Daily Mashriq

باقص معاشی منصوبہ بندی فرنیچر کا کاروبار بھی تباہ ہو کر رہ گیا

باقص معاشی منصوبہ بندی فرنیچر کا کاروبار بھی تباہ ہو کر رہ گیا

پشاور(صابر شاہ ہوتی ) حکومت کی ناقص معاشی منصوبہ بندیوں نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوںکو بری طرح متاثر کیا ہے وہاں ان پالیسیوں کی وجہ سے فرنیچرکے کاروبار کو بھی شدید دھچکا لگا ہے ، گزشتہ ایک سال کے دوران فرنیچر کی فروخت میں 70فیصد کمی آئی ہے جبکہ جو سیٹ 25000روپے میں فروخت ہوتا تھا وہ اب35000 روپے اور70000روپے والا سیٹ 90000روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، کاریگروں کی مزدوری میں 400روپے اضافہ ہوا ہے جبکہ دوکانوںکے کرایوں میں 20فیصد اضافہ ہوا ہے، شادی بیاہ کے لئے تیار کئے جانے والاایک سیٹ ایک بیڈ ،سنگھار میز، شوکیس،میز سیٹ ، کپڑوں کی الماری اور صوفہ سیٹ پر مشتمل ہوتا ہے جسکی قیمت میں گزشتہ ایک سال کے دوران 8000روپے کااضافہ ہوا ہے ، کاروبار سے منسلک افراد نے مشرق سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فرنیچر کے میٹریل کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے ہلکابیڈ جو 8000روپے میں فروخت ہوتاتھااسکی قیمت اب 12000روپے ہوگئی ہے ، انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے اب کاریگر بھی پرانی اجرت پر کام نہیں کرتے کاریگروں کی مزدوری میں ایک سال کے دوران 400روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے دوکانوں کے کرایوں میں بھی ہر سال کی نسبت 10فیصد کے بجائے 20فیصد اضافہ ہوا ہے ، انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے بعد شادی کا سیزن شروع ہونے والا ہے اور ہر سال سیزن سے چار پانچ ماہ پہلے ہی آرڈر آنا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اس سال شادیوں کے آرڈرز میں 70فیصد کمی دیکھنے کو ملی ہے اس کے علاوہ اگر کوئی آرڈر بھی دیتا ہے تو وہ صرف آدھے سیٹ کی تیاری پر اکتفا کرتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں