Daily Mashriq

سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لئے

سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لئے

لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند' وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے چند ریان جیسے منصوبے نہ بنائیں جس میں بھارتی غریب عوام کے نوسو کروڑ ڈوب گئے۔ اب کشمیر بھی بھارت کے لئے چند ریان ثابت ہوگا۔ بھارت کی جانب سے چاند پر خلائی مشن چند رائن بھیجنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد مشن کے سربراہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے تو مودی نے انہیں گلے لگا کر تسلی تو دی لیکن خود شرمندگی کی وجہ سے مایوس ہو کر خلائی سٹیشن سے چلے گئے۔ اس صورتحال پر ہمارے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے طنزیہ جملے کسے' اپنی ایک ٹویٹ میں فواد چوہدری نے بھارت کو مشورہ دیا کہ وہ بغیر سوچے سمجھے چند ریان جیسے منصوبے نہ بنائے جس میں غریب بھارتی قوم کا نو سو کروڑ لٹ جائے۔ اب بھارتی وزیر اعظم اس کا الزام بھی پاکستان پر لگا دے ' کیا ہم نے کہا تھا کہ نو سو کروڑ نا لائقوں پر لگا دو۔ بھارتی قوم کو اربوں روپے ضائع کرنے پر مودی سے سوال کرنا چاہئے۔ فواد چوہدری نے کہا اب نریندر مودی تم سو جائو تمہارا کھلونا چاند کی بجائے ممبئی میں اتر گیا ہے۔ ادھر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی بھارتی خلائی مشن چند ریان کی ناکامی پر اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ اب بھارت خلائی مشن کی ناکامی کا ملبہ پھر آئی ایس آئی یا معصوم کشمیریوں پر ڈالے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ چندریان کی ناکامی کے پیچھے مسلمانوں یا کسی اور اقلیت کاہاتھ ہے یا بھارتی سٹیٹلائیٹ کی درست سمت میں لینڈنگ نہ کرنے کی ذمہ دار آئی ایس آئی ہے۔ چند ریان 2کو چاند کے مخالف حصے کی طرف بھیجے جانے سے ایک پرانا لطیفہ یاد آگیا ہے پرانے زمانے میں کہیں کوئی شخص کنویں میں گر گیا تھا' گائوں کے سادہ لوگ تھے' انہوں نے بہت کوشش کی کہ کنویں سے اس بندے کو باہرنکالا جائے مگر انہیں کوئی ترکیب سمجھ میں نہیں آرہی تھی' اس دوران کسی سمجھدار شخص کا اس گائوں سے گزر ہوا۔ اس نے لوگوں کاجم غیر دیکھا تو صورتحال معلوم کرنے کے لئے قریب گیا۔ پوچھنے پر ساری بات اسے بتائی گئی۔ اس نے ایک لمبی رسی لانے کو کہا اور پھر اسے کنویں میں پھینک کر نیچے پھنسے ہوئے شخص کو یہ رسی اپنی کمر کے گرد مضبوطی سے باندھنے کو کہا' پھر گائوں کے چار پانچ تنومند نوجوانوں کو رسی کھینچنے کی ہدایت کی تو چند لمحوں ہی میں کنویں میں پھنسا ہوا شخص باہر نکل آیا۔ گائوں کاایک بزرگ یہ سارا تماشا دیکھ رہا تھا' کچھ عرصے بعد ایک نوجوان ایک اونچے درخت پر پھل توڑنے کے لئے چڑھ گیا مگر پھر نیچے آنے سے خوفزدہ ہو رہا تھا۔ اس نے شور مچا دیا' گائوں سے لوگ دوڑتے ہوئے آئے' مگر ان کوسمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کیسے اتارا جائے۔ اس دوران میں گائوں کا وہ بزرگ بھی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہاں پہنچ گیا۔ اس نے سب کو ڈانٹا اور کہا کتنے بے وقوف لوگ ہو' اتنا چھوٹا مسئلہ تم سے حل نہیں ہو رہا' جائو جا کر ایک رسی لائو' تھوڑی دیر میں رسی لائی گئی تو اسے اچھال کر درخت پر بیٹھے ہوئے نوجوان تک پہنچائی گئی اوربزرگ نے اسے رسی مضبوطی سے اپنی کمر کے گرد کسنے کو کہا' رسی کا حلقہ بنا کر نوجوان نے اپنی کمر کے گرد مضبوطی سے باندھ لیا تو پھر تین چار افراد کو وہ رسی کھینچنے کا حکم دیاگیا۔ درخت پر بیٹھا ہوانوجوان تیزی سے نیچے آیا مگر زمین پر گرنے سے مر گیا' بوڑھے بزرگ نے کہا' حیرت ہے' اس بھلے مانس نے اسی طریقے سے تو کنویں میں پھنسے ہوئے شخص کو نکالا تو وہ تو نہیں مرا تھا' بقول ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار

آئینے لٹ گئے' حیرانیاں آباد رہیں

آنکھ میں شہرکی ویرانیاں آباد رہیں

خواب رسوا ہوئے' سنگسار ہوئیں تعبیریں

روپ برہم ہوا' نادانیاں آباد رہیں

بھارت سرکار نے چندریان سیریز کے ذریعے اسی صورتحال کو بڑھاوا دینا شروع کر رکھا ہے کہ گھوڑوں کو نعل لگواتے دیکھ کر مینڈکوں نے بھی اپنے پائوں اٹھانا شروع کردئیے تھے۔ اب ظاہرہے نعل لگوانا کوئی کھیل تو نہیں ہے۔ نعل کے ساتھ لمبی نوکیلی کیل بھی پائوں میں ٹھکوانی پڑتی ہیں' وہ جو پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ چیندخ (مینڈک) پہ لوٹہ اوختو کشمیر یے اولیدو' یعنی مینڈک مٹی کے ایک ڈھیلے پر چڑھا تو اسے کشمیر نظر آگیا۔ مگر یہاں تو چندریان کو فضا میں پہنچا کر بھی مودی سرکار کو کشمیر نظر آیا نہ وہاں مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے کے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اب جہاں تک چند ریان ون اور چند ریان ٹو کی ناکامیوں کا تعلق ہے تو ناکامی صرف خلائی مشنوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر اکثر و بیشتر وائرل ہونے والی وہ پوسٹیں بھی موجود ہیں جن میں بھارتی میزائلوں کی ناکامیوں کی ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں بلکہ ایک جگہ تو بھارت کے فوجی ایک گولہ داغتے ہوئے یوں دیکھے جاسکتے ہیں کہ جیسے ہی یہ گولہ داغا جاتا ہے تھوڑی اونچائی تک پہنچنے کے بعد اس کا رخ واپس زمین کی طرف ہوجاتا ہے اور بھارتی سورما یہ صورتحال دیکھ کر بھاگنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ چارلی چپلن کے ایک فلم کا سیکول بنایا جا رہا ہے جس میں چارلی چپلن توپ سے گولا داغتا ہے تو اونچائی تک پہنچ کر اس کارخ واپس زمین کی جانب ہوجاتا ہے۔ باتیں تو اور بھی بہت کہی جاسکتی ہیں مگر بقول شاعر

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے

سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لئے

متعلقہ خبریں