Daily Mashriq


سڑکیں جلد سے جلدکھول دی جائیں

سڑکیں جلد سے جلدکھول دی جائیں

ہائی کورٹ کی جانب سے واضح احکامات کے باوجود بھی بی آر ٹی کی تعمیر کے دوران شہر کی سڑکوںسے اٹھنے والے گردوغبار کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ سڑکوں کے کنارے مٹی کے ڈھیروںکی صفائی کئے بغیر پانی کے چھڑکائو سے شہر میں مزید کیچڑ جمع ہو رہا ہے۔دن بھر شہر کی سڑکوں پرکیچڑ اور گردوغبار جمع ہورہا ہے محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق اس صورتحال کیو جہ سے شہریوں میں دمے اور سانس کی بیماریوںکے ساتھ ساتھ پیٹ اور گلے کے امراض بھی پھیل رہے ہیں اور نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر تین ہزار سے زائد افراد مذکورہ شکایات پر ہسپتالوں سے رجوع کررہے ہیں۔علاوہ ازیں سڑکوں کی طویل بندش اور ٹرانسپورٹ کی مشکلات سے عوام بیزار ہو چکے ہیں ۔ جبکہ ٹرانسپورٹروں نے کرایہ بھی بڑھا دیا ہے اور آدھے راستے میں ہی سواریاں اتارتے بھی ہیں۔ کسی بڑے منصوبے کی تعمیر کے مشکل کام کی خاطر قربانی تو دینی پڑتی ہے لیکن محولہ دونوں مسائل ایسے نہیں جو منصوبے کے تعمیراتی کام کی مجبوری کے زمرے میں آتے ہوں ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نہ صرف مقررہ وقت پر منصوبے کی تکمیل کے وعدے پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس منصوبے سے پیدا شدہ مسائل کے حل کے بجائے ہاتھ کھڑے کئے گئے ہیں جس کے باعث یہ نافع منصوبہ عوام کیلئے وبال جان بنتا جارہا ہے ۔ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے جتنا جلد ممکن ہو سکے سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور کشادگی کے کام کو مکمل کرکے ٹریفک بحال کی جائے تاکہ دھول اڑنے اور ٹرانسپورٹ کی مشکلات دونوں میں کمی آئے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس مسئلے کے حل کے حوالے سے مزید تساہل کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا ۔

زچہ بچہ کی صحت سہولتوں کو بڑھانے کی ضرورت

آئے روز اس طرح کے عوامی مسائل سامنے آتے ہیں جن کے حل پر مناسب توجہ نہ دینے کی شکایت عام ہے۔ اگر کسی ایک جگہ کے عوامی مسائل کے حل کی کوئی سعی سامنے آتی ہے تو درجنوں کی تعداد میں شکایات بھی ہورہی ہوتی ہیں ۔ ایری گیشن کالونی میٹرنل نیو برن اینڈ چائلڈ ہیلتھ ڈسپنسری کی تزئین و آرائش کے افتتاح سے جہاں سرکاری کالونی کے مکینوں کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی وہاں دوسری جانب محلہ جوگن شاہ میں قائم اسی طرح کے مرکز میں سہولیات کا فقدان اور عمارت کے مخدوش ہونے کے باعث حاملہ خواتین‘ ماں اور بچے کی نگہداشت کا ضروری عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ جس طرح ایری گیشن کالونی کے مرکز صحت کو بہتر بنایاگیاہے محلہ جوگن شاہ کے مرکز صحت کو بھی کرائے کی عمارت کی بجائے جگہ خرید کر عمارت تعمیر کی جائے۔حاملہ خواتین، ماں اور بچے کی نگہداشت کیلئے قائم ان سنٹروں کی تعداد بڑھانے پرتوجہ دی جانی چاہئے تاکہ خواتین کوان کے گھر کے قریب ہی علاج معالجہ اور نگہداشت کی سہولتیں دی جاسکیں ۔طبی سہولیات کی فراہمی سے نومولود بچوں اور دوران زچگی ہونے والی اموات پر بھی قابو پانے میں بھی مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی یہ بنیادی ترجیح رہی ہے کہ صوبے کے عوام کو صحت کی سہولتیں اُن کی دہلیز پر مہیاکی جائیں اس سطح پر صحت کی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے ہی سے ایسا کرنا ممکن ہوگا جس پر توجہ کی ضرورت ہے ۔

کونسلروں کی فنڈ ز سے محرومی کی شکایت

کوہاٹ کے علاقے شادی خیل کے ویلج کونسلر کی انصاف کیلئے مشرق کے دفتر آمد ان تمام کونسلروں کی نمائندگی کے زمرے میں آتا ہے جو فنڈ سے محروم رکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے جو صورتحال بیان کی اس کے مطابق گزشتہ ان کے حلقے میں دو مالی سالوں کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے53لاکھ روپے کا ترقیاتی فنڈ آیا ہے تاہم ان میں سے اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے بطو ر کونسلر جب بھی فنڈز کے استعمال کی درخواست دی سیکرٹری و ناظم جواب نہیں دیتے جبکہ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوہاٹ کی جانب سے بھی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔کم و بیش صوبہ بھر میں اسی طرح کی صورتحال ہے جس کے باعث کونسلروں میں بد دلی پھیلنا فطری امر ہے جبکہ ووٹر کونسلروں کو مشکلات کا ادراک نہیں وہ الٹا کونسلروں کو مطعون کرتے ہیں جس کے باعث بلدیاتی نمائندے دوہری مشکل سے دوچار ہیں۔ بلدیاتی اداروں کو اس طرح سے عضو معطل بنادینا بنیادی جمہوریت کے اداروں کو عضو معطل بنادینے کے مترادف ہے اور اس قسم کا عمل جو آمریت میں نہیں ہوتا جمہوری دور میں ہونا اور بھی معیوب ہے۔ صوبائی حکومت اور محکمہ بلدیات کو اس مسئلے پر اچھی طرح سے غور وفکر کر کے کونسلروں کو فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو اور ان کی شکایات کا ممکنہ حد تک ازالہ ممکن ہو ۔

متعلقہ خبریں