Daily Mashriq


مدینہ طیبہ کی فلاحی ریاست

مدینہ طیبہ کی فلاحی ریاست

پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ اکثر جلسہ سے خطاب میں فرماتے کہ ہمیں اقتدار ملے تو پاکستان کو مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنائیں گے ۔ یہ سُن کر خوشی تو بہت ہوتی ہے کہ چلو پاکستان کے سیاستدانوں میں کوئی تو ہے جس کے دل میں کم از کم یہ خواہش تو موجود ہے کہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنایا جائے۔ اگر چہ اس طرح کرنا جان جو کھوں کا کام ہے بلکہ آج کے ملکی اور عالمی حالات کے پیش نظر پاکستان کو مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنانا ’’خیال است و محال است وجنوں ‘‘ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اگر چہ پاکستان کا قیام اس مقصد کے لئے ہوا تھا کہ یہاں ایک بہترین اسلامی فلاحی ریاست ہوگی جس میں وطن عزیز کے ہر باشندے کی جان مال آبرو کی حفاظت کے ساتھ اُسے بنیادی حقوق بھی حاصل ہوں گے ۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصاویر و تحاریر میںیہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ پاکستان کی طرز حکومت کس نوعیت کی ہوگی ۔ اس میں کوئی دوسری بات ہو ہی نہیں سکتی کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک اور صرف ایک ہی تھا ۔۔اسلامی فلاحی ریاست‘‘بالکل مدینہ طیبہ کے طرز پر ۔ ۔اور یہ مشیت الہٰی قابل غور ہے کہ ’’مدینہ طیبہ ‘‘ کا فارسی اور اردو میں ترجمہ ’’پاک ستان ‘‘(پاک ریاست) اور پاکستان کا عربی میں ترجمہ ’’مدینہ طیبہ‘‘ ہے ۔ لیکن کتنی بڑی ستم ظریفی اور اندوہناک المیہ ہے کہ ستر برس میں مدینہ طیبہ کی طرح فلاحی ریاست تو ایک طرف ، ہم سے تو یہ بھی نہ ہو سکا کہ پاکستان جیسے عظیم ملک کو سنبھال کر رکھتے ۔ ہم نے تو چوبیس سال کے اندر اندر اس کے دو ٹکڑے کر ڈالے ۔ اور باقی ماندہ پاکستان کو سیاستدانوں نے جس حال پر پہنچا یا ہے ، وہ سب کے سامنے ہے ۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں یہ رونا روتی رہی ہیں کہ سیاستدانوں کی آپس کی کدورتوں اور تعصبات واختلافات کے سبب ملک ایسے حالات کا شکار ہوتا رہا ہے کہ ہمیں ملک کی سلامتی کے لالے پڑ نے لگتے ہیں ۔ اب اس حوالے سے ہم عوام تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر درست ہی کہہ رہے ہیں ۔ اور سچ پوچھو تو یہ وہی بحث ہے کہ مرغی پہلے کہ انڈہ ۔۔یعنی وطن عزیز میں غلطی اور خطا کرنے کی ابتداء سیاستدان نے کی کہ مارشل لاء والوں نے ؟ یہ بحث بھی لاحاصل ہی ہے کہ دونوں طرف بڑے مضبوط دلائل ہیں ۔ لیکن اگر یہ بات کی جائے کہ سیاستدانوں کو جتنا بھی عرصہ اقتدار ملا ہے اُس میں انہوںنے آپس میں جو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی ہیں ، اس نے ان کو اس قابل چھوڑ ا ہی نہیں ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتیں اور جب ایک کی حکومت آتی ہے تو دوسروں کو دوتین برس کے اندر ہی اُن کو دور کرنے کی کھجلی ہونے لگتی ہے ۔ ہماری سیاسی جماعتوں کا ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس تربیت یافتہ ورکروں کی بڑی کمی ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے ہاں حکومت کے دوران ماہرین کی بڑی قلت ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے ہاں ورکروں کی تربیت کے لئے کوئی انتظام سرے سے موجود ہی نہیں ۔ خاندانی اور موروثی سیاسی جماعتوں کے ورکروں کو معلوم ہے کہ سربراہ جماعت کی خوشامد اور مبالغہ کی حد تک تعریف و توصیف اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادارہونے کے سبب ہی پارٹی میں اچھی جگہ بن سکتی ہے ۔ اورسیاسی جماعتوں کے اکابرین بھی یہی چاہتے ہیں ۔ ورکروں کی تربیت کے لئے کوئی ماہانہ ، سہ ماہی یا ششماہی بنیادوں پر کوئی تربیتی ورکشاپ ،سمینار ، کانفرنس یا اس قسم کا کوئی انتظام موجود نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے کسی بڑے کی برسی یا سالگرہ پر کیک کاٹنے یا کھانے کے دوران پارٹی کارکنان کے درمیان جو چھینا جھپٹی نظر آتی ہے اور اکثر ایک دوسرے کے ساتھ جس انداز میں گتھم گتھا ہوتے ہیں کیا ایسے لوگوں سے یہ توقع بھی وابستہ کی جاسکتی ہے کہ اقتدار میں آکر یہ مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنا سکیں گے ۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چھوڑیئے یہ بہت دور کی بات ہے ۔ آ پ لوگ صرف اتنا کیجئے کہ پاکستان کے عوام کواُن کے بنیادی حقوق دلادیجئے ۔ عوام کے کندھوں سے اُتر کر اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر زندگی گزاریں ۔ مدینہ طیبہ کی فلاحی ریاست کے بانی خاتم النبیین ؐ اور آپ ؐ کے خلفائے راشدین کی سیرت پاک اور حیات مبارکہ کا مطالعہ کیجئے اور کچھ سیکھ کر اپنے آپ کو عوام کے ساتھ اُسی طرح ملا کر دیکھیں جس طرح خلفائے راشدین عام لوگوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے ۔ تب مدینہ طیبہ میں فلاحی ریاست بنی تھی ۔ فلاحی ریاست بنانے کے لئے قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے والی نرم دیر گفتگو اور گرم دم جستجو شخصیات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نفس اور پیٹ پر پتھر باندھنے ، تحمل و برداشت کرنے اور فراستمو منانہ کی ضرورت ہوتی ہے ، صرف زبانی طور پر بات کرنے سے فلاحی ریاستیں نہیں بنتیں ۔ اس کے لئے مکہ مکرمہ کی طرز پر تیرہ بر س تک کارکنوں کی جامع تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور جب کارکنوں میں یقین محکم ، عمل پیہم اور محبت فاتح علم کی صفات راسخ ہو جاتی ہیں تب مدینہ طیبہ کی طرح ریاست و جود میں آتی ہے ۔ پاکستان اسی لئے قائم ہوا تھا ۔ لیکن ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ہاتھوں ۔۔۔اے بساآرزو کہ خاک شد

لیکن دنیا امید پر قائم ہے ۔

متعلقہ خبریں