Daily Mashriq


جی ٹی روڈ کی فریاد

جی ٹی روڈ کی فریاد

نوشہرہ کے قریب واقع ایک فلاحی ادارے کے ساتھ دس سالہ وابستگی کی وجہ سے میں نے اسلام آباد سے نوشہرہ کے درمیان بہت سفر کیا۔اسلام آباد سے برہان انٹر چینج تک موٹر وے اور پھر جی ٹی روڈسے نوشہرہ تک کے سفر میں جو چیز مجھے مسلسل پریشان کرتی رہی اس کا تعلق ان دو شاہرات پر رواں دواں ٹریفک سے ہے جو نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔راولپنڈی سے براستہ جی ٹی روڈ پشاور جائیں یا موٹر وے سے ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور اس کی وجہ دہشت گردی کے خلاف وہ جنگ ہے جو پندرہ سال پوری شدت سے جاری رہی اور اب بھی کسی حد تک جاری ہے۔اس جنگ کی وجہ سے پنجاب اور پختونخوا کے درمیان تجارت بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ پنجاب کی تاجر برادری اس خوف کا شکار رہی کہ کہیں دوران سفر طالبان پنجابی تاجروں کو اغوا نہ کر لیں۔جان کو لاحق خطرات کی وجہ سے بھی پنجابی تاجروں کی آمدورفت میں خاصی کمی ہوئی اور یوں پختونخوا کے لوگوں کا کاروبار بھی متاثر ہوا لیکن تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس تجارتی اور مالی نقصان کا حکومتی سطح پر نوٹس لیا گیا اور نہ ہی پنجاب اورپختونخوا کے درمیان ازسر نو تجارتی سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کی کوئی سنجیدہ حکومتی کوشش سامنے آئی۔درحقیقت یہ مرکزی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ دونوں صوبوں کے درمیان تجارتی ،سماجی اور ثقافتی روابط قائم کرنے کے لئے اقدامات کرتی لیکن شاید اس صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت ہونے کی وجہ سے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا گیا حالانکہ یہ وہ صوبہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ۔یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ باقی تین صوبوں نے مجموعی طور پر جو نقصان اٹھایا اس سے زیادہ نقصان اکیلے پختونخوا نے برداشت کیا۔اس صوبے کے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے،قیمتی جانیں ضائع ہوئیں،املاک کی تباہی ہوئی لیکن اس کے باوجود اس صوبے کے غیور لوگوں نے کسی کی مدد کے بغیر ایک نئی زندگی کا آغاز کیا لیکن اس ضمن میں ریاست نے ایک بار پھر اپنی روایتی غفلت کا مظاہرہ کیا اور لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ بہت ضروری تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جن لوگوں نے بدترین جانی اور مالی نقصان اٹھایا ان کے نقصان کی تلافی کی جاتی اور اس صوبے کے لوگوں کو ٹیکسوں میں رعایت سمیت ایسی مراعات دی جاتیں جن سے ان کے نقصان کا ازالہ ہو سکتا۔زبانی جمع خرچ تو بہت کیا گیا لیکن عملی میدان میں ان کی قربانیوں کا بہت کم اعتراف سامنے آیا۔یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ کسی بھی دوسرے صوبے کے عوام اور پولیس نے اس قدر قربانیاں دی ہوتیں اور عملی طور پر ان قربانیوں کا اعتراف نہ کیا جاتا تو وہ آسمان سر پر اٹھا لیتے۔یہاں کے لوگ اپنی قیمتی شہری جائیدادیں اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہوئے۔پختونخوا کے شہروں کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹوں کی وجہ سے دیگر صوبوں کے لوگوں نے اس صوبے کے باسیوں کی گاڑیاں اونے پونے داموں خریدیں۔اسلام آباد،لاہور اور کراچی میں اس صوبے کی گاڑیوں کو بیدردی سے چیک کیا جاتا، گاڑی مالکان کی تضحیک کی جاتی،انہیں گھنٹوں چیک پوسٹوں پر انتظار کی سولی پہ لٹکایا جاتا اس کے باوجود وہ صبر کا مظاہرہ کرتے۔داڑھی والے پختونوں کو شکل دیکھتے ہی گاڑیوں سے اتارا جاتا اور ان کے ساتھ مجرموں والا سلوک کیا جاتا لیکن وہ صبر کرتے۔پگڑی اور پشاوری ٹوپی کو بھی اس صوبے کے باسیوں کے لئے اذیت بنایا گیا لیکن پختونخوا کے لوگوں نے یہ ذلت بھی برداشت کی۔اس صوبے کے لوگوں کو پندرہ سال تک شک کی نظر سے دیکھا گیا،پنجاب میں ان لوگوں کے لئے مزدوری کرنا مشکل ہو گیا لیکن جب یہ اعلان کیا گیا کہ ہم نے جنگ جیت لی اور ملک کو دہشت گردی سے پاک کر دیا گیا توڈیڑھ عشرے تک مسلسل قربانیاں دینے والے پختونوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔

پنجاب والوں کو اس صوبے کی قربانیوں کا بطور خاص اعتراف کر کے پختونخوا کے رہنے والوں اور اس صوبے کی پولیس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا کہ انہوں نے بہت سی دہشت گردی کی ایسی وارداتوں کو اپنی جانوں کی قربانی دے کر روکا جن کا ہدف پنجاب تھا۔اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اپنے پنجابی بھائیوں،بہنوں،بچوں اور بزرگوں کو بچایا جو دہشت گردوں کا ٹارگٹ تھے۔یہ صوبہ طویل عرصے تک پنجاب اور دہشت گروں کے درمیان دیوار بنا رہا لیکن وائے افسوس کہ پنجاب والوں نے کھلے دل سے ان قربانیوں کا شکریہ ادا کرنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی فاٹا والوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے بہا قربانیاں ہیں اس لئے قبائلی عوام کے ساتھ بھی بھرپور عملی یکجہتی کی ضرورت ہے۔اس خطے کے نوجوانوں کے لئے ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے کہ جن سے فائدہ اٹھا کر قبائلی نوجوان ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکیں۔ جی ٹی روڈ اور موٹر وے پر سفر کرتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ دو اہم شاہراہیں فریاد کر رہی ہوں۔ان شاہراہوں کی رونق بحال ہونی چاہئے لیکن یہ تبھی ممکن ہے کہ جب پنجاب کی کاروباری برادری پختونخوا کے ساتھ تجارت میں اضافہ کرے اور اس بات کا احساس کرے کہ پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت صدمے سہے ہیں اور اس صوبے کے زخموںپر مرہم رکھنا ہم پنجاب والوں کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں