہے' علم وآگہی میں نہیں۔ میری رائے فنی تعلیم کے حوالے سے بھی یہی ہے اگر تحقیق کے اگلے مراحل کی طرف طالب علم نہیں بڑھتا تو پھر یہ بھی محض ملازمت اور کمائی کا ذریعہ ہے۔ اصل چیز تحقیق وجستجو ہے۔ بنیادی طور پر یہ ہمارے اہل دانش اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل میں علم دوستی اور تحقیق کا شوق بیدار کریں۔ بدقسمتی سے ہم روایتی تعلیم سے آگے دیکھنے کیلئے اس لئے آمادہ نہیں کہ ڈرتے ہیں کہ اگر علم کے نور سے اُجالا پھیلا تو بالادست طبقات کیساتھ ساتھ ریاست کو بھی پسپا ہونا پڑے گا۔ علم بنیادی طور پر جستجو کی لگن بیدار کرتا ہے، سوال اُٹھتے ہیں۔ حاضر وموجود پر گزرے کل پر اور مستقبل سے جڑے معاملات پر ہم سوالوں سے بھاگتے ہیں۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ' ریاست اور بالادست طبقات تینوں کو علم وآگہی کی دولت سے مالامال نسل سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ مصنوعی مہارات' جعلی تاریخ' خطبہ عظمت سب کے راکھ ہو جانے سے ڈرتے ہیں۔ اب ہم سوال کرسکتے ہیں' جناب اگر غربت اور جہالت سے لڑنا ہے اور علم وآگہی کے دروازوں پر بھاری بھر کم تالے اور فتوؤں کی باڑ لگائے رکھنی ہے تو جہالت کیسے ختم ہوگی؟ غربت کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ ریاستی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ مثال کے طور پر حکومت ماچس کی ڈبی سے خوردنی تیل، صابن سے ٹوتھ پیسٹ سمیت ہر چیز پر ٹیکس وصول کرتی ہے، ریبیٹ سرمایہ داروں کو دیتی ہے۔ عام صارف کو حکومت نے کیا دیا کل یا آج۔

غور کرنے کو سوالات بہت ہیں اور یہ بے سر وپا ہرگز نہیں۔ بات وہی ہے کہ سوال کس سے کریں، ایک تصویر دو دن سے گردش کر رہی ہے تحریک انصاف کے رہنما اور وزیراعظم کے ایک معاون اپنی جماعت کے کسی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں اور وزیراعظم کی کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ اس پر اعتراض ہوا تو جوابی طور پر ایک نوٹیفکیشن لہرایا گیا۔ حد ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اگر وزیراعظم اور پاکستان کے پرچم دائیں بائیں رکھے ہوں تو پھر لازم ہے کہ کرسی صدارت پر وزیراعظم ہی بیٹھیں۔ گھوم پھر کے ہم پھر اصل موضوع پر آتے ہیں۔ اس وقت ملک میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد مجموعی آبادی کے 50فیصد سے زیادہ ہے۔ بدترین مہنگائی اور یوٹیلٹی بلز میں سے بجلی کے بلوں میں پچھلے ایک سال کے دوران جو اضافہ ہوا اس نے متوسط' سفید پوش اور نچلے طبقات کے چودہ میں سے اُٹھارہ طبق روشن کر دئیے ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے کم سے کم تنخواہ کی جو حد مقرر کی ہے اس حد میں اوسطاً 5افراد کا خاندان کیسے گزارا کرسکتا ہے؟ کیا حکومت کے بڑے کسی دن ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت محسوس کریں گے کہ 17500 روپے میں پانچ افراد کا کنبہ 30دن کیسے بسر کرے گا؟۔ ایک اور المیے کی طرف متوجہ کرتا ہوں، پہلے رمضان میں مہنگائی ہوئی پھر عیدین پر مہنگائی کی جو صورت بنی وہ ان سطور میں عرض کی اب محرم الحرام کے مقدس ماہ میں ایک بار پھر منافع خور بھوکے لٹیروں کی طرح عوام پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ ہم دعوے بہت کرتے ہیں اسلام اعلیٰ وارفع دین اور مسلمان اللہ کی پسندیدہ امت ہیں۔ پسندیدہ امت کے پاکستانی ایڈیشن کا حال یہ ہے کہ اپنے ہی بھائیوں کو منافع کے نام پر لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر کسی چیز یا چند اشیاء کی وقتی طور پر مانگ بڑی ہے کہ منافع کم کر کے زیادہ سیل کے ذریعے استفادہ کیا جائے مگر یہاں حالت اور ذہنیت یہ ہے کہ محرم کے دس دنوں میں سال بھر کا منافع وصول کرلینے کی سوچ حاوی ہے۔ بجا ہے کہ سارے کام حکومت کے نہیں کچھ میرے اور آپ کے کرنے کے بھی ہیں تو کیوں نا کسی مہینے ایک ہفتے کیلئے گوشت اور برائلر مرغی کا بائیکاٹ کرکے منافع خوروں کی طبیعت درست کی جائے۔

متعلقہ خبریں