Daily Mashriq

سی پیک کی'' پیکنگ'' کا افسانہ

سی پیک کی'' پیکنگ'' کا افسانہ

میڈیا پر چلائی جانے والی ایک منظم مہم کے دوران اب پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جینگ نے تاجروں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین سی پیک پر کام کی رفتار سے مطمئن ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارت کا دوسرا مرحلہ اگلے ماہ حتمی شکل اختیا رکرے گاجس کے بعد پاکستان کی زرعی پیداوار اور سی فوڈسمیت نوے اشیا پر صفر ڈیوٹی ہوگی جس سے تجارت متوازن کرنے میں مد د ملے گی۔چینی سفیر کی اس وضاحت سے پاک چین تعلقات کے حوالے اسے سوشل میڈیا پر اُڑائی جانے والی گرد بڑی حد تک بیٹھ جائے گی ۔گزشتہ عرصے میں یہ خبریں بہت منظم انداز میں پھیلائی جا رہی تھیں کہ پاکستان نے امریکہ کا دبائو قبول کرتے ہوئے سی پیک پر کام یا تو روک دیا ہے یا پھر اس کی رفتار سست کر دی ہے ۔رفتار کی تیزی اور سستی تو گوارا ہو سکتی تھی مگر سی پیک پر کام کی بندش کا مقصدپاکستانی عوام کو کنفیوژن میں مبتلا کرنا تھا جس کا منطقی نتیجہ مایوسی اور بے چینی کی صورت میں برآمد ہو سکتا تھا ۔ ایک عام آدمی اس منصوبے کو ایک موقع اور امکان سمجھ رہا ہے اور پاکستان نے اس منصوبے کے لئے اپنے گردوپیش سمیت زمانے بھر کی مخالفت مول لئے رکھی ہے ۔پاکستان پر حالیہ برسوں ٹوٹ پڑنے والے بہت سے عذابوں کا سرا گوادر کی بندرگاہ سے جاملتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد تو ان افواہوں نے زیادہ منظم اور منصوبہ بند طریقے سے پھیلنا شروع کر دیا ۔ان افواہوں کے ساتھ ایک زخم خوردہ سیاسی طبقہ اس موقف کے ساتھ سامنے آیا کہ ماضی قریب کی سیاسی اتھل پتھل کا اصل مقصد تو یہی تھا کہ سی پیک کو ختم کیا جائے ۔اپوزیشن کی دو جماعتیں بھی سی پیک کا سہرہ اپنی قیادتوں کے سر باندھ کر سی پیک کی پیکنگ کے تاثر کو ہوا دینے لگیں ۔ایک افواہ تو یہ بھی اُڑی کہ سی پیک کے منصوبوں کا تعمیراتی سامان پیک کر کے واپس بھیجا جانے لگاہے۔ان ساری افواہوں کا منبع بے لگام سوشل میڈیا تھا اور پھر کچھ جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل ان افواہوں پر مشتمل پوسٹوں کو عبادت سمجھ کر پھیلاتے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح لفظوں میں کہہ چکے تھے کہ پاکستان کو سی پیک کے قرض اتارنے کے لئے آئی ایم ایف سے قرض دینے کی مخالفت کریں گے اور امریکہ اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔ عمومی تاثر یہ تھا کہ امریکہ کے اسی دبائو کو ٹالنے کے لئے وزیر تجارت نے اہتمام کے ساتھ امریکی اخبار کو یہ انٹرویو دیا ہے ۔ بعدمیں امریکہ کا دبائو تو واقعی کم ہوامگر حکومت شکوک وشبہات کی زد میں آگئی۔خود عوامی جمہوریہ چین نے بہت فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت کو سی پیک کے منصوبوں پر نظرثانی کا اختیار ہے۔چین نے کسی مرحلے پریہ تاثر نہیں دیا کہ پاکستان کسی دبائو میں آکر سی پیک کے کام کی رفتارسست کر رہا ہے اور چین اس سے خوش نہیں ۔چین نے افواہوں کے طوفان میں پاکستان کے فیصلے کے حق کا احترام اور دفاع کیا ۔چینی قیادت کو اندازہ تھا کہ نہ تو سی پیک کے زیر کار منصوبے پاکستان کو معاشی دلدل سے فوری طور پر نکال سکتے ہیں اور نہ چین فوری طور پر تمام معاشی مسائل حل کر سکتا ہے ۔یہ مسائل صرف آئی ایم ایف ہی کسی حد تک حل کر سکتا ہے ۔چین کو امریکہ کی مخالفت اور پاکستان کی مشکلات کا بھی انداز ہ تھا ۔اسی لئے کچھ عرصہ سے سی پیک پاکستانی میڈیا سے غائب سا ہوگیا ہے ۔ماضی میں سی پیک کی زمین سے زیادہ میڈیا پر دھوم مچی رہتی تھی جس سے ایک عام پاکستانی کی امیدوں کا گراف بہت بلند رہتا تھا اور اسے یہ خوش فہمی رہنے لگی تھی کہ سی پیک ایک چھومنتر کی طرح ان کے تمام معاشی مسائل کو حل کر دے گا ۔ایسا ہر گزنہیں تھا کیونکہ سی پیک ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے جس کے دیر پا اثرات آنے والے ماہ وسال میں ہی سامنے آسکتے ہیں۔میڈیا میں سی پیک کا ذکر غائب ہونے سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی کہ پاکستان نے امریکہ کے دبائو اور آئی ایم ایف کی فرمائش پر سی پیک کی پیکنگ شروع کر دی ہے ۔پاکستان اور چین کی دوستی اور تعلق باہمی بقاو احترام کی بنیاد پر برقرار رہا ۔چین نے پاکستان کو اپنے اصل رنگ اور رخ کے ساتھ دوست بنایا اور رکھا ہے ۔اس کے برعکس امریکہ نے پاکستان کو ایک مخصوص شبیہ اور شباہت کے ساتھ دوست رکھنے پر اصرار کیا ہے ۔ گویا کہ پاکستان تہذیب ونظریات تک امریکنائز ہو تو دونوں کی دوستی چل سکتی ہے۔یہ زاویۂ نظریہ نظر پاکستان اور امریکہ کے درمیان مسائل اور مشکلات کا باعث بنتا رہا ہے ۔چین اور پاکستان کی دوستی حکمرانوں کے چہروں مہروں اور سیاسی ضرورت سے ماورا رہی ہے ۔چونکہ دونوں کی بقا ایک دوسرے سے جڑے رہنے میں ہے اس لئے چھوٹے موٹے معاملات اس بڑی حقیقت اور تاریخی سچائی پر غالب نہیں آسکے۔آنے والے دنوں میں دونوں کو مشترکہ چیلنج کا سامنا کرنے پڑسکتا ہے ۔چینی سفیر نے ایک اہم موڑ پر سی پیک کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرکے یہ بات واضح کردی ہے کہ اصل حقیقت سوشل میڈیا پر گمنان عناصر اور سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا ونگز کی تراشی گئی افواہوں سے قطعی برعکس ہے۔سی پیک کے منصوبوں کو میڈیا سے نکالنے یا اس کی رفتار دھیمی کرنے کا اگر کوئی عمل ہوا بھی ہے تو یہ پاکستان اور چین کی باہمی مشاورت کا نتیجہ ہوگا۔امریکہ سے ربط وتعلق برقرار رکھنا پاکستان کی ضرورت تو ہو سکتی مگر یہ چین کی ناراضگی کی قیمت پر نہیں ہوسکتا۔

متعلقہ خبریں