Daily Mashriq


بلا امتیاز احتساب و انصاف

بلا امتیاز احتساب و انصاف

جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتساب سب کا ہوگا، قومی خزانے کی پائی پائی وصول کروں گا، سفارش چلے گی نہ رشوت۔ جنہوں نے بھاری تنخواہوں پر تقرریاں کیں،ان سے بھی پیسے وصول کئے جائینگے‘سی ای او کو سرکاری ملازم کے برابر تنخواہ ملے گی، انصاف ملے گا میرے ہوتے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ پنجاب کی 56 کمپنیوں کوبھاری تنخواہیں اور اخراجات واپس کرنا ہوں گے۔چیف جسٹس آف پاکستان کی یقین دہانیوں پر عوام کو خوش امیدی کاشکار نہ ہونے کی کوئی وجہ تو نہیں لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ فی الوقت عدالتی فعالیت کا جس طرح بھرپور مظاہرہ ہو رہا ہے نگران دور اور بعد از انتخابات اس کا مظاہرہ جاری رہتا ہے یا نہیں بہر حال یہ ایک خدشہ اور ممکنہ صورتحال بارے بلا وجہ شکوک و شبہات کا اظہار تھا وگرنہ وطن عزیز میں جس طرح کے بدعنوان عناصر کے خلاف معاملات اب کھل رہے ہیں ایسا کم ہی ہوا ہے۔ چیئر مین نیب بھی فعال کردار نبھا رہے ہیں۔ اس ضمن میں عرض کرنے والی بات بہر حال یہ ہے کہ ایک ہی جماعت سے متعلق افراد کے گرد گھیرا تنگ ہونے سے احتساب اور انصاف کے عمل کے یکساں ہونے اورغیر متوازن نہ ہونے بارے ابہام جنم لیتے ہیں۔ بعض ایسے ریمارکس بھی سامنے آئے ہیں جن کو نا مناسب کہنے کی گنجائش ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں بلا امتیاز احتساب اور انصاف کی فراہمی ہی ملک کے مسائل میں کمی لانے کا باعث امر ہے۔ انصاف دینے کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود جو لوگ سڑکوں پر نکل کر انصاف کی دہائیاں دے رہے ہیں معاشرے کے ایک بڑے طبقے کا ان سے متاثر ہونا اور ان کی طرف متوجہ ہونا بھی فطری امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انصاف کا تقاضا اس امر کا متقاضی ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں اور تمام صوبائی محکموں کے معاملات کھنگالے جائیں اور ملک بھر میں یکبارگی اور بلا امتیاز انصاف کا تاثر دیا جائے۔ جو لوگ سڑکوں پر انصاف مانگنے نکلتے ہیں ان کو خاص طور پر مطمئن کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا نہ ہونے سے ان کے بیانیہ کو تقویت ملے گی اور جب اس قسم کے عناصر قوت پکڑ لیں تو پھر ہاتھ سے با آسانی کھلنے والے اس گرہ کو دانتوں سے کھولنے کی نوبت آئے گی۔ نقیب اللہ قتل کیس میں کراچی سے لے کر فاٹا تک کے پختونوں میں جو بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پھیلایا جا رہا ہے اس کا بروقت نوٹس لینے اور اس کے تدارک کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں شدت پسندی کی نئی شکل ابھر کر سامنے آنے کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ کراچی میں نقیب اللہ محسود کے قتل کے ملزمان کے حوالے سے گرینڈ جرگہ نے جو سات نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے وہ ایسے مشکل اور نا ممکن نکات نہیں جن کو پورا نہ کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نقیب اللہ شہید کے معاملے پربننے والے گرینڈ جرگہ نے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو 7مطالبات پیش کردیے ہیں۔ گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا کہ رائو انوار کے ساتھ ملزموں جیسا سلوک کیا جائے اور سندھ حکومت یا دیگر ادارے کیس پر اثر انداز ہونے کا سلسلہ فوری بند کریں اور کراچی گرینڈ جرگہ سے جو وعدے کیے گئے تھے اس پر فوری عمل کیا جائے ورنہ احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا۔مظاہرین نے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے‘ انہیں عدالتوں میں پیش کرنے اورپختونوں کی بلاجواز گرفتاریاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ شہریوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کرکے گرفتار افراد کا تھانے میں اندراج کرایا جائے۔ گرینڈ جرگہ نے ملیرمیں جعلی مقابلوں کی مکمل تحقیقات اورمتاثرین کی داد رسی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت اور دیگر ادارے نقیب کیس پر اثراندازہورہے ہیں یہ سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ضلع ملیر میں رائو انوار کے ساتھیوں کی دوبارہ تعیناتی بند کی جائے اور پہلے سے تعینات رائو انوار کے دست راست اہلکاروں کو بھی ہٹایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس نے جس طرح سانحہ ماڈل ٹائون کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا نوٹس لیا ہے نقیب اللہ محسود قتل کیس بھی اسی طرح ان کی توجہ کا متقاضی ہے۔جہاں تک منظور نظر افراد کو کھپانے اور نوازنے کا تعلق ہے یہ معمول کی بات ہے۔ ایسا صرف پنجاب اور وفاق کی سطح پر نہیں ہوتا بلکہ چاروں صوبائی حکومتیں اس میں برابر کی شریک ہیں۔ منظور نظر افراد کو نوازنے کے طریقے بھی یکساں اور مشترکہ ہیں۔ کمپنیاں بناکر نہ صرف اس کے سی ای اوز بلکہ مختلف سطح کے عمال سبھی کو قومی خزانے سے اس طرح سے نوازا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمین اور عوام منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اہم عہدے کے لئے ناموزوں افراد کی تقرری بھی کوئی راز کی بات نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اب اس کا نہ صرف راستہ روکا جائے گا بلکہ اس طرح کی تقرریوں پر ملک بھر میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی اور بے تحاشا مراعات اور تنخواہوں کی رقم وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں