Daily Mashriq

پشاور میں جگہ جگہ کھڑے رکشوں سے شہری عاجز آگئے

پشاور میں جگہ جگہ کھڑے رکشوں سے شہری عاجز آگئے

(مشرق رپورٹ)پشاورمیںاندرون شہر جگہ جگہ کھڑی گاڑیوں نے شہریوںکی زندگیاں اجیرن بنا دیں، کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے رکشہ ڈرائیورز رکشے سڑک کے کنارے کھڑی کرکے دن بھر قہوہ خانوں میں بیٹھ کرگپیں مارتے رہتے ہیں جسکی وجہ سے شہری معمولات زندگی کے دوران ہر راہ پر کھڑے رکشوں سے عاجز آگئے ہیں ، رکشہ ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ روزگار میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ کی وجہ سے شہری رکشوں میں سفر کرنے کو ترجیح نہیں دیتے، ڈرائیورز کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بڑھنے والی مہنگائی نے انکا بھی جینا مشکل بنا دیاہے ، انکا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سی این جی کی قیمتیں 76روپے سے بڑھ کر 138روپے ہوگئی ہے پہلے ہم جو ٹینکی 450روپے میں بھرتے تھے وہ اب ہم 1200روپے بھرنی پڑتی ہے ، انکا کہنا تھا کہ مزدوری میں بھی بے تحاشا کمی آئی ہے پہلے پورے دن میں 1500سے 2000تک مزدوری کرتے تھے اب وہی مزدوری 500روپے پر آگئی ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

متعلقہ خبریں