Daily Mashriq


چوہدری نثارکا المیہ

چوہدری نثارکا المیہ

سیاست کی لہروں کے زیر و بم سمجھتے دو دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ ہمارے ملک کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بڑ اتغیر ہے ۔یہاں وہ کام بھی ہو جاتے ہیں جن کے بارے میں کچھ عرصہ قبل ہی ہم نے سوچا ہوتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ اس وقت میاں صاحبان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے کس نے سوچا تھا کہ ایسا ہو جائے گا ۔ یا ایسا ہو بھی سکتا ہے ، لیکن کچھ باتیں مکافات عمل کے زمرے میں آتی ہیں اور کچھ غرور کی سزا سمجھی جاسکتی ہیں ۔ بادشاہوں کے مزاج رکھنے والے سیاست دانوں کا انجام بھی اکثر بادشاہوں کے زوال جیسا ہی ہوتا ہے ۔ ترکی میں Hagia sophiaبنانے والے بادشاہ نے بڑے تکبر سے کہا تھا کہ اس نے حضرت سلیمان ؑ کے دیو ہیکل سلیمانی سے بڑی عمارت بناڈالی ہے ۔ پھر وہ کلیسا مسجد میں بدلا اور اب سیاحوں کی حیرت کا سامان ہے ۔ عمارت وہیں موجود ہے اور بازنطین کے ساتھ اس بادشاہ کا نام بھی لوگ نہیں جانتے ، چند گائیڈ ہیں جو بڑی مشکل سے ان کانام پکارتے ہیں اور حضرت سلیمان کانام آج بھی دنیا میں ہر ایک کی زبان پر ہے ۔

تکبر بڑی عجب شے ہے اسکی آگ خود تھامنے والے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ سب اسے خود دکھائی نہیںدیتا ۔ شریف برادران کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے ۔ اور بات صرف اسی حد تک محدود نہیں ۔ ان کے اردگرد کتنے ہی لوگ ایسے جنہوں نے مرکزنگاہ ہونے سے بہت حظ اٹھا یا ہے ۔ چوہدری نثار انہی لوگوں میں سے ایک تھے ۔ جب میاں نواز شریف ، اپنی غیر موجودگی میں جناب جاوید ہاشمی کے حد سے زیادہ بڑھ جانے والے قد سے خوفزدہ ہو کر انکی تذلیل میں کوئی کسر نہ اٹھا رہے تھے اس وقت چوہدری نثار جیسے اور کتنے ہی پرانے ساتھی خاموشی سے یہ سب دیکھ رہے تھے ۔ آج چوہدری نثار اسی الم کا شکار ہیں ۔ پہلے ایک اصولی مئوقف کا ہاتھ تھامے جاوید ہاشمی اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے مرکزی حلقے سے علیحدہ ہوگئے تھے اور اب ایسی ہی کیفیت چوہدری نثار کی ہے۔ وہ میاں صاحبان کی بادشاہت کو اب پسند نہیں کر رہے کیونکہ اب ان کی بادشاہت کی خواہش اور اپنے وارثان کو اقتدار کی منتقلی کی جستجو براہ راست چوہدری نثار کو متاثر کر رہی تھی۔اسی لئے چوہدری صاحب نے علم بغاوت بلند کردیا اور اب ان کے اور عمران خان کی ملاقات کے حوالے سے سر گوشیاں فضائوں میں سنی جا سکتی ہیں۔ چوہدری نثار کی عمران خان سے دوستی تو سکول کے زمانے سے ہے لیکن اس دوستی نے کبھی دونوں کی سیاسی ترجیحات پر کسی قسم کا اثر نہیں ڈالا۔ اب مسلسل چوہدری نثار کے پی ٹی آئی میں شمولیت کی افواہیں تو گردش کر رہی ہیں جس کی تردید کبھی پی ٹی آئی کی جانب سے ہوتی ہے اور کبھی چوہدری نثار کے قریبی حلقوں کی جانب سے لیکن ملک میں سیاست کے تموج نے لوگوں میں‘ سیاسی تجزیہ نگاروں میں اس خدشے کو جنم دینا شروع کردیا ہے کہ چوہدری نثار اپنے حلقہ احباب سمیت اپنا وزن کسی بھی وقت پی ٹی آئی کے پلڑے میں ڈال سکتے ہیں۔ رمیش کمار نے بھی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ایسے ہی تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ چوہدری نثار کسی کمزور لمحے کے زیر اثر ایسا کچھ سوچ بھی رہے ہیں لیکن میرا تجزیہ کہتا ہے کہ اس وقت‘ ان کی سیاسی عمر کے اس حصے میں یہ تبدیلی ان کے لئے بہت مثبت ثابت ہونے والی نہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ اس ہجرت سے ان کا سیاسی کیرئیر بالکل اسی طرح تباہ ہو جائے جس طرح مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کا ہوگیا۔ میں نہ تو میاں اور مسلم لیگ (ن) سے کوئی محبت رکھتی ہوں ‘ نہ ہی تحریک انصاف سے کسی قسم کا ذاتی اختلاف ہے۔ بطور سیاسی تجزیہ نگار یہ میری رائے ہے کہ جب کوئی سیاستدان ایک سیاسی جماعت سے اتنی دیر تک تعلق استوار رکھتا ہے تو وہ سیاسی جماعت اس کی پہچان‘ اس کی شخصیت کا جزو لا ینفک بن چکی ہوتی ہے۔ خاص طور پر اگر کوئی سیاستدان اچھے قد کاٹھ کا حامل ہو‘ سیاست میں اپنا ایک وزن رکھتا ہو‘ تب اس پہچان سے جان چھڑانا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ چوہدری نثار میاں صاحبان سے ناراض سہی لیکن مسلم لیگ (ن) میں ان کی اپنی ایک حیثیت ‘ اپنا ایک وزن ہے۔ دوسری جانب جناب عمران خان کی اپنی ایک شخصیت اپنی ایک طبیعت ہے۔ وہ اپنے ارد گرد سیاسی نو آموز یا بونے تو برداشت کرسکتے ہیں لیکن کسی ایسے سیاستدان کو برداشت کرنا جس کا اپنا ایک نقطہ نگاہ ہو اپنے اصول و ضوابط ہوں۔ عمران خان کے لئے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ انہیں اپنی ہی کہنے سننے اور منوانے کی عادت ہے۔ جناب مخدوم جاوید ہاشمی کا معاملہ ہم دیکھ چکے ہیں اور میں نہیں سمجھتی کہ چوہدری نثار کی نظر سے یہ باتیں پوشیدہ ہوں گی۔ وہ ایک جہاندیدہ سیاستدان ہیں اور طبیعت کے یہ پیچ و خم وہ بخوبی سمجھتے ہوںگے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بہر حال ایک عہدہ یا حیثیت انسان کے عمل اور کردار پر اثر انداز تو ہوتی ہے۔ چوہدری نثار ہوسکتا ہے کہ شریف برادران سے بہت ناراض ہوں لیکن یہ تبدیلی بھی ان کے لئے بظاہر سود مند نظر نہیں آتی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ڈیل کے بہت ماہر ہوں اور اچھی ڈیل کرسکیں لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ وہ اصولوں کے آدمی ہیں اور اصول پسند شخص بہت اچھیسودے بازی سیاسی میدان میں نہیں کرسکتا۔ یہی ان کاالمیہ ہے۔

متعلقہ خبریں