Daily Mashriq

یکساں نظام تعلیم

یکساں نظام تعلیم

عزیز میں مختلف حوالوں سے یکساں نظام تعلیم کی افادت و اہمیت اور ضرورت پر آوازیں اٹھتی رہتی ہیں لیکن آج تک اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کام دیکھنے میں نہیں آیا بات صرف زبانی کلامی دعووں تک ہی محدود رہی ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی مدارس سے فا رغ ا لتحصیل نوجوان ہمارے معاشرے کا حصہ بنیں اس کی تعمیر و ترقی میں عملی طور پر حصہ لیں اور اپنے آپ کو صرف مساجد تک محدود نہ کریں آج کے جدید نظام تعلیم اور اسلامی نظام تعلیم میں کہیں بھی اختلاف کی وہ صورت نہیں ہے جو عام طور پر ہمارے ماڈرن نوجوان کے ذہن میں ہے۔مشہور عالم دین سید سلیمان ایک مضمون میںیہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آج ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ہم یہ نحو و صرف ادب و بلاغت و حدیث و تفسیر و فقہ و اصول کی کتب پڑھتے ہیں جو ہمارے مدارس اسلامیہ کے بالکل محدود ماحول میں پڑھائی جاتی ہیں جبکہ اللہ پاک ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم آسمانوں زمینوں اور ذرات و کواکب کو بھی پڑھیں ہم جمادات و نباتات و حیوانات و انسان کو پڑھیں۔ہم یہ ساری چیزیں پڑھیں اللہ پاک ہم کو ان تمام چیزوں بلکہ تمام کائنات کے پڑھنے کا حکم دیتا ہے نیز یہ زمینی سیارہ بھی ہماری تعلیم و تحقیق کا محور ہے جو ہمارے لیے ہی بنا یا گیا ہے۔درحقیقت رسول پاکۖ ایک بھرپور تعلیمی نظام کے ساتھ تشریف لائے۔وہ فرائض و واجبات اور ذمہ داریاں، لوگوں کے حقوق،خواتین کے حقوق،بچوں کے حقوق،حاکم و رعایا کے حقوق کے حوالے سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں۔اور یہ وہ تمام موضوعات ہیں جنہیں ہم پڑھتے ہیںیہ سارے کے سارے اس علم میں مرکوز ہو جاتے ہیںجس کو وحی الٰہی نے نازل کیا ہے۔

اللہ پاک نے قرآن پاک میں انسان کو بار بار کائنات کے مطالعے کی طرف متوجہ کیا۔ہم نے کالجوں اور عصری جامعات کے شعبوں کو کیوں چھوڑ دیا۔ہم نے علم کو دین اور دنیا کے خانوں میں بانٹ دیا۔یہ تفرقہ انتہائی قابل مذمت ہے۔جس نے قدیم و جدید کے مابین اور علم دنیا و علم آخرت کے مابین،علوم شرعیہ اور علوم ٹیکنالوجی کے مابین تفرقہ ڈالا ہے۔یہ ناپسندیدہ تفرقہ اصل میں انگریز نے پیدا کیا ہے اس نے برصغیر پاک وہند کے علماء بلکہ مسلمانوں کے ذہنوں پر یہ تفرقہ مسلط کردیا، پھر یہی تفریق مصر میں مسلط کی گئی شام پر مسلط کی گئی اور پھر عالم اسلام کے تمام ممالک پر یہ تفریق مسلط کردی گئی۔رسول پاکۖ کے دور میں مسلمان اس تفریق سے با لکل واقف نہیں تھے۔ بنو امیہ کے دور تک،بنو عباس کے دور تک، ترکوں کے دور تک، مغلوں کے دور تک، تقریبا تیرہ صدیوں تک یہ تفریق بالکل نہیں تھی۔اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس تفریق کو ختم کریں اور ایک یکساں نظام تعلیم قائم کریں۔امت مسلمہ اس یکساں نظام تعلیم کو تمام چیزوں اور تمام میدانوں میں اختیار کرے۔ہمیں جائزہ لینا ہے پوری دنیا کا،پوری انسانیت کا،دنیا ہماری نگاہوں کے سامنے ہے اور ہم جس نبی پاکۖ کی بات کررہے ہیں اس نبیۖ کی بات بغیر آفاقیت کے، بغیر گلوبلائزیشن کے ہو ہی نہیں سکتی۔ہمارے نبیۖ جو نظام لے کر آئے وہ آفاقی تھا وہ پوری دنیا کے نفع کے لیے تھا ہمیں ذاتی نہیں پوری دنیا کا نفع دیکھنا ہوگا۔اگر ہم حضورپاکۖ کے نظام تعلیم پر بات کریںتو ہمیں اپنی ذات سے نکل کر پوری دنیا کے ماحول اور نظام کو سامنے رکھنا ہو گا۔ہمیں اسلام کے نظام تعلیم کے ضمن میں سوچنا ہوگا کہ کیااسلام کے نظام تعلیم کا صرف یہ مقصد ہو سکتا ہے کہ چند علماء تیار ہو جائیںجو منبر و محراب کی زینت ہوںجو سیرت پر بیانات فرمائیںجو امامت و خطابت کا فریضہ سر انجام دیں؟ ہمیں سمجھنا ہو گاکہ حضرت ابوبکرو عمر و عثمان و علی یا خالد بن ولیداور عمرو ابن العاص،سعد ابن ابی وقاص،عبداللہ ابن مسعود اور زید بن ثابت ۔اور کون کون سے نام لیں ۔ کیا ان کی تیاری صرف اس لیے ہوئی تھی کہ ہمارے منبر،ہماری محرابیں، ہماری خانقاہیں اور مدرسوں کی چار دیواریوں میںکچھ اللہ والے پیدا ہو جائیں، کیا صرف یہ مقصد تھا؟ ہم نے ابن خلدون کو شاطبی کو شاہ ولی ا للہ کو مجدد الف ثانی کو ابن تیمیہ کو ابن قیم ا لجوزیہ کواور کس کس کو بھلا دیا؟ ہم نے زہراوی کو ، کندی کو،فارابی کو،ابن سینا کو اور اپنے فلاسفہ کو فراموش کردیا۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیںاور بھکاریوں کا پیالہ لیے ہوئے اپنا قانون مانگتے ہیں۔تعلیمی نظام مانگتے ہیں۔ جو نظام اس وقت مدارس میں نافذ ہے سچی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کے نظام تعلیم کا ایک چھوٹا سا حصہ کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے۔ کھانے کا ایک نوالہ ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس پر اصرار اور اسے باقی رکھنے کی کوششیں یہ روایت پرستی ہے اور رسمیت کا وہ جال ہے جس کے لوگ بری طرح شکار ہو چکے ہیں جب تک اس کو توڑا نہیں جائے گا اور عہد نبویۖ کے مطابق دوبارہ اپنے نظام تعلیم کو قائم نہیں کیا جائے گا جس سے وہ افراد پیدا ہوںجن کے ہاتھ میں زندگی کا پورا نظام تھا اور انہیں کبھی کسی سے بھیک مانگنے یا پیوند لینے کی ضرورت نہیں پڑی۔اگر آزاد فضائوں میںبھی ہم اتنے تھوڑے پر قناعت کر کے بیٹھ گئے تو اللہ پاک ہماری اس غفلت لاپرواہی اور کم ہمتی پر ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ کیونکہ ہمارا کام دنیا کی امامت تھا۔ہمارا کام دنیا کی سیادت تھا۔ہمارا کام دنیا کے تمام نظاموں پر اسلام کے نظام کو غالب کرنا تھا مگر ہم خاموش بیٹھ گئے۔ہمیں اٹھ کر اپنے قیمتی ورثے کو سنبھالنا ہو گا۔

متعلقہ خبریں