Daily Mashriq


آدھینی باتیں

آدھینی باتیں

کیا انتخابات قریب تر ہیں، جی ویسے تو قریب تر ہیں مگر ان کی قربت مشکوک سی ہے، اس بارے میں اب تک جتنی بھی آراء آچکی ہیں ان کو آدھینی ہی قرار دیا جاسکتا ہے، ویسے بھی پاکستان کے انتظامی معاملات کے بارے میں جتنی باتیں حکومت کی طرف سے ہوں تو قوم کو یقین نہیں ہو پاتا اب اسی کو دیکھ لیجئے گا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انتخابات وقت پر ہوں گے کوئی مان ہی نہیں رہا تھا مگر جیسے ہی چیف جسٹس صاحب کی طرف سے نوید آئی تو ہر کوئی پراُمید ہو گیا بلکہ پُریقین ہو گیا، ویسے اس سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بھی ایسا ہی کہا گیا تھا کہ انتخابات ہوں گے اور شفاف ہوں گے تبھی یقین ہو چلا تھا مگر جتنی مرتبہ حکومت وقت نے کہا تو ہر کوئی سنی ان سنی کر رہا تھا، ویسے ملک میں نئی نئی سیاسی جماعتوں کے کھمبیوں کی طرح اُگ جانے سے بھی اندازا ہو رہا ہے کہ اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ ہوکر رہے گا، ایسا ہی ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ خود مسلم لیگ ن بھی اسٹیبلشمنٹ کی جنم بھومی رکھتی ہے، جس کا انکشاف سن 2002سے 2008 تک پاکستان کی سیاسی شخصیت چودھری شجاعت حسین نے اپنی سیاست بیتی میں کیا ہے مگر ان سے یہ نسیان ہوا کہ وہ اپنی سیاسی بیتی ’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں مسلم لیگ ق کی جنم بھومی کا ذکر نہ کر پائے حالانکہ مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کی جنم بھومی ایک ہی ہے تاہم ذہنی اختلاف چھوٹی بڑی اولاد کی طرح بھرا ہوا ہے۔ مسلم لیگ ن جنرل ضیاء الحق کی نورچشم تھی تو مسلم لیگ ق ایک ایسے فوجی ڈکٹیٹر مشرف کی آنکھ کا تارہ رہی جو غداری کی سزا کے خوف سے فرار ہے آصف زرداری ان سب سیاستدانوں میں ذہین وفطین سیاستدان ہیں، انہوں نے بھٹو مرحوم کی برسی پر انقلابی شاعر حبیب جا لب کی نظم پڑھی، حبیب جالب نے بھٹو مرحوم کے دور میں ان کیخلاف بھرپور شاعری کی اور بھٹو کا دور حکومت جیل کی سلاخوں کے پیچھے کاٹا تھا، اگر اُس دور کی بھی نظم پڑھ دیتے تو کیا ہی بھلاہوتا، خیر ماضی کو ترک کریں تازہ پر بات ہو جائے۔ انہوں نے اس موقع پر جو تقریر کی اس میں ادعا کیا ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ سینیٹ نواز شریف کو لینے نہیں دیں گے ایسا انہوں نے کر دکھایا اور اب ان کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں بھی وہ حکومت بنائیں گے اس کا جواب نواز شریف نے تو کچھ نہ دیا البتہ عمران خان جنہوں نے سینیٹ کی سیڑھی چڑھنے میں مدد کی وہ خوب بولے بھی اور گرج بھی رہے ہیں۔ انہوں نے جواب آں غزل کے طور پر فرمایا ہے کہ وہ سب کو اگلے انتخابات میں پھینٹی لگا دیں گے جس پر قلقلا خان پوچھتے پھر رہے ہیں کہ نیازی صاحب وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوں گے یا داروغہ بنیں گے، پھینٹی لگانے کی تڑی دے کر شہباز شریف کو چھوٹا ڈان قرار دیتے ہیں، ساتھ ہی ان کا یہ کہنا ہے کہ زرداری نے سینیٹ میں مال لگایا لیکن پیسے سے وہ پنجاب فتح نہیں کر سکتے، منطقی طور پر تحریک انصاف کے سربراہ کی بات تو درست ہے کہ کہا جا تا ہے کہ سینیٹ کیلئے جو سرمایہ کاری ہوئی وہ اپنی جگہ لیکن اصل کام تو یقین کا ہے جو دلایا گیا اور عمل کرایا گیا۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آصف زرداری اور عمران خان دونوں اپنے اپنے یقین کے بوتے پر دعویٰ کر رہے ہیں۔ویسے سابق فوجی آمر کی اپنے دور کے پہلے انتخابات کی بھی ایک منصوبہ بندی تھی وہ یہ کہ وہ عالمی طاقتوں سے اس قدر مرعوب تھے کہ اقتدار کی خاطر ایک اسلامی ریاست جس کا وجود ہی دین کے فلسفہ پر قائم ہوا اس کو سیکولرازم کی نذر چڑھانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہو ئے تھے جس کے تحت ان کی تیاری یہ تھی کہ سندھ کو پی پی اور ایم کیو ایم کے حوالے کیا جا ئے حالانکہ ان میں سے کوئی جماعت نہ تو سیکولر اور نہ ہی قوم پرست ہے، پنجاب میں مسلم لیگ ق کیلئے دروازے کھولنے کا فیصلہ تھا، بلوچستان حسب سابق سرداروں کی منڈلی چڑھانا تھا کیونکہ ایسے سردار حکومت وقت کے انتہائی وفادار ہوتے ہیں، کے پی کے کو مذہبی رنگ دینا تھا تاکہ دینی قوتوں کو مطمئن رکھا جا سکے۔ یہ منصوبہ بندی کسی حد تک کامیاب رہی مگر پنجاب میں چوٹ پڑ گئی کیونکہ 2013ء کے انتخابات میں پنجاب میں مسلم لیگ ق تو نہ اُبھر سکی البتہ مسلم لیگ ن آگئی۔ اب ذرائع کہہ رہے ہیں کہ اس مرتبہ سندھ کے شہری علاقوں سے پی ٹی آئی کو یقین دہانی ہے کہ قومی اسمبلی کی نشستیں ان کی جھولی میں آگریں گی۔ صوبائی ایم کیو ایم کیلئے ہوں گی مگر کون سی ایم کیو ایم، اس وقت تین ایم کیو ایم ہیں جبکہ ایک کا نام بدلا ہوا ہے مگر جس طرح سے اس کی لیڈرشپ میں اضافہ ہو رہا ہے تو دھیان اسی طرف کا رخ کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دو رُخ ہیں، ایک طرف وہ سیکولر جماعت کا عکس سنبھالے ہوئے ہے تو دوسری جانب وہ سندھی قومیت کے روپ میںسانسیں لے رہی ہے۔ یہ دورنگی اس کے کام نہیںآرہی ہے، اسلئے پنجاب کے بارے میں اس کا ادعا محض ادعا ہی ہے۔ جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کس نظریئے کی جما عت ہے۔ جس انداز میں عمران خان ڈائیلاگ مارتے ہیں اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی صرف اور صرف داروغہ بننے کی جدوجہد ہے لیکن نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ان کے جلسوں اور جلوسوں میں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ نہیں یہ پارٹی مغرب زدہ تہذیب سے متاثر ہے اور لادینیت کی پرچارک ہے مگر سیاست سے ہٹ کر عمران خان کی سرگرمیوں پر نظر پڑتی ہے تو وہ باقاعدگی سے مزارات کا طواف کرتے ہیں، دینی مدارس کو اس دور میں کروڑوں کی امداد سرکاری خزانے سے کرتے ہیں جبکہ موجود حالات میں دینی مناد کہلانے سے بڑی بڑی شخصیات بھی گھبراتی ہیں جبکہ آئمہ مساجد کو معقول تنخواہ کی مد میںادائیگی کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ پھر یہ سوچ پڑتی ہے کہ وہ نہ تو لادینی ہیں نہ قوم پرست ہیں، نہ مولوی ہیں نہ روحانی شخصیت ہیں، پھر کیا ہے؟ یہ فیصلہ عوام کو ہی کرنا ہے۔ کوئی ایک بندہ بشر نہیںکر سکتا۔ یہ سیاسی چمتکاری ہے جن کو بوجھا نہیںجا سکتا۔

متعلقہ خبریں