Daily Mashriq


مشر قیا ت

مشر قیا ت

شمس الائمہ سرخسی ؒ کااسم گرامی علم کی دنیا کا ایک درخشاں ستارہ ہے ۔ یہ پانچویں صدی ہجری کے بزرگ ہیں ۔ 400ہجری میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام محمد بن حماد تھا ۔ بڑے ہو کر امام سرخسی ؒ کے نام سے مشہور ہوئے ۔

علم کی دنیا میں ان کی تالیف ’’المبسوط ‘‘ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ۔ یہ چار پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل کتاب کس طرح وجود میں آئی ، اس کا واقعہ بھی عجیب ہے ۔ یہ بڑے حق گو اور انصاف پسند بزرگ تھے ۔ کلمہ حق کہنے میں کسی کی پروا نہیں کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ بادشاہ وقت کو اس کے بعض نقائص پر آگاہ کیا اور فرمایا : ’’اے لوگوں کے حاکم ! آپ کی ہمدردی میں کہتا ہوں کہ حکومت کے رعب اور طاقت یا ادب کی وجہ سے رعایا خاموش تو ہو جاتی ہے ، مگر اطاعت گزار نہیں ہوتی ۔ ان کے جسموں پر حکومت ہوتی ہے ، مگر ان کے دلوں پر حکومت نہیں ہوتی ۔ رعایا کے دلوں کو صرف ایک ہی طریقے سے جیتا جا سکتا ہے کہ ان کی سختیاں دور کی جائیں ۔ ان کی فریاد سن کر ان کو انصاف دیا جائے اور ان کی ہر طرح دلداری کی جائے‘‘ ۔ اکثر بادشاہ حکومت اور طاقت کے نشے میں چور ہوتے ہیں ۔ ایسی آزادانہ گفتگو سننے کے عادی نہیں ہوتے ۔ بادشاہ امام سرخسی ؒ اس بے باکانہ نصیحت پر بجائے شکر گزار ہونے کے بہت غضب ناک ہوا اور ان کو اس حق گوئی کے جرم میں قید کر دیا ۔ یہ قید خانہ کیسا تھا ؟ یہ مقام ’’روز خبد ‘‘ کا ایک پرانا کنواں تھا ۔

پڑھنے پڑھانے والے اور علمی مشغلہ رکھنے والوں کیلئے یہ قید تنہائی کیسا عذاب ہوتی ہے ۔ خدا تعالیٰ کسی کو نہ دکھائے ۔ آپ ؒ کے بہت سے شاگرد تھے ۔ وہ اپنے استاد محترم کے چشمہ علم سے سیراب ہوتے تھے ۔ ان کی طلب علم بھی سچی تھی ۔ وہ اس کنویں تک کسی نہ کسی طرح جا پہنچے اور آخر وہ کنواں ایک درس گاہ میں بدل گیا ۔ وہ روازانہ کنویں پر آتے اور آپ سے سبق پڑھتے ۔ علم کی لگن ہو اور نیت درست ہو تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد آتی ہے ۔ آخر استاد اور شاگردوں کی محنت رنگ لائی اور المبسوط جیسی ضخیم کتب و جود میں آگئی اور امت کو علم کا یہ عظیم ذخیرہ ایک ویران کنویں سے حاصل ہوا ۔

حالات بدلے اور آخر امام سرخسی ؒ پر مشقت قید سے رہا ہوئے ۔ وہ وہاں سے روانہ ہو کر فرغانہ پہنچے ۔ امیر فرغانہ نے بڑے اعزاز و کرام کے ساتھ استقبال کیا ۔ شاگرد بھی اپنے استاد کے دیوانے اور علم کے پروانے تھے ۔ وہ بھی ان کے ساتھ آگئے اور وہاں بھی فقہ و حدیث کا درس جاری ہوگیا ۔

حق گوئی اور راست بازی نڈر اور دلیر لوگوں کی اوصاف ہیںاور بلند کردار کا پتہ دیتی ہیں۔ حق گوئی ہے تو مشکل راستہ مگر جو اس پر گامزن ہوتا ہے وہ دنیاوی مصائب ومشکلات سے بے پرواہ ہوتا ہے کیونکہ اس دنیا کے مصائب و تکالیف عارضی ہیں ۔

(حوالہ بالا ، ص 73از ناقابل فراموش واقعات)

متعلقہ خبریں